زبیدہ آغا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
زبیدہ آغا
معلومات شخصیت
پیدائش 1922ء
فیصل آباد  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات اکتوبر 31، 1997(1997-10-31)ء
اسلام آباد  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قومیت Flag of پاکستانپاکستانی
عملی زندگی
مادر علمی سینٹ مارٹن اسکول آف آرٹ
نیشل سپیریئر اسکول آف فائن آرٹس
کنیئرڈ کالج  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مصور  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ شہرت مصوری
کارہائے نمایاں
  • Evening
  • Blue vase
  • Deserted Street
  • The flood
  • Carnival and red flowers
  • Beethoven’s Fifth Symphony
  • Iceberg
صنف تجریدی مصوری
اعزازات
صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی

زبیدہ آغا (انگریزی: Zubeida Agha) (پیدائش: 1922ء — وفات: 31 اکتوبر 1997ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والی نامور مصورہ ہیں۔ وہ پاکستان میں تجریدی مصوری کی بانیوں میں شمار ہوتی تھیں۔[1]

حالات زندگی[ترمیم]

زبیدہ آغا 1922ء کولائل پور، (موجودہ فیصل آبادبرطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئیں[2][3]۔ 1944ء میں کنیئرڈ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس وقت کے معروف مصور بی سی سانیال کے اسٹوڈیو سے تصور کشی کا آغاز کیا۔ 1946ء میں انہیں شہرہ آفاق مصور پکاسو کے شاگرد ماریو پرلنگیری سے مصوری سیکھنے کا موقع ملا۔ اسی برس انہوں نے لاہور میں ایک گروپ نمائش میں اپنی چار پینٹنگز اور دو مجسموں کی نمائش کی جن کی بڑی شہرت ہوئی۔[3]

تقسیم ہند کے بعد انہیں بیرون ملک تربیت حاصل کرنے اور فن پاروں کی نمائش کرنے کے بھی متعدد مواقع ملے۔ 1971ء میں انہیں راولپنڈی میں معاصر مصوری کی آرٹ گیلری قائم کرنے کا موقع ملا جس کی وہ 1977ء تک ڈائریکٹر رہیں۔ اس گیلری سے وابستگی کے دوران ان کی اپنی مصوری کی رفتار خاصی کم ہو گئی اور ان کی مصوری کی بہت کم نمائشیں منعقد ہوسکیں۔[3]

ان کے مشہور فن پاروں میں Evening، Blue Vase، Deserted Street، The Flood، Carnival and Red Flowers، Beethoven’s Fifth Symphony اور Iceberg شامل ہیں۔[1]

اعزازات[ترمیم]

حکومت پاکستان نے زبیدہ آغا کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں14 اگست، 1965ء کو صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی کا اعزاز عطا کیا[2]۔ پاکستان پوسٹ نے 14 اگست، 2006ء کو پاکستان کے عظیم مصوروں پر مبنی 40 روپے مالیت کی ڈاک ٹکٹ شیٹ کا اجرا کیا، ان میں زبیدہ آغا بھی شامل تھیں۔[4]

وفات[ترمیم]

زبیدہ آغا 31 اکتوبر، 1997ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پا گئیں۔[3][2]

حوالہ جات[ترمیم]