برہم باندھو اپادھیائے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
برہم باندھو اپادھیائے
(بنگالی میں: ব্রহ্মবান্ধব উপাধ্যায় خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Brahmabandhab Upadhyay.jpg 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 1 فروری 1861  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 27 اکتوبر 1907 (46 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کولکاتا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی اسکاٹش چرچ کالج
ہوگلی کالجیٹ اسکول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مصنف،  ومدیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان بنگلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان بنگلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

برہم باندھو اپادھیائے (بنگالی: ব্রহ্মবান্ধব উপাধ্যায়) ‏(1 فروری 1861ء – 27 اکتوبر 1907ء) بنگال کے مشہور ماہر الہیات، صحافی اور مجاہد آزادی تھے۔[1] برہم باندھو رام کرشن پرم ہنس اور کیشب چندر سین کے دوست، سوامی ویویکانند کے ہم جماعت اور رابندرناتھ ٹیگور کے قریبی شناساؤں میں سے ایک تھے۔[2]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

برہم باندھو اپادھیائے ایک ”کولین براہمن“ خاندان میں پیدا ہوئے، ان کا پیدائشی نام بھوانی چرن بادیوپادھیائے تھا۔[3] کولین کی اصطلاح ابتدائی برہمنی ہندو معاشرے کے اس رسم کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کے تحت ایک مرد کو کئی بیویاں رکھنے کی اجازت تھی۔ برہم باندھو کے دادا کے متعلق مشہور تھا کہ ان کی چھپن بیویاں تھیں۔ ان کے والد دیوی چرن بادیوپادھیائے برطانوی راج میں پولیس افسر تھے۔ دیوی چرن کے تین بیٹے تھے۔ سب سے بڑا بیٹا ہری چرن کلکتہ میں معالج تھا، دوسرا بیٹا پربتی چرن وکیل اور تیسرا بھوانی چرن تھے۔ غیر منقسم بنگال کے ضلع ہوگلی میں واقع کھنیان گاؤں میں ان کی پیدائش ہوئی۔ جب وہ ایک برس کے تھے تو ان کی والدہ رادھا کماری وفات پاگئیں، چنانچہ ان کی پرورش ان کی دادی کے ہاتھوں ہوئی۔[4]

بھوانی چرن نے کلکتہ کی مشہور تعلیم گاہوں اسکاٹش مشن اسکول، ہوگلی کالیجیٹ اسکول، میٹرپولیٹن انسٹی ٹیوشن (موجودہ ودیا ساگر کالج) اور جنرل اسمبلی انسٹی ٹیوشن (موجودہ اسکاٹش چرچ کالج) میں تعلیم حاصل کی۔ سنہ 1880ء کی دہائی میں جب وہ جنرل اسمبلی انسٹی ٹیوشن میں زیر تعلیم تھے اس وقت سوامی ویویکانند ان کے ہم جماعت تھے۔[5] برہم باندھو رابندر ناتھ ٹیگور کے بھی دوست تھے۔

جب وہ کالج میں زیر تعلیم تھے تو کیشب چندر سین اور رابندر ناتھ ٹیگور کے والد دیویندر ناتھ ٹیگور سے خاصے متاثر ہوئے اور برہمو سماج کی طرف راغب ہوئے۔ سنہ 1881ء میں انہوں نے برہمویت کو اختیار کر لیا اور اس کے مبلغ بن گئے۔ انہوں نے صوبہ سندھ کے قصبہ حیدرآباد میں موجود ایک برہمو اسکول میں بھی پڑھایا۔[6]

حوالہ جات[ترمیم]

کتابیات[ترمیم]

  • K.P. Aleaz، "The Theological Writings of Brahmabandhav Upadhyaya Re-Examined" (پی‌ڈی‌ایف)، Indian Journal of Theology
  • Animananda، The Blade: Life and Work of Brahmabandhab Upadhyay.، Roy & Sons
  • Animananda، Swami Upadhyay Brahmabandhab: A Story of His Life, Part-I، The Author
  • Ramkrishna Bhattacharya (اپریل 2008)، "Brahmabandhav Upadhyay: The Unvanquished Publicist"، 175th Year Commemoration Volume، Scottish Church College
  • Mathew Chandrakunnel، "The Search for Truth: Trials and tribulations of Brahmabandhab Upadhyay" (پی‌ڈی‌ایف)، International Journal of Culture, Philosophy & Theology
  • Paul M Collins، Christian Inculturation in India، Ashgate Publishing، آئی ایس بی این 978-075-466-076-7
  • Phalguni P Desai، "Tagore's Educational Experiments and Right to Education Bill: a Comparison"، Rupkatha Journal on Interdisciplinary Studies in Humanities، ISSN 0975-2935
  • William Alan Firth-Smith، "Brahmabandhab Upadhyay: An Enigmatic Catholic Freedom Fighter 1861-1907" (پی‌ڈی‌ایف)، Thesis submitted in partial fulfilment of the requirement for the Degree of Master of Theology
  • Julius Lipner، Brahmabandhab Upadhyay: The Life and Thought of a Revolutionary، Delhi: Oxford University Press India
  • Hitendra Patel، Khudiram Bose: Revolutionary Extraordinaire، Publications Division, Ministry of Information and Broadcasting, Government of India، آئی ایس بی این 978-812-301-539-2
  • Madhusudhan Rao، "Lessons from India - Brahmabandhab Upadhyay and the failure of Hindu Christianity" (پی‌ڈی‌ایف)، International Journal of Frontier Missions
  • V Sebastian، "Constructions of National Space: Tracing the Development of Upadhyay's Nationalist Thought"، Jnanadeepa - Pune Journal of Religious Studies
  • Simonti Sen، Travels to Europe - Self and other in Bengali Travel Narratives 1870 - 1910، New Delhi: Orient Longman، صفحہ 18، آئی ایس بی این 81-250-2738-6
  • H. C. E. Zacharias، Renascent India from Rammohan Roy to Mohandas Gandhi، London: George Allen Unwin Ltd.

بیرونی روابط[ترمیم]