منو بھائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
منو بھائی
معلومات شخصیت
پیدائش 6 فروری 1933  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وزیر آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 19 جنوری 2018 (85 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
عملی زندگی
پیشہ شاعر،  صحافی،  ڈراما نگار،  کالم نگار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات

منو بھائی (پیدائش: 6 فروری 1933ء– وفات: 19 جنوری 2018ء) پاکستان کے مشہور کالم نویس، مصنف اور ڈراما نگار تھے۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے لیے بہت سے ڈرامے لکھے۔ ان کا سب سے مشہور ڈراما سونا چاندی ہے۔ 2007ء میں انہیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔[1]

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

منو بھائی کا اصل نام منیر احمد قریشی تھا۔ ان کے دادا میاں غلام حیدر قریشی امام مسجد تھے، کتابوں کی جلد سازی اور کتابت ان کا ذریعہ معاش تھا۔ وہ شاعری بھی کرتے تھے۔ ان کے والد محمد عظیم قریشی ریلوے میں ملازم تھے، جو بعد میں اسٹیشن ماسٹر بنے۔ پنجابی کے معروف شاعر شریف کنجاہی ان کے ماموں تھے۔ 1947ء میں میٹرک کرنے کے بعد وہ گورنمنٹ کالج کیمبل پور (اٹک) آ گئے، وہاں غلام جیلانی برق، پروفیسر عثمان اور مختار صدیقی جیسے اساتذہ سے انہیں پڑھنے کا موقع ملا۔ یہیں سے پنجابی شاعری شروع کی۔[2]

پیشہ وارانہ زندگی[ترمیم]

کالم نگاری[ترمیم]

تعلیم کے بعد 1950ء کی دہائی کے اخیر میں راولپنڈی کے اخبار تعمیر میں پچاس روپے ماہوار پر نوکری کی۔ اور اسی اخبار سے اوٹ پٹانگ کے عنوان سے کالم نگاری کا آغاز کیا۔ امروز اخبار میں نظم بھیجی تو اس وقت کے مدیر احمد ندیم قاسمی نے قلمی نام منو بھائی عطا کیا۔ جو ان کے اصل نام کی جگہ معروف ہے، اسی نام سے کالم اور ڈراما نگاری کی۔[3]’’تعمیر‘‘ سے قاسمی صاحب انہیں ’’امروز‘‘ میں لے آئے۔ یہاں انہوں نے دوسری صحافتی ذمہ داریوں کے ساتھ ’’گریبان‘‘ کے عنوان سے کالم لکھنے شروع کیے۔ حکومت سے صحافیوں کے معاوضے کے جھگڑے پر ان کا تبادلہ سزا کے طور پر ملتان ’’امروز‘‘ میں کر دیا گیا، جہاں سے ذوالفقار علی بھٹو انہیں مساوات میں لے آئے۔ 7 جولائی 1970ء کو مساوات میں ان کا پہلا کالم چھپا۔ مساوات سے روزنامہ جنگ لاہور میں آ گئے۔ کچھ عرصہ دوسرے اخبارات میں بھی کام کیا۔[2]

ڈراما نگاری[ترمیم]

ڈراما نگاری بھی منو بھائی کی شخصیت کا ایک معتبر حوالہ ہے۔ انہوں نے پی ٹی وی کے لیے سونا چاندی، جھوک سیال، دشت اور عجائب گھر جیسے ڈرامے تحریر کیے۔ کالم نویسی کی طرح اپنے ڈراموں میں بھی انہوں نے ورکنگ کلاس کے لوگوں کی زندگی اور مسائل پیش کیے۔ ٹی وی کے لیے ڈراما نویسی کی طرف انہیں اسلم اظہر لائے، جن کے کہنے پر انہوں نے 65ء کی جنگ کے موضوع پر ’’پل شیر خان‘‘ ڈراما لکھا۔[2]

کتابیں[ترمیم]

  • اجے قیامت نئیں آئی (پنجابی شاعری کا مجموعہ)
  • جنگل اداس ہے (منتخب کالم)
  • فلسطین فلسطین
  • محبت کی ایک سو ایک نظمیں
  • انسانی منظر نامہ (تراجم)[2]

شاعری[ترمیم]

منو بھائی نے پنجابی میں شاعری کی، ان کی پنجابی زبان میں کئی نظموں کو شہرت و مقبولیت ملی۔

نمونہ کلام
او وی خوب دیہاڑے سنبھک لگدی سی منگ لیندے ساں
مل جاندا سی کھا لیندے ساںنہیں سی ملدا تے رو پیندے ساں
روندے روندے سوں رہندے ساںایہہ وی خوب دیہاڑے نیں
بھک لگدی اے منگ نیں سکدےملدا اے تے کھا نیں سکدے
نیں ملدا تے رو نیں سکدےنہ رویے تے سوں نہیں سکدے

خدمات[ترمیم]

2014ء میں منو بھائی نے اپنا ذاتی کتب خانہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کو عطیہ کر دیا تھا۔ یہ کتب خانہ 145,464 کتب پر مشتمل تھا۔[4]

وفات[ترمیم]

منو بھائی طویل علالت کے بعد 19 جنوری 2018ء کو 84 سال کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے۔ نماز جنازہ اِسی روز ریواز گارڈن میں بوقت عصر اداء کی گئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]