رام گوپال گھوش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رام گوپال گھوش
(بنگالی میں: রামগোপাল ঘোষ خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
رام گوپال گھوش
رام گوپال گھوش

معلومات شخصیت
پیدائش 1815
کولکاتا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 15 جنوری 1868
کولکاتا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
قومیت ہندوستانی
نسل بنگالی ہندو
مذہب ہندو مت
عملی زندگی
مادر علمی کلکتہ یونیورسٹی
پریزیڈنسی یونیورسٹی، کولکاتا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ تجارت

رام گوپال گھوش (بنگالی: রামগোপাল ঘোষ) ‏(1815ء – 1868ء) ایک ہندوستانی تاجر، سماجی مصلح، مقرر اور ینگ بنگال کے رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ انہیں ہندوستان کا ڈیموس تھینز کہا جاتا تھا۔[1][2] نیز گھوش ان افراد میں سے تھے جنہوں نے نسواں اسکول قائم کرنے میں جان ایلیٹ ڈرنک واٹر بیتھون کی مدد کی تھی۔[3]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

رام گوپال گھوش کا آبائی وطن ہوگلی ضلع میں واقع بگاتی ہے۔ ان کے والد گووند چندر گھوش کی کلکتہ کے چائنا بازار میں چھوٹی سی دکان تھی۔ ان کے نانا دیوان رام پرساد سنگھ کلکتہ میں کنگ ہیملٹن اینڈ کمپنی کے دفتر میں کام کیا کرتے تھے۔ گھوش اپنے نانیہال ہی میں پیدا ہوئے۔[4]

ان کی ابتدائی تعلیم کے متعلق دو مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ پہلی رائے یہ ہے کہ ابتدا میں ان کا داخلہ شیربرن اسکول میں ہوا جہاں انہوں نے انگریزی سیکھنی شروع کر دی تھی۔ اسی اثنا میں ہندو کالج کے ایک طالب علم ہرا چندر گھوش جو بعد میں ینگ بنگال کے رہنما بنے، ان کی شادی رام گوپال کی کسی عزیزہ سے ہوئی۔ جب ہرا چندر نے نوخیز رام گوپال کی دلچسپی دیکھی تو انہیں ہندو کالج میں داخلہ دلانے کی کوشش کی۔ رام گوپال کے والد کے پاس ہندو کالج کے اخراجات کے لیے پیسے نہیں تھے۔ کنگ ہیملٹن اینڈ کمپنی کے مسٹر راجرز ان کی فیس ادا کرنے کے لیے راضی ہو گئے اور یوں ہندو کالج میں ان کا داخلہ ہو گیا۔[4]

جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ مسٹر راجرز نے انہیں شروع ہی میں ہندو کالج میں داخل کر دیا تھا۔[4]

گھوش کا یہ سلسلہ زیادہ دنوں تک جاری نہ رہا۔ ان کی ذہانت نے ڈیوڈ ہیئر کو ان کی جانب متوجہ کر دیا اور جلد ہی ان کی فیسیں معاف کر دی گئیں۔ اس دوران میں وہ ڈیروزیو کے درس میں شریک ہوئے اور جلد ہی رام تنو لاہری اور دیگر ڈیروزی پسندوں کے حلقے میں شامل ہو گئے۔ رام گوپال کی محنت اور لگن نے دیروزیو کی توجہ ان کی جانب مبذول کی اور وہ انہیں خارجی اوقات میں انگریزی فلسفہ اور شاعری پڑھانے لگے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Sengupta, Subodh Chandra and Bose, Anjali (editors), 1976/1998, Sansad Bangali Charitabhidhan (Biographical dictionary) Vol I, (بنگالی زبان میں), pp 480–481, ISBN 81-85626-65-0
  2. Sengupta, Nitish, 2001/2002, History of the Bengali-speaking People, p 228, UBS Publishers' Distributors Pvt. Ltd., ISBN 81-7476-355-4
  3. Acharya, Poromesh, Education in Old Calcutta in Calcutta, the Living City, Vol I, edited by Sukanta Chaudhuri, pp 87, Oxford University Press, ISBN 0-19-563696-1.
  4. ^ ا ب پ ت Sastri, Sivanath, Ramtanu Lahiri O Tatkalin Bangasamaj, (بنگالی زبان میں)1903/2001, p 76-80, New Age Publishers Pvt. Ltd.