ہنری لوئی ویوین ڈیروزیو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ہنری لوئی ویوین ڈیروزیو
Kolkata Derozio statue.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 18 اپریل 1809[1][2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کولکاتا  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 26 دسمبر 1831 (22 سال)[2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کولکاتا  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات ہیضہ  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی پریزیڈنسی یونیورسٹی، کولکاتا  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مصنف، معلم[3][4]، شاعر[5][6][7]  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[8]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

ہنری لوئی ویوین ڈیروزیو (18 اپریل 1809ء – 26 دسمبر 1831ء) ایک ہندوستانی شاعر، ہندو کالج، کلکتہ کے معاون صدر مدرس، انقلابی مفکر اور ان اولین ہندوستانی معلمین میں سے تھے جنہوں نے نوجوانان بنگال کو مغربی تعلیم اور سائنسی علوم سے روشناس کرایا۔

ڈیروزیو کی جواں مرگی کے بعد بھی ان کے طلبہ پر ان کے اثرات باقی رہے اور آگے چل کر یہی طلبہ ینگ بنگال کے نام سے معروف ہوئے۔ ان میں سے بہت سے طلبہ نے سماجی اصلاح، قانون اور صحافت کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

ہنری لوئی ویوین ڈیروزیو کی پیدائش کلکتہ میں انٹالی پدماپکور میں 18 اپریل 1809ء کو ہوئی۔ ان کے والد کا نام فرانسس ڈیروزیو تھا۔[9] ہنری کا اصل خاندانی نام "ڈے روزاریو" ہے۔ ہنری لوئی کی ابتدائی تعلیم ڈیوڈ ڈرمنڈ کے اسکول میں ہوئی جہاں وہ آٹھ برس کی عمر سے چودہ برس کی عمر تک رہے۔[9] چودہ برس کی عمر میں ہنری لوئی نے اسکول چھوڑ دیا۔ ابتدا میں کلکتہ میں اپنے والد کے ساتھ رہے اور بعد ازاں بھاگلپور منتقل ہو گئے اور دریائے گنگا کے ساحل کے خوبصورت مناظر سے متاثر ہو کر شاعری کرنا شروع کی۔

یہ وہ وقت تھا جب بنگال کا ہندو سماج افراتفری کا شکار تھا۔ سنہ 1828ء میں راجا رام موہن رائے نے برہمو سماج کی بنیاد رکھی جس نے مثالی ہندو تصورات کو باقی رکھا اور بت پرستی کی مخالفت کی۔ چنانچہ اس کے خلاف قدامت پرست ہندو سماج میں سخت رد عمل سامنے آیا۔ انہی تبدیلیوں کے تناظر میں ڈیروزیو کی ہندو کالج میں تقرری عمل میں آئی جہاں انہوں نے سماجی اصلاح کے تصورات اور افکار کو جلا بخشی اور ان کی نشر و اشاعت میں تعاون کیا۔ سترہ برس کی عمر میں ہنری لوئی ایک عظیم دانش ور اور مفکر کی حیثیت سے مشہور ہو گئے۔ انتہائی مختصر مدت میں کالج میں انہوں نے اپنے گرد ہونہار طلبہ کا ایک حلقہ جمع کر لیا تھا۔ اٹھارہ برس کی عمر میں وہ ہندو کالج میں انگریزی ادب اور تاریخ کے لیکچرار مقرر ہو گئے۔ وہ اپنے شاگردوں کو مسلسل آزاد فکری اور سوال اٹھانے پر ابھارتے اور اندھی تقلید سے روکتے۔ ان کی تعلیمات نے آزاد خیالی، مساوات اور آزادی اظہار کی روح کو جلا بخشی۔

وفات[ترمیم]

26 دسمبر 1831ء کو صرف بائیس برس کی عمر میں ڈیروزیو کی وفات ہوئی۔ کلکتہ کے ساؤتھ پارک سیمیٹری میں انہیں دفنایا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb15855170x — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Henry-Louis-Vivian-Derozio — بنام: Henry Louis Vivian Derozio — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. http://link.springer.com/content/pdf/10.1007%2F978-94-007-4661-9_2.pdf
  4. http://link.springer.com/chapter/10.1007%2F978-94-007-4661-9_2
  5. http://www.tandfonline.com/doi/pdf/10.1080/13698010020019235
  6. http://muse.jhu.edu/journals/comparative_literature_studies/v039/39.2dharwadker.html
  7. http://www.tandfonline.com/doi/pdf/10.1080/13698010120117415
  8. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb15855170x — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  9. ^ ا ب Bhattacharya Supriya (1 ستمبر 2009)۔ Impressions 8, 2/E۔ Pearson Education India۔ صفحات 1–۔ آئی ایس بی این 978-81-317-2777-5۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 جون 2012۔