غازی صلاح الدین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
غازی صلاح الدین
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1939 (عمر 79–80 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
رہائش کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ صحافی،