دیا خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دیا خان
دیا خان

معلومات شخصیت
پیدائش 7 اگست 1977 (40 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
اوسلو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
قومیت نارویجن
عملی زندگی
پیشہ فلم ہدایتکار
تصنیفی زبان ناروی،انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
دور فعالیت 1992 تا حال
اعزازات
ویب سائٹ
ویب سائٹ www.deeyah.com
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی  بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

دیا خان ایک پاکستانی نژاد نارویجن فلم ہدایتکار ہیں۔ وہ انسانی حقوق، آزادی اظہار اور امن کی پُر جُوش داعی ہیں۔ وہ فیوز کی بانی اور چیرمین ہیں۔ فیوز کا دائرہ کار دستاویزی فلمیں بنانے کے علاوہ دیگر لائیو پروگراموں کی کوریج ہے۔ دیا خان کی اولین فلم باناز اے لو سٹوری 2013ء میں پی باڈی ایوارڈ ،ایمی ایوارڈ کے علاوہ برگن کے عالمی فلمی میلے سے پہلا انعام جیت چکی ہے۔ ان کی دوسری فلم "جہاد: اے سٹوری آف دی ادرز" بافٹا ایوارڈ، گریئرسن ایوارڈ کے علاوہ مونٹی کارلو فلمی میلے کے گولڈن نیمف ایوارڈ کیلئے بھی نامزد ہوئی۔ دیا خان سسٹر ہڈ نامی آن لائن رسالے کی بانی اور مدیر اعلیٰ ہیں۔ اس رسالے میں دنیا بھر کی نامور مگر صرف مسلمان خواتین ہی لکھتی ہیں۔ حقوق نسواں، امن، آزادی اظہار کی جدوجہد اور خدمات پر دیا خان کو کئی بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں عالمی تنظیم یونیسکو نے 2016ء میں انہیں "فنی آزادی و خلاقیت" کے شعبے میں خیر سگالی کا سفیر نامزد کیا۔ دیا خان اس شعبے کی پہلے سفیر ہیں۔

سوانح حیات[ترمیم]

پیدائش و خاندانی پس منظر[ترمیم]

دیا خان 7 اگست 1977ء کو ناروے کے دار الحکومت اوسلو ميں پيدا ہوئیں۔ دیا مشہور پاکستانی نژاد نارویجن اداکار عادل خان کی بڑی بہن ہیں۔

موسيقی[ترمیم]

دیا کا تعلق ايک ثقافتی گھرانے سے ہے۔ دیا کے والد ناروے ميں مختلف ثقافتی سرگرمیوں کے روح و رواں رہے ہيں۔ انہوں نے کلاسیکی موسیقی اور ديگر پاکستانی تخليقی روايات کو ناروے ميں متعارف کرانے کے سلسلے ميں بہت زيادہ کام کيا ہے۔ اپنی ثقافت سے محبت کے نتیجے میں جہاں اُنہوں نے دیا کی تربیت کے سلسلے میں اُردو زباں اور دیگر روایتی تعلیم پر خصوصی توجہ دی، وہیں اُنہوں نے دیا کیلئے علم موسیقی سیکھنے کا بھی بندوبست کیا۔ جس کیلئے اُنہوں نے پاکستان اور ہندوستان کے نامور موسیقاروں کی خدمات حاصل کیں۔ شب و روز کی محنت کی وجہ سے دیا نے جلد ہی ناروے کے موسیقی کے حلقوں میں اپنی جگہ پیدا کر لی۔ دیا ساڑھے سات سال کی عمر میں نارویجین ٹی وی پر نمودار ہوئیں۔

پیشۂِ موسيقی[ترمیم]

