زرینہ بلوچ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
زرینہ بلوچ
معلومات شخصیت
پیدائش 29 دسمبر 1934  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پاکستان  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 25 اکتوبر 2005 (71 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد ایاز لطیف پلیجو  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ گلو کارہ، کارکن انسانی حقوق  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات

معروف گلوکارہ، استاد، ترجمہ نگار، اداکارہ اور سیاسی جدوجہد کے حوالے سے بڑا نام۔ سندھ کے شہر حیدرآباد میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے بیس سال تک سندھ یونیورسٹی کے ماڈل اسکول میں پڑھایا۔1964 میں عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو سے شادی کی۔ضیا دور میں بھٹو بچاؤ تحریک میں انہوں نے دو سال قید کاٹی۔ ون یونٹ کے خلاف جدوجہد میں بھر پور حصہ لیا۔ دو سال قبل کالاباغ ڈیم کے خلاف جب سندھ کے لوگوں نے بھٹ شاہ سے کراچی تک لانگ مارچ کیا تو انہوں نے اس میں حصہ لیا۔ اس دوران میں پولیس نے دو مرتبہ ان پر لاٹھی چارج کیا۔ انہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کے احتجاجوں میں شرکت کی۔

گلو کاری و اداکاری[ترمیم]

زرینہ بلوچ نے شیخ ایاز، استاد بخاری اور تنویر عباسی کو بہت گایا۔ بلوچی گانے، گل خان نصیر کی شاعری، اردو میں فیض احمد فیض، احمد فراز اور بعض سرائیکی گیتوں کو سر دیا۔

ان کی تین درجن سے زائد آڈیو کیسٹ ریلیز ہو چکی ہیں۔ میونخ فیسٹیول میں ان کی اداکاری پر مشتمل ڈراما "دنگي منجھ دريا" دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر آیا۔ انہوں نے اردو میں انا، جنگل، کارواں اور سندھی میں رانی کی کہانی جیسے مقبول ڈرامے کیے۔

پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں انہیں پرائیڈ اف پرفارمنس دیا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے پی ٹی وی ایوارڈ، لطیف، سچل، شہباز اور کئی ایوارڈ بھی حاصل کیے۔

گیت[ترمیم]

انہوں نے قومی گیت گا کر سندھ کی قومی تحریکوں میں جوش پیدا کیا۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کی وجہ سے ان کی صرف کوئی ایک پہچان نہیں۔ اس لیے سندھ کے سیاسی اور ادبی حلقوں میں انہیں "جیجی" کہا جاتا تھا۔ انہوں نے سندھی کے شادی بیاہ کے گیتوں کو جان بخشی۔

کتاب[ترمیم]

انہوں نے ایک کتاب "تنهنجي ڳولها، تنهنجيون ڳالهيون" ( تمہاری تلاش، تمہاری باتیں) لکھی۔ تین سے زائد ڈراما لکھے۔ زان پال سارتر کی کتاب دیوار کا سندھی ترجمہ کیا۔

وفات[ترمیم]

زرینہ بلوچ کا انتقال 25 اکتوبر 2005ء کو کراچی، پاکستان میں ہوا۔

حوالہ جات[ترمیم]