عابدہ پروین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عابدہ پروین
Abida Parveen concert 1.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 20 فروری 1954 (67 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاڑکانہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ریکارڈنگ آرٹسٹ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عابدہ پروین (ولادت: 20 فروری 1954ء)[2] پاکستانی صوفی مسلم گلوکارہ، کمپوزر اور موسیقار ہیں۔ عابدہ ایک نقاش اور کاروباری بھی ہیں۔ پروین پاکستان میں سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی گلوکاروں میں سے ایک ہیں۔[3] عابدہ پروین کی گائیکی اور موسیقی کی وجہ سے ان کو 'صوفی موسیقی کی ملکہ' بھی کہا جاتا ہے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

عابدہ پروین کی پیدائش پاکستان کے سندھ کے علاقے لاڑکانہ کے محلہ علی گوہرآباد میں ہوئی تھی۔ انہوں نے موسیقی کی تربیت ابتدا میں اپنے والد استاد غلام حیدر سے حاصل کی، جنہیں عابدہ بابا سائیں اور گاوایا کے نام سے پکارتی ہیں۔

پیشہ وارانہ زندگی[ترمیم]

پروین نے 1970ء کی دہائی کے اوائل میں درگاہوں اور عرس میں نغمے پیش کرنا شروع کیا تھا۔ 1971ء میں، جب نصیر ترابی نے مشرقی پاکستان کے خاتمے پر گہرے دکھ کا اظہار کرنے کے لئے وہ ہم سفر تھا لکھا تو پروین نے اس غزل کو خوبصورت انداز میں پیش کیا۔[4]

اقوال[ترمیم]

  • میری ثقافت - ہماری ثقافت - روحانیت اور محبت سے مالا مال ہے۔[5]

ذاتی زندگی[ترمیم]

تعلیم[ترمیم]

عابدہ نے اپنی ماسٹر ڈگری سندھ سے حاصل کی اور خاص طور پر اردو، سندھی اور فارسی بھی سیکھی۔

شادی اور خاندان[ترمیم]

1975ء میں، عابدہ نے ریڈیو پاکستان کے سینئر پروڈیوسر غلام حسین شیخ سے شادی کی، جو 1980ء کی دہائی میں ملازمت سے اس لیے سبکدوش ہوئےکیوں کہ ان کو پروین کے کیریئر کو بنانا تھا۔

عابدہ پروین گیلری[ترمیم]

عابدہ پروین کو آرٹس میں بھی دلچسپی ہے۔

لباس اسٹائل[ترمیم]

پروین کا لباس کا ایک مخصوص اسٹائل ہے جو انہوں نے خود کو آسانی اور راحت کے لئے تیار کیا۔

دیگر[ترمیم]

عابدہ پروین اپنے روحانی آقا نجیب سلطان کی بیعت لے چکی ہے اور ان کی شاگرد ہیں۔ پروین کو 28 نومبر 2010 ءکو لاہور میں ایک پرفارمنس کے دوران دل کا دورہ پڑا تھا۔[6] ان پر انجیوگرافی اور انجیو پلاسٹی کی گئی تھی۔ اس کے فورا بعد ہی ان کی صحت بحال ہوگئی۔

ایوارڈز اور پہچان[ترمیم]

فلمی گرافی[ترمیم]

اگرچہ عابدہ پروین ایک انتہائی ساکھ والی گلوکارہ ہیں، لیکن انہوں نے کبھی بھی فلموں میں اپنی آواز نہیں دی۔ عابدہ پروین کے شائقین اور فاروق مینگل کے اصرار پر ان کے پہلے سے ریکارڈ شدہ گانوں کو فلموں میں استعمال کیا گیا ہے۔ پروین اپنی شرمیلی شخصیت کی وجہ سے انٹرویوز اور ٹیلی ویژن مارننگ شوز میں کم سے کم دکھائی دیتی ہیں۔ پروین نے اعتراف کیا کہ انہیں بالی ووڈ کے فلم سازوں یعنی سبھاش گھئی اور یش چوپڑا کی طرف سے پیش کش ملتی رہتی ہیں لیکن وہ ان سے انکار کردیتی ہیں کیونکہ انہوں نے خود کو تصوف میں ڈھا لیا ہے ہے۔[10] یہاں تک کہ انہیں را.ون کے لئے شاہ رخ خان کی طرف سے پیش کش بھی آئیں اور میوزک ڈائریکٹر اے آر رحمان نے بھی انہیں کچھ گانوں کی پیش کش کی ہے۔[11]

ٹیلی ویژن[ترمیم]