1990ء میں دیا پاکستانی موسیقار استاد بڑے فتح علی خان اور نارویجن موسیقار یان گاربارک کے مشترکہ البم پر بطور مہمان گلوکارہ کے پیش ہوئیں۔ 12 سال کی عمر میں اُنہوں نے نارویجن گلوکار آندرس ویلر کے البم پر ایک گانے میں اُن کا ساتھ دیا۔ 15 سال کی عمر میں ناروے کی مشہور ریکارڈنگ کمپنی چرچ ثقا فتی ورکشاپ نے دیا کو سائن کیا اور " I Alt Slags Lys " کے نام سے اُن کا پہلا سولو البم جاری کیا۔ یہ البم مشرقی اور مغربی موسیقی کا امتزاج تھا اور اسکی تیاری میں ناروے کے نامور موسیقارو ں کے علاوہ پاکستان کے مایہ ناز طبلہ نواز استاد شوکت حسین اور ہندوستان کے مشہور سارنگی نواز استاد سلطان خان نے حصہ لیا۔ دیا خان کا دوسرا البم ستمبر 1995ء میں " بی ایم جی ایریسٹا " ( BMG/Arista ) نے دیا کے پیدائشی نام دیپیکا کے تحت جاری کیا۔ اس البم کی تیاری میں نارویجن پروڈیوسر تھور ایرک ھیرمانسن، ٹامی ٹی، اور انگریز پروڈیوسر نک سیلیٹو ( Nick Sillitoe ) نے حصہ لیا۔ دیا خان کا آخری البم "آٹا راکسس " ( Ataraxis ) کے نام سے 2007ء منظر عام پر آیا جس میں دو بار گریمی ایوارڈ یافتہ مشہور زمانہ پیانو نواز باب جیمز، مشہور گروپ دی پولیس کے گریمی ایوارڈ یافتہ گٹار نواز اینڈی سمرز اور ناروے کے ٹرمپٹ نواز نیلس پھیتر مولویر نے حصہ لیا۔ یہ البم کلاسیکی موسیقی، پاکستان اوو افغانستان کی لوک موسیقی اور الیکٹرونیکا کا حسین امتزاج تھا۔ اس تجرباتی البم کو موسیقی کے حلقوں میں بہت پذیرائی ملی۔ جن مختلف فنکاروں، موسیقاروں اور میوزک پروڈیوسروں نے دیا کی موسیقی سے استفادہ کیا ہے اور دیا کی موسیقی کے مختلف ٹکڑوں کواپنے موسیقی سے متعلقہ منصوبوں میں استعمال کیا ہے۔ ان میں نیلس پھیتر مولویر، سیب ٹیلر ، نووال, بون کرّشر ، لیقوڈ سٹرینجر ، مسالا ڈوسا ، مارک سمتھ ، فیوٹیلیٹی آرکسٹرا ، گائے چیمبرز اور پال اوکن فولڈ کے نام نمایاں ہیں۔

ریکارڈ پروڈیوسر[ترمیم]

"آٹا راکسس " کے بعد دیا خان نے عملی موسیقی سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ انہوں نے خود پرفارم کرنے کی بجائے اسٹیج کے پیچھے رہ کر مختلف منصوبوں پر کام کرنا شروع کر دیا۔ اس سلسلے کی سب سے پہلی کڑی " لسن ٹو دی بینڈ" تھا۔ جس میں مشرقی وسطیٰ، افریقا اور ایشیا کے اُن فنکاروں کو پیش کیا گیا جو اپنے ملکوں میں پابندیوں کا شکار ہیں، ریاستی یا غیر ریاستی جبر کی وجہ سے بیروں ملک ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں یا جیلوں میں بند پڑے ہیں۔[2] بین الاقوامی موسیقی کا یہ مجموعہ اکتوبر 2010 میں جاری ہوا اور اس کو ترتیب دینے میں فری میوز نے تعاون کیا۔ اس البم نے جہاں دیا کو استحصال کے شکار فنکاروں کے ہمدرد کے طور پر پیش کیا ہے، وہیں یہ البم یورپ کے ورلڈ میوزک چارٹ پر کئی مہینوں تک چھٹے نمبر پر پراجمان رہا ہے۔[3]

  • لسن ٹو دا بینڈ (Listen to the Banned) [4]
  • نارڈک وومن (Nordic Woman)
  • ایرانین وومن (Iranian Woman)
  • ایکو آف انڈس (Echo of Indus)

سِسٹرہڈ ( Sisterhood )[ترمیم]

