شوکت حسین (طبلہ نواز)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شوکت حسین (طبلہ نواز)
Ustad Shaukat Hussain Khan.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1929  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پھگواڑا  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 25 جنوری 1996 (66–67 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
پاکستانی  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ طبلہ، موسیقار  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو، پنجابی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

استاد میاں شوکت حسین (پیدائش: 1929ء— وفات: 25 جنوری 1996ء) خان کا شمار برصغیر پاک و ہند کے عظیم موسیقاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے طبلہ سیکھنے کے لیے پہلے پنڈت ہیرا لال اور بعد میں نامور استاد میاں قادر بخش کے شاگردی اختیار کی۔ سنگت کے لیے استاد شوکت حسین خان پاکستان کے تمام چوٹی کے کلاسیکی گلوکاروں، مثلاََ مرحوم استاد سلامت علی خان، استاد بڑے فتح علی خان، ملکہ موسیقی مرحومہ روشن آرا بیگم اور ستار نواز مرحوم استاد شریف خان پونچھ والے کی پہلی پسند ہوا کرتے تھے۔ بیرون ملک میں استاد شوکت حسین خان نے یان گاربارک کے ساتھ سوئٹزر لینڈ میں کیے گئے ایک پروگرام کی سنگت کے علاوہ ان کے البم راگا اینڈ ساگا میں بھی طبلہ بجایا ہے۔ استاد شوکت حسین کے یان گاربارک کے ساتھ دوسرے البم کا نام مادر ہے جس میں تونس کے عود نواز انور براہم نے بھی حصہ لیا تھا۔ استاد شوکت حسین نے ناروے کی پاکستانی نژاد گائیکہ دیا خان کے البم " ای آلت شلاگ لیس" میں بھی حصہ لیا ہے، جس میں سارنگی نواز استاد سلطان خان بھی شامل تھے۔

سولو طبلہ نوازی میں ان کے فن میں دہلی گھرانے اور پنجاب گھرانے کی پیچیدہ لے کاری کی آمیزش سنائی دیتی تھی۔ جہاں استاد شوکت حسین کے طبلہ کی صوتی کوالٹی کی تعریف کی جاتی ہے، وہیں ان کا بجانے سے پہلے طبلے کا بول پڑھنا بھی بہت خوشگوار سمجھا جاتا ہے۔

جہاں پاکستان میں اپنے فن کو دوسروں سے چھپانے کی روایت بہت ہی عام ہے اور اسے صرف اپنے بچوں کو خلوص سے منتقل کیا جاتا ہے، استاد شوکت حسین نے اس کے بر عکس اپنے فن کو اپنے تمام شاگردوں تک منتقل کرنے میں کسی قسم کی کنجوسی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بہت سے شاگرد اس وقت پاکستان میں بہت اچھا طبلہ بجا رہے ہیں، جن میں سے سب سے زیادہ نمایاں نام استاد عبد الستار خان عرف تاری خان کا ہے۔ استاد شوکت حسین خان کے اپنے تین بیٹوں میں سے صرف بڑا بیٹا رضا شوکت طبلہ بجاتا ہے لیکن اس میں وہ فنی پختگی نہیں آ سکی جو اس کے باپ کا خاصہ تھا۔ اس وقت شوکت حسین کے گھرانے سے ان کا بھتیجا استاد شاہد حسین ان کی روایت کو آگے بڑھا رہا ہے۔