سلامت علی خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سلامت علی خان
معلومات شخصیت
پیدائش 12 دسمبر 1934  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
شام چوراسی،  ضلع ہوشیارپور،  صوبہ پنجاب (برطانوی ہند)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 11 جولا‎ئی 2001 (67 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ گلو کار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو،  پنجابی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل دھرپد،  خیال،  کافی،  غزل،  ٹھمری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات

استاد سلامت علی خان (پیدائش: 12 دسمبر، 1934ء - وفات: 11 جولائی، 2001ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے شام چوراسی گھرانے کے نامور کلاسیکی گائیک تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

استاد سلامت علی خان 12 دسمبر، 1934ء کو شام چوراسی، ضلع ہوشیارپور، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے ۔[1] [2][3]۔ انہوں نے اپنے بڑے بھائی استاد نزاکت علی خان کے ساتھ اپنے والد استاد ولایت علی خان سے موسیقی کی تربیت حاصل کی اور نہایت کم عمری میں ہندوستان گیر شہرت حاصل کی۔ تقسیم ہند کے بعد انہوں نے پہلے ملتان اور پھر لاہور میں اقامت اختیار کی۔[2]

استاد سلامت علی کا گھرانہ دھرپد گائیکی کے لیے مشہور تھا لیکن استاد سلامت علی خان نے اپنے ایک بزرگ میاں کریم بخش مجذوب سے خیال گائیکی میں بھی اختصاص حاصل کیا۔[2]

1955ء میں وہ استاد نزاکت علی خان کے ساتھ آل اندیا میوزک کانفرنس منعقدہ کلکتہ، بھارت میں شرکت کی۔ وہ برصغیر کے واحد گائیک تھے جنہیں مسلسل دس سال تک آل اندیا میوزک کانفرنس کلکتہ میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے برطانیہ، امریکا، جرمنی، ہندوستان، افغانستان، سنگاپور، ہالینڈ، اسکاٹ لینڈ، سوئزرلینڈ اور اٹلی میں اپنے فن کا مظاہری کیا۔[3] 1983ء میں استاد نزاکت علی خان کی وفات کے بعد استاد سلامت علی خان کی گائیکی کا سلسلہ خاصا کم ہو گیا تھا۔

اعزازات[ترمیم]

حکومت پاکستان نے استاد سلامت علی خان کی فنی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں14 اگست، 1989ء کو صدارتی اعزا برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز عطا کیا۔[2]

ہم عصر گلوکاروں کی رائے[ترمیم]

معروف بھارتی گلوکارہ لتا منگیشکر کے مطابق:

استاد سلامت علی خان برصغیر پاک و ہند کے عظیم گلوکار تھے۔[3]

وفات[ترمیم]

استاد سلامت علی خان 11 جولائی، 2001ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ لاہور میں قبرستان اسکیم موڑ، ملتان روڈ میں آسودہ خاک ہیں[2][3][1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ، وفیات ناموران پاکستان، اردو سائنس بورڈ لاہور، 2006ء، ص 366
  2. ^ ا ب پ ت ٹ عقیل عباس جعفری، پاکستان کرونیکل، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء، ص 879
  3. ^ ا ب پ ت استاد سلامت علی خان از استاد غلام حیدر خان، ویکلی فرائیڈے ٹائمز، پاکستان، 14-20 جنوری 2010ء