قاری غلام رسول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مولانا قاری غلام رسول
معلومات شخصیت
پیدائش 1935ء
لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 9 مارچ2014ء
لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت پاکستانی
مذہب اسلام
عملی زندگی
مادر علمی دارالعلوم حزب الاحناف
P islam.svg باب اسلام

زینت القراء قاری غلام رسول(پیدائش: 1935ء— وفات: 9 مارچ 2014ء) ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ذریعے پاکستان بھر میں زینت القراء کی پہچان رکھنے والے جوتمغا حسن کارکردگی سے نوازے گئے۔

ولادت[ترمیم]

عالمی شہرت یافتہ قارئِ قرآن مولانا قاری غلام رسول کی ولادت(1935ء میں لاہور کے قریبی گاؤں سلامت پورہ میں پیدا ہوئے۔

تعلیم وتربیت[ترمیم]

دار العلوم حزب الاحناف سے عربی اور فارسی کی کتابیں پڑھیں قاری عبدالمالک سے قرات کا فن سیکھا

عملی زندگی[ترمیم]

پچاس برس سے زیادہ عرصے تک مختلف محافل، ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن پر تلاوت قرآن پاک کا شرف حاصل کیا۔ انھوں نے خود بھی قرأت کی تعلیم کے لیے فعال کردار ادا کیا۔ ہزاروں قراء اور حفاظِ قرآن کے استاد تھے اور اپنی حسنِ تلاوت کی وجہ سے پوری دنیا میں جانے جاتے تھے۔ انہوں نے کئی مدارس قائم کیے اور تلاوت قرآن کو ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے پوری دنیا میں نشر کیا اور علم ِ تجوید پر کتب بھی لکھیں۔

  • انجمن فروغ تجوید و قرأت قائم کی
  • جامعہ تجوید القرآن قائم کیا
  • عالمی مقابلوں میں حصہ لیا کئی گولڈ میڈل حاصل کیے،

ریڈیو پاکستان اور ٹیلی ویژن پر مسلسل 50سال تک قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہے اور بے شمار ایوارڈ حاصل کئے۔ جامعہ نعیمیہ میں تدریس کے بعد اپنے پانچ مدارس قائم کئے ۔ انہوں نے مختلف ممالک میں حسن قرات کی محافل میں پاکستان کی نمائندگی کی۔لاہور، اسلام آباد ، کینیڈا، برطانیہ میں ان کی زیر نگرانی تجوید و قرات کے مدارس دین اسلام کی ترویج و اشاعت میں مصروف عمل ہیں۔ انہوں نے 1974ء کے قومی اسمبلی کے تاریخ ساز اجلاس میں مولانا شاہ احمد نورانی کی قرارداد پر اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جب قادیانیوں کے غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا اعلان کیا اس اجلاس میں تلاوت قرآن پاک کا شرف قاری غلام رسول کے حصہ میں آیا۔ عظیم الشان سنی کانفرنسوں 1970ء میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، 78ء میں ملتان سنی کانفرنس، 79ء میں رائے ونڈ میلاد المصطفیٰ ؐ کانفرنس کا آغاز قاری صاحب کی تلاوت سے ہوا۔ تقریباً 60سال سے حضور داتا گنج بخشؒ کے سالانہ عرس مبارک کی تمام تقریبات کا آغاز قاری صاحب کی تلاوت سے ہوتا تھا بیرون ممالک میں ان کی تلاوت سن کر بہت سے غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوئے۔ انہوں نے متعدد مرتبہ مختلف چینلوں اور ریکارڈنگ کمپنیوں کو حدر اور ترتیل میں قرآن پاک بمعہ ترجمہ اور بغیر ترجمہ کے ریکارڈ کروائے۔ قاری غلام رسول مولانا شاہ احمد نورانی اور مولانا عبدالستار خان نیازی کے با اعتماد دوستوں میں سے تھے۔ انہوں نے تین بیٹے قاری مبشر رسول، قاری مدثر رسول اور قاری مزمل رسول، چار بیٹیاں اور ہزاروں شاگرد سوگوار چھوڑے

تمغا حسن گارکردگی[ترمیم]

14 اگست 1985ء کو حکومت پاکستان نے انھیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔مفتی محمد حسین نعیمی نے انہیں ’’زینت القرا‘‘ کے خطاب سے نوازا ۔

وفات[ترمیم]

قاری غلام رسول کا انتقال 79 برس کی عمر میں 9 مارچ 2014ء کو لاہورمیں ہوا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرہ علمائے اہل سنت و جماعت لاہور، ص 425اقبال احمد فاروقی،پیر زادہ ،مکتبہ نبویہ لاہور

بیرونی حوالہ جات[ترمیم]