گور گووند رائے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گور گووند رائے
(بنگالی میں: গৌরগোবিন্দ রায় خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش 1841
وفات 1912
کولکاتا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مذہبی مصلح
مادری زبان بنگلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان بنگلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

گور گووند رائے اپادھیائے (1841ء – 1912ء) ہندو مت کے عالم و محقق اور برہمو سماج کے مبلغ تھے۔ انہوں نے برہمو سماج کے رسالہ "دھم تتو" کی چالیس برس ادارت کی اور متفرق ادیان و مذاہب کی مذہبی کتابوں کے منتخب اقتباسات یکجا کرنے میں انہوں نے کیشب چندر سین کی مدد کی۔ اقتباسات کا یہ مجموعہ "شلوک سنگرہ" کے نام سے شائع ہوا۔[1]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

گور گووند کے والد کا نام گور موہن رائے تھا۔ ان کی پرورش چچا کے ہاتھوں ہوئی۔ گور گووند کی ابتدائی تعلیم رنگ پور ہائی اسکول میں ہوئی، ساتھ ہی انہوں نے سنسکرت اور فارسی زبانیں بھی سیکھیں اور کچھ عرصہ ایک مسلمان درویش سے درس بھی لیا۔[2] 1863ء سے 1866ء تک وہ پولیس میں سب انسپکٹر رہے۔ پچیس برس کی عمر میں انہوں نے ملازمت ترک کردی اور کیشب چندر سین کے ساتھ ہو گئے اور جلد ہی برہمو سماج کے مبلغ بن گئے۔[2]

محقق ہندو مت[ترمیم]

سنہ 1869ء میں کیشب چندر سین نے انہیں ہندو مت کی تحقیق پر مامور کیا۔ اس کے بعد برسوں وہ ہندومت کا مطالعہ اور اپنے مطالعے کا نچوڑ کتابوں اور مضامین کی شکل میں شائع کرتے رہے۔ ہندومت پر ان کی وسیع و عمیق معلومات کی بنا پر کیشب چندر سین نے انہیں "اپادھیائے" کے خطاب سے نوازا۔[3]

ذاتی خصوصیات[ترمیم]

ایک عظیم محقق کی حیثیت سے گور گووند نے پوری زندگی زہد و قناعت کے ساتھ بسر کی اور اپنا سارا وقت مطالعہ کے لیے وقف کر دیا۔ ان کی دنیوی ضرورتوں کی کفالت پرچار آشرم کے صدر کانتی چندر متر نے اپنے ذمہ لے لی تھی، چنانچہ انہوں نے ہی گور گووند کے دونوں بچوں کو تعلیم دلوائی۔ پرچار آشرم پاتوٹولہ، کلکتہ میں واقع برہمو سماج کا ایک چھوٹا سا ادارہ تھا جس کا مقصد مبلغین اور ان کے اہل و عیال کی نگہداشت اور پڑوس کی عمارت میں قیام پزیر طلبہ اور چھاپہ خانے کی دیکھ بھال تھا۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Kopf, David, The Brahmo Samaj and the Shaping of the Modern Indian Mind, 1979, pp. 235-6, Princeton University Press, ISBN 0-691-03125-8
  2. ^ ا ب Sengupta, Subodh Chandra and Bose, Anjali (editors), 1976/1998, Sansad Bangali Charitabhidhan (Biographical dictionary) Vol I, (بنگالی زبان میں), p. 146, ISBN 81-85626-65-0
  3. Sastri, Sivanath, History of the Brahmo Samaj, 1911-12/1993, p. 208, Sadharan Brahmo Samaj.
  4. Niyogi, Niranjan, Smritir Gourab Smritir Sourav (The scent of glorious memories), 1969, (بنگالی زبان میں), pp. 104-111.