سال شو کردار نوٹ
1980ء آواز آنداز Performer aired on PTV
2009ء نارا مستانا Performer Concert sponsored and aired by Hum
2010ء چھوٹے استاد Guest Judge with Ghulam Ali Eid Celebration
2012ء سر چھترا جج Representing Pakistan in India
2012ء Shehr-e-Zaat OST Singer for Yaar ko Humne Pre-recorded from album Raqs-e-Bismil
2012ء جھلک دکھلا جا Special appearance with Runa Laila To promote Sur Kshetra TV Show
2012ء پہلا ہم ایوارڈ Performer Sang Naraye Mastana
2014ء پاکستان آئیڈل ٹی وی شو Guest Judge Grand Finale
2014ء زی چینل TV Singer New Channel
2014ء سماع عشق Performer Concert aired on Hum TV

فلمیں[ترمیم]

سال فلم گانا نوٹ
2005ء وردھہ Mann Lago Yaar

Bhala Hua Meri

Saahib Mera Ek

From her album "Kabir by Abida"
2008ء ذی الشاہ Sajjan de Haath Pre-recorded
2013ء عشق خدا Title Track Pre-recorded

Winner-1st ARY Film Awards for Best Female Playback Singer

2015ء جانثار Sufiye Ba Safa Manam (female) Indian film by Muzaffar Ali
2015ء بن روئے Maula Maula with Zeb Bangash

Winner-15th Lux Style Awards for Best Female Playback Singer

2017ء رنگریزا Phool Khil Jayein with Asrar (musician)


گائیکی کے ذریعے صوفیانہ کلام کوپھیلانے کی بات کی جائے تو شاید اس وقت پورے برصغیر میں عابدہ پروین سے بڑا کوئی نام نہیں۔ انھوں نے صرف پاکستان اور بھارت میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں صوفی شعراکے پیغام کو پھیلایا۔ عابدہ پروین کاایک موسیقار گھرانے سے ہے۔ انہوں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد استاد غلام حیدر سے حاصل کرنے کے بعد ریڈیو پاکستان سے اپنی فنی زندگی کا آغاز کیا۔2012ء میں عابدہ پروین کی فنکارانہ خدمات کے اعتراف میں انہیں ہلالِ امتیازسے نوازا گیا،اسی برس انہیں بھارت کی بیگم اختر اکیڈمی آف غزل کی طرف سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈبھی دیا گیا۔ عابدہ پروین کو اس سے پہلے حکومت پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس بھی مل چکا ہے۔2015ءمیں بھی پاکستان اور بیرونِ ممالک میں عابدہ پروین نے کئی شوز کیے اور موسیقی کی دنیا میں منفرد شناخت کی حامل رہیں۔عابدہ پروین کو پاکستان اور بھارت کے مقابلہ موسیقی پروگرامسر چھترا میں بطور جج بھی رکھا گیا تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://pantheon.world/profile/person/Abida_Parveen
  2. Iqbal، Nosheen (8 July 2013). "Abida Parveen: 'I'm not a man or a woman, I'm a vehicle for passion'". دی گارڈین (newspaper). اخذ شدہ بتاریخ 09 نومبر 2018. 
  3. "You can't listen to them if you can't afford them…". The Express Tribune. 14 July 2017. اخذ شدہ بتاریخ 13 ستمبر 2019. 
  4. "Woh Hamsafar Tha". YouTube. 
  5. Iqbal، Nosheen (8 July 2013). "Abida Parveen: 'I'm not a man or a woman, I'm a vehicle for passion'". The Guardian. ISSN 0261-3077. اخذ شدہ بتاریخ 13 اگست 2016. 
  6. "Abida Parveen suffers heart attack during performance". The Express Tribune (newspaper). 28 November 2010. اخذ شدہ بتاریخ 09 نومبر 2018. 
  7. "Abida Parveen profile". 01 جنوری 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 23 جولا‎ئی 2019. 
  8. "India honours Abida Parveen with lifetime achievement award". Dawn. Pakistan. 9 October 2012. اخذ شدہ بتاریخ 23 جولا‎ئی 2019. 
  9. Abida Parveen's Hilal-i-Imtiaz Award (2012) The Express Tribune (newspaper). Retrieved 9 November 2018
  10. "Bollywood can wait: Abida Parveen (Interview)". Thaindian News. 8 November 2010. اخذ شدہ بتاریخ 09 نومبر 2018. 
  11. Bharti Dubey (31 August 2012). "Abida Parveen and Runa Laila to spread love in India". The Times of India. اخذ شدہ بتاریخ 09 نومبر 2018.