بنگالی ادب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بنگالی ادب
বাংলা সাহিত্য
Charyapada.jpgTagorenazrul.png
بنگالی ادب
بلحاظ زمرہ
بنگلہ
بنگالی ادبی تاریخ
بنگالی ادب کی تاریخ
بنگالی زبان کے مصنفین
حروف تہجی کی فہرست
بنگالی مصنفین
مصنفینناول نگارشعرا
اصناف
ناولشاعریسائنس فکشن
ادارے اور اعزازات
ادبی ادارے
ادبی انعام
متعلقہ ابواب
باب ادب
باب بنگلہ دیش

بنگالی ادب (بنگالی: বাংলা সাহিত্য، Bangla Sahityô) بنگالی زبان زبان کی تحریروں سے عبارت ہے۔ بنگالی ادب میں سب سے قدیم کام چاریپاڈا ہے، یہ بدھ مت کے مذہبی گیتوں کے مجموعے ہیں، جو دسویں اور گیارہویں صدی عیسوی کے ہیں۔ اس کے بعد، بنگالی ادب کو وقت کے دو خطوط میں تقسیم کیا جاتا ہے − قرون وسطی (1360–1800) اور جدید (1800ء کے بعد سے )۔

قرون وسطی کا بنگالی ادب مختلف اصناف شاعری پر مشتمل ہے، بشمول ہندو مذہبی کتابوں کے (مثال کے طور پر منگل کاویا)، اسلامی رزمیے (مثال کے طور پر سید سلطان اور عبد الحاکم کا کام)، سنسکرت، عربی اور فارسی متون کے تراجم، ویشنوی متون (مثال کے طور پر سوانح چیتنیا مہاپربھو) اور غیر مذہبی مسلم شعرا کے متون (مثال کے طور پر Alaol کا کام)۔

بنگالی ادب میں ناول انیسویں صدی کے وسط میں متعارف ہوا۔ رابندر ناتھ ٹیگور، ایک شاعر، ڈراما نگار، ناول نگار، مصور، مضمون نگار، موسیقار اور سماجی مصلع، بنگالی ادب کی سب سے معروف شخصیت ہیں۔ جنھیں 1913ء میں ادب کا نوبل انعام ملا۔ تقسیم ہند کے بعد بنگالی ادب سابق مشرقی پاکستان کے ادب پر مشتمل ہے (آج کے دور میں بنگلہ دیش) اور مغربی بنگال۔

قدیم بنگالی زبان[ترمیم]

چریاپد (चर्यापद) کا مخطوطہ

نئی بنگالی میں لکھا گیا پہلا کام، [1] دسویں اور گیارہویں صدی عیسوی کا ہے۔ جسے عموماً چاریپاڈا کہا جاتا ہے، یہ بدھ مت کے مذہبی/باطنی گیت ہیں جو مختلف بدھ غیب گوئی کرنے والے شعرا: لوی پاٹ، کن پاٹ، ککری پاٹ، چاتل پاٹ، بھسوکو پاٹ، کاملی پاٹ، دھندھان پاٹ، شانتی پاٹ، شابر پاٹ وغیرہ نے لکھے۔ ممتاز بنگالی ماہر لسانیات ہرپرساد شاستری نے 1907ء میں رائل کورٹ لائبریری سے کجھور کے پتوں پر لکھا چاریپاڈا مخطوطہ دریافت کیا۔

رابندر ناتھ ٹیگور کا اثرا[ترمیم]

رابندر ناتھ ٹیگور شاید بنگالی ادب کی سب سے متاثرکن شخصیت ہیں، ان کو 1913ء میں ادب کا نوبل انعام ملا۔ ٹیگور کئی دہائیوں تک بنگالی اور ہندوستانی فلسفیانہ اور ادبی منظر پر چھائے رہے۔ ٹیگور کے 2,000 گیت مغربی بنگال اور بنگلہ دیش کی ثقافت کی وضاحت میں مرکزی اہمیت رکھتے ہیں۔ ٹیگور بنگلہ دیش اور بھارتے دونوں ممالک کے قومی ترانوں کے خالق ہیں، دونوں ترانے بنگالی میں لکھے گئے۔ دیگر اہم کاموں میں نظموں کی کتاب گیتانجلی، کئی افسانے اور کچھ ناول ہیں۔ گیتانجلی پر ان کو 1913ء میں نوبل انعام ملا۔

اہم شخصیات[ترمیم]

ناول نگار[ترمیم]

افسانہ نگار[ترمیم]

شعرا[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سکمبر سین۔ تاریخ بنگال (اشاعت تیسرا۔)۔ نئی دہلی: ساہتیہ اکیڈمی۔ صفحہ 24۔ آئی ایس بی این 81-7201-107-5۔

بیرونی روابط[ترمیم]