بشیر مرزا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بشیر مرزا
بی ایم
بشیر مرزا

معلومات شخصیت
پیدائش 8 جون 1941(1941-06-08)
امرتسر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 19 جنوری 2000(2000-10-19) (عمر  58 سال)
کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
قومیت Flag of پاکستانپاکستانی
عملی زندگی
مادر علمی نیشنل کالج آف آرٹس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مصور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
صنف لینڈ اسکیپنگ، ڈرائنگز، تجریدی پینٹنگز
اعزازات
صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی

بشیر مرزا المعروف بی ایم (انگریزی: Bashir Mirza) (پیدائش: 8 جون، 1941ء - وفات: 19 جنوری، 2000ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے نامور مصور تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

بشیر مرزا 8 جون، 1941ء کوامرتسر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے[1]۔تقسیم ہند کے بعد وہ کراچی میں سکونت پزیر ہوئے۔ 1958ء میں انہوں نے نیشنل کالج آف آرٹس لاہور میں داخلہ لیا اور 1962ء میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ 1965ء میں انہوں نے کراچی میں نائجیریا کے سفیر کی اقامت پر اپنی پہلی سولو نمائش کی۔ اسی برس انہوں نے کراچی میں دی گیلری کے نام سے ایک آرٹ گیلری کا آغاز کیا جو نہ صرف کراچی بلکہ پاکستان کی بھی پہلی پرائیویٹ آرٹ گیلری تسلیم کی جاتی ہے۔ 1967ء میں ان کی مشہور ڈرائنگ سیریز پورٹریٹ آف پاکستان کا پورٹ فولیو منظر عام پر آیا۔ 1971ء میں انہوں نے کراچی میں Lonley Girl کے نام سے اپنی پینٹنگز کی نمائش کی۔ اس کے بعد انہوں نے اسی نوعیت کی کئی اور نمائشیں بھی کیں۔[2]

اعزازات[ترمیم]

حکومت پاکستان نے بشیر مرزا کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں23 مارچ، 1994ء کو صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔ اس کے علاوہ 14 اگست، 2006ء کو پاکستان پوسٹ نے پاکستان کے دس عظیم مصوروں پر مبنی 40 روپے مالیت کے پینٹرز آف پاکستان کی ڈاک ٹکٹ شیٹ کا اجرا کیا، اس شیٹ میں بشیر مرزا بھی شامل تھے۔[2]

وفات[ترمیم]

بشیر مرزا 19 جنوری، 2000ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پا گئے[1] اور ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب چغتائی سے اب تک۔ مصوروں کی کہکشاں، خان ظفر افغانی، ماہنامہ اطراف کراچی، شمارہ 39ستمبر 2017ء، ص 90
  2. ^ ا ب پ عقیل عباس جعفری: پاکستان کرونیکل، ورثہ / فضلی سنز کراچی، 2010ء، ص 852