سسٹرہڈ کا آغاز 2007ء میں مسلمان لڑکیوں کے ایک نیٹ ورک کے طور پر ہوا۔ جس کا مقصد مغربی ممالک میں مقیم مسلمان خواتین فنکاروں اور موسیقاروں کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا جہاں سے اُن کی تخلیقی اور فنکارانہ صلاحیتوں کو جلا اور اس کے اظہار کیلئے مواقع میسر ہوں۔ سسٹرہڈ اس کے علاوہ مسلمان خواتین کو مغربی معاشرے میں پیدا ہونے والے مسائل جیسے حقوق نسواں، نسل پرستی، محبت، جنس اور11 ستمبر کی بعد کی دنیا جیسے موضوعات پر بحث و مباحثےکے مواقع بھی مہیا کرتا ہے۔ سسٹرہڈ نے 2008ء میں "سسٹرہڈ آن لائن مکس ٹیپ" جاری کی۔ اس ٹیپ میں برطانیہ میں مقیم مختلف مسلمان ممالک سے تعلق رکھنے والی والی گلوکاراؤں اور شاعرات نے حصّہ لیا۔ 2016ء میں سسٹرہڈ کو ایک آن لائن رسالے کے شکل دے دی گئی۔ اس رسالے کی خاص بات اس میں لکھنے والی خواتین ہیں۔ جو صرف مسلمان ہیں۔

فلم سازی[ترمیم]

دیا خان نے غیرت کے نام پر خواتین کے قتل کے موضوع پر آگاہی پیدا کرنے کیلئے باناز اے لو سٹوری نامی ایک دستاویزی فلم بنائی ہے، جو 2012ء میں برطانیہ کے ایک فلمی میلے میں نمائش کیلئے پیش ہوئی۔ اس فلم کو اپنے موضوع کی اہمیت کی وجہ سے مغربی ممالک میں بہت پزیرائی ملی ہے۔ اس فلم نے ناروے کیلئے پہلی بار "حالات حاضرہ" جیسے معتبر اور مشکل زمرے میں بہترین عالمی دستاویزی فلم کا ایمی ایوارڈ جیتا، اس کے علاوہ امریکا کے پی باڈی ایوارڈ اور برگن عالمی فلمی میلے میں بھی پہلے انعام کی حقدار قرار پائی۔ ان اعزازت کے علاوہ فلم کو برطانوی پولیس کی تربیت کے نصاب میں بھی شامل کیا گیا۔

فلمیں[ترمیم]

فلم
سال نام شعبہ تفصیل طرز
2017 وائٹ رائٹ: میٹنگ دی اینیمی
White Right: Metting The Enemy
ہدایت کار و فلم ساز دستاویزی
2016 اسلامز نان بیلیورز
Islam's Non-Believers
ہدایت کار و فلم ساز دستاویزی
2015 جہاد: اے سٹوری آف دی ادرز
Jihad: A Story of the Others
ہدایت کار و فلم ساز نیویارک انڈیپینڈنٹ فلم اینڈ ویڈیو فیسٹول سے بہترین دستاویزی فلم کا اعزاز جیتا۔ جہاد کے موضوع پر بننے والی فلم پر نارویجن وزارت ثقافت و فن سے انسانی حقوق کا اعزاز پایا۔[5] برطانیہ کے مشہور گریئرسن ایوارڈ کیلئے نامزدگی [6] بافٹا ایوارڈ کیلئے نامزدگی[7] گولڈن نیمف ایوارڈ کیلئے نامزدگی دستاویزی
2012 باناز اے لو سٹوری
Banaz a Love Story
ہدایت کار و فلمساز

(2013) پی باڈی ایوارڈ جیتا (2013) بہترین دستاویزی فلم کا جیتا ایمی ایوارڈ (2013) میں برگن انٹرنیشنل فلم فیسٹول سے بہترین نارویجن دستاویزی فلم کا اعزاز جیتا رائل ٹیلیویژن سوسائٹی برطانیہ میں حالت حاضرہ کے شعبہ میں نامزدگی

دستاویزی

اعزازات[ترمیم]

