راج ناراین باسو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
راج ناراین باسو
রাজনারায়ণ বসু
راج ناراین باسو

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 1826
وفات 1899
مدناپور، مغربی بنگال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
قومیت ہندوستانی
عملی زندگی
مادر علمی پریزیڈنسی یونیورسٹی، کولکاتا
ہیئر اسکول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ تصنیف و تالیف
مادری زبان بنگلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان بنگلہ،  انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت سنسکرت کالج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر

راج ناراین باسو (بنگالی: রাজনারায়ণ বসু)؛ (1826ء – 1899ء) ایک ہندوستانی مصنف اور بنگالی نشاۃ ثانیہ کے نقیب تھے۔ وہ چوبیس پرگنہ کے بورل گاؤںمیں پیدا ہوئے اور اس وقت کے کلکتہ کی معروف تعلیم گاہوں ہیئر اسکول اور ہندو کالج میں تعلیم حاصل کی۔ بیس برس کی عمر میں انہوں نے برہمویت کو اپنایا[1] اور سبک دوشی کے بعد انہیں "رشی" کے اعزازی خطاب سے نوازا گیا۔ مصنف کی حیثیت سے انیسویں صدی کے بنگالی نثر نگاروں میں راج ناراین کا مقام نمایاں تھا۔ راج عموماً برہمو سماج کے مشہور رسالے "تتو بودھنی پتریکا" میں لکھا کرتے تھے۔[2] برہمویت کے دفاع کی بنا پر انہیں "بابائے ہندوستانی قوم پرستی" کا خطاب بھی ملا۔[3][4]

پیدائش اور ابتدائی زندگی[ترمیم]

راج ناراین باسو 7 ستمبر 1826ء کو مغربی بنگال کے سابق ضلع چوبیس پرگنہ کے گاؤں بورل میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نندا کشور باسو راجا رام موہن رائے کے شاگرد اور بعد میں ان کے معتمد بھی ہو گئے تھے۔ راج ناراین بچپن ہی سے خاصے ذہین تھے، ان کی ابتدائی تعلیم کلکتہ کے معروف ادارے ہیئر اسکول میں ہوئی۔ چودہ برس کی عمر تک انہوں نے وہاں تعلیم حاصل کی اور جب تک رہے اساتذہ کے درمیان میں اپنی ذہانت و فطانت کی بنا پر معروف رہے۔

کیریئر[ترمیم]

راج ناراین اپنے معاصر شاعر مائیکل مدھوسودن دت کے مخالف تھے۔ مدھوسودن ہی نے بنگالی زبان میں آزاد نظم کو متعارف کرایا تھا۔ ان دونوں شخصیتوں کا بنگالی ادب میں کلاسیکی مغربی عناصر کو متعارف کرانے میں اہم کردار ہے۔[1] راج ناراین نے کچھ دنوں تک ایشیا کے پہلے نوبل انعام یافتہ رابندر ناتھ ٹیگور کو پڑھایا بھی ہے۔ دیویندر ناتھ ٹیگور کی درخواست پر انہوں نے اپنشدوں کے انگریزی تراجم میں تین برس صرف کیے۔ ینگ بنگال کے رکن کی حیثیت سے ان کا اعتقاد تھا کہ تعمیر قوم کا عمل بنیادی سطح سے کیا جانا چاہیے۔[1]

چنانچہ اپنے اسی موقف کو عمل جامہ پہنانے کے لیے ایشور چندر ودیا ساگر کے سنسکرت کالج میں شعبہ انگریزی میں پڑھانے کے بعد وہ مدناپور منتقل ہو گئے تاکہ ایک ضلعی قصبے میں تعلیم دیں۔ وہ مدناپور ضلع اسکول کے صدر مدرس تھے، بعد میں یہی اسکول مدناپور کالج کا محرک بنا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ Ghulam Murshid۔ "Basu, Rajnarayan"۔ بہ Sirajul Islam؛ Ahmed A. Jamal۔ Banglapedia: National Encyclopedia of Bangladesh (اشاعت Second۔)۔ Asiatic Society of Bangladesh۔
  2. Samaresh Devnath۔ "Tattvabodhini Patrika"۔ بہ Sirajul Islam؛ Ahmed A. Jamal۔ Banglapedia: National Encyclopedia of Bangladesh (اشاعت Second۔)۔ Asiatic Society of Bangladesh۔
  3. "The Brahmo Samaj and the shaping of the modern Indian mind By David Kopf", page 315, https://books.google.com/books?id=IUcY_IRKDHQC&pg=PA315
  4. "Makers Of Indian Literature Prem Chand By Prakash Chandra Gupta", back cover, https://books.google.com/books?id=DuoHFioSmBoC&pg=PT1

بیرونی روابط[ترمیم]