عزیز میاں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(عزیز میاں قوال سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
عزیز میاں
Aziz-Mian-Qawal bb.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 17 اپریل 1942  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 6 دسمبر 2000 (58 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تہران  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فنی زندگی
صنف قوالی  ویکی ڈیٹا پر طرز (P136) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آلات موسیقی ہارمونیم,، صوت  ویکی ڈیٹا پر آلۂ موسیقی (P1303) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادر علمی جامعہ پنجاب  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ گلو کار  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات

عزیز میاں (ولادت: 17 اپریل، 1942ء، وفات: 6 دسمبر، 2000ء) پاکستان کے چند مقبول ترین قوالوں میں سے ہیں۔ ان کی پیدائش بھارت کے شہر دہلی میں ہوئی۔ انہوں نے دس برس کی عمر میں قوالی سیکھنا شروع کی اور سولہ سال کی عمر تک قوالی کی تربیت حاصل کرتے رہے۔ عزیزمیاں نے پنجاب یونیورسٹی سے اردو اور عربی میں ایم اے کی تعلیم حاصل کی۔ ان کی مشہور قوالیوں میں تیری صورت، مجھے آزمانے والے، میں شرابی شرابی، اللہ ہی جانے کون بشر ہے، نبی نبی یا نبی شامل ہیں۔ طویل قوالی اور حشر کے روز ہی پوچھوں گا۔ انھوں نے خود لکھی‘ خود کمپوز کی۔ ان کی قوالیاں سننے والوں پرآج بھی وجد طاری کر دیتی ہے۔ حکومت نے ان کو کئی اعزازات سے نوازا۔ 1989ء میں پرائڈ آف پرفارمنس بھی دیا۔

عزیز میاں کا شمار قدرے روایتی قوالوں میں ہوتا تھا۔ ان کی آواز بارعب اور طاقتور تھی۔ لیکن ان کی کامیابی کا راز صرف ان کی آواز نہیں تھی۔ عزیز میاں نہ صرف ایک عظیم قوال تھے بلکہ ایک عظیم فلسفی بھی تھے، جو اکثر اپنے لیے شاعری خود کرتے تھے۔ عزیز میاں نے پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے اردو اور عربی میں ایم اے کیا ہوا تھا۔

ان کا اصل نام عبد ا لعزیز تھا۔ "میاں" ان کا تکیہ کلام تھا، جو وہ اکثر اپنی قوالیوں میں بھی استعمال کرتے تھے، جو بعد میں ان کے نام کا حصہ بن گیا۔ انہوں نے اپنے فنی دور کا آغاز "عزیز میاں میرٹھی" کی حیثیت سے کیا۔ میرٹھی کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد عزیز میاں نے بھارت کے شہر میرٹھ سے اپنے وطن کی طرف ہجرت کی تھی۔

انہیں اپنے ابتدائی دور میں "فوجی قوال" کا لقب ملا کیونکہ ان کی شروع کی سٹیج کی بیشتر قوالیاں فوجی بیرکوں میں فوجی جوانوں کے لیے تھیں۔

مختلف قسم کے معمولی الزامات پر انہیں کئی دفعہ گرفتار کیا گیا لیکن بعد ازاں بری کر دیا گیا۔

عزیز میاں کی قوالیوں میں زیادہ توجہ کورس گائیکی پر دی جاتی تھی جس کا مقصد قوالی کے بنیادی نکتہ پر زور دینا تھا۔ عزیز میاں کو شاعری پڑھنے میں کچھ ایسی مہارت حاصل تھی جو سامعین پر گہرا اثر چھوڑ جاتی تھی۔ ان کی بیشتر قوالیاں دینی رنگ لیے ہوئے تھیں گو کہ انہوں نے رومانی رنگ میں بھی کامیابی حاصل کی تھی۔ عزیز میاں کی مقبول ترین قوالیاں "میں شرابی میں شرابی" (یا "تیری صورت") اور "اللہ ہی جانے کون بشر ہے" شامل ہیں۔

میں شرابی[ترمیم]

عزیز میاں کو اپنی قوالیوں میں دینی اور صوفی مسائل پر بحث کرنے میں مہارت حاصل تھی۔ وہ براہ راست خدا سے ہم کلام ہوتے اور اشرف المخلوقات کی قابل رحم حالت کی شکایت کرتے۔ خدا سے ہم کلام ہونے والی قوالیوں میں وہ زیادہ تر علامہ اقبال کی شاعری استعمال کرتے۔ مثلا عزیز میاں کے مندرجہ ذیل پسندیدہ اشعار پڑھیے:

باغِ بہشت    سے مجھے    اذنِ سفر دیا    تھا کیوں
کارِ    جہاں    دراز    ہے    اب    میرا    انتظار کر    

مجھے تو اس جہاں میں بس اک تجھی سے عشق ہے
یا   میرا   امتحان    لے    یا    میرا    اعتبار کر   

پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ مزاح کار عمر شریف نے ایک دفعہ عزیز میاں کے بارے میں ایک مزاحیہ شو میں کہا تھا: "لوگوں کے جھگڑے زمین پر ہوتے ہیں، اس کے جھگڑے آسمان پہ ہیں۔ یہ اللہ سے جھگڑا کرتا ہے"۔

صابری برادران نے عزیز میاں کی قوالی "میں شرابی میں شرابی" کو اپنی ایک قوالی "پینا وینا چھوڑ شرابی" میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ عزیز میاں نے اس کا ترکی بہ ترکی جواب اپنی ایک اور قوالی "ہائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں" میں دیا۔ عزیز کے صابری برادران کو جواب کے بعد سے "میں شرابی میں شرابی" اور "ہائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں" کو ایک ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

وفات[ترمیم]

عزیز میاں کا انتقال دسمبر2000ء کو تہران (ایران) میں یرقان کی وجہ سے ہوا۔ انہیں حضرت علی کرم اللہ وجہ کی برسی کے موقع پر ایرانی حکومت نے قوالی کے لیے مدعو کیا تھا۔ عزیز میاں کے دو بیٹے، عمران اور تبریز، ان کے ورثہ کو اپنائے ہوئے ہیں۔ دونوں قوالی کے انداز میں اپنے والد سے بہت مشابہت رکھتے ہیں۔ آپ کو بمطابق وصیت ان کے مرشد طوطاں والی سرکار ملتان کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابت[ترمیم]