  • 2016ء میں یونیسکو نے دیا خان کو "فنی آزادی و خلاقیت" کے شعبے میں خیر سگالی کے زمرے میں اپنا سفیر نامزد کیا۔ دیا خان اس زمرے کی پہلے سفیر ہیں۔
  • 2016ء میں دیا کو ٹیلی نار نے آزادی اظہار کیلئے کام کرنے اور فنی کاوشوں پر اپنے ثقافتی اعزاز سے نوازا
  • 2016ء میں دیا کو پیئر گنٹ اعزاز سے نواز گیا، یہ اعزاز ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو ناروے کا نام عالمی سطح پر روشن کریں، اس اعزاز کو پانے والے کا چناؤ نارویجن پارلیمنٹ کرتی ہے
  • 2016ء میں دیا کو گنار ستونسیبی میموریل فنڈ نے اپنے اعزاز سے نوازا۔ یہ اعزاز ان تنظیموں اور لوگوں کو دیا جاتا ہے جو مادر وطن کی جمہوریت جیسی بنیادی اقدار اور ملک کی سالمیت کیلئے کام کرتے ہیں
  • 2015ء میں ناروے کی وزارت ثقافت و فن نے جہاد کے موضوع پر بنائی گئی دستاویزی فلم پر ہیومن ایوارڈ سے نوازا
  • 2015ء میں یونیورسٹی آف اوسلو نے حقوق نسواں اور آزادی اظہار کی پرجوش کارکن ہونے اور اس کیلئے عملی جدوجہد کی وجہ سے یونیورسٹی آف اوسلو ہیومن ایوارڈ سے نوازا
  • 2015ء میں دیا کو لڑکیوں کا ایوارڈ ((Jentepris )) دیا گیا، یہ ایوارڈ11 اکتوبر کو لڑکیوں کا بین الاقوامی دن منانے والی تنظیموں کی نارویجن شاخ اس دن کی مناسبت سے دیتی ہے۔
  • 2013ء میں دیا کو لبرٹی ہیومن رائٹس آرٹس ایوارڈ (Liberty Human Rights Arts Award)کیلئے نامزد کیا گیا۔
  • 2013ء میں بناز اے لو سٹوری پر دیا کو ایمی ایوارڈ اور برگن فلمی میلے میں بہترین فلم کا اعزاز دیا گیا
  • 2013ء میں دیا خان کو اس کی فلم کیلئے امریکا کا پی باڈی ایوارڈ دیا گیا
  • 2012ء میں دیا کو آزادی اظہار کی خدمات کی وجہ سے پین انٹرنیشنل کی نارویجن شاخ نے اوسی ایتسکی اعزاز سے نوازا۔
  • 2008ء میں دیا کو فریڈم ٹو کری ایٹ ( Freedom to Create Prize ) انعام سے نوازا گیا ۔ دیا کے علاوہ یہ انعام زمبابوے کے تمثیل نگار کونٹ مہلنگا اور بیلارس کے بیلارس فری تھیٹر کو بھی دیا گیا
  • 1996ء میں ناروے کے شائبلرز لیگات نے دیا کو پاکستانی اور ناروینی تہذیب کے درمیان میں پُل کا کام کرنے اور رواداری کا ماحول قائم کرنے کی کوشش پر انعام سے نوازا۔

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی: https://tools.wmflabs.org/wikidata-externalid-url/?p=345&url_prefix=http://www.imdb.com/&id=nm1821069 — اخذ شدہ بتاریخ: 18 جولا‎ئی 2016
  2. Tracy McVeigh (2010-12-05)۔ "Banned singers join together for an album of hope"۔ www.guardian.co.uk۔ اخذ کردہ بتاریخ 2010-12-05۔ 
  3. "World Music Charts Europe"۔ جولائی 2010۔ اخذ کردہ بتاریخ 2010-12-19۔ 
  4. Howard Male (2010-12-12)۔ "Album: Various artists, Listen to the Banned (Freemuse)"۔ www.independent.co.uk۔ اخذ کردہ بتاریخ 2010-12-19۔ 
  5. Sveinung Stoveland (4 نومبر 2015)۔ "Deeyah Khan får menneskerettspris for modig film om religiøse krigere" (no زبان میں)۔ www.dagbladet.no۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 نومبر 2015۔ 
  6. NTB (29 جولائی 2016)۔ "Deeyah Khan nominert til prestisjetung britisk dokumentarpris for Jihad-film" (no زبان میں)۔ www.medier24.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 جولائی 2016۔ 
  7. "Television in 2016- Television/ Current Affairs on 2016"۔ www.bafta.org۔ 30 مارچ 2016۔ اخذ کردہ بتاریخ 30 مارچ 2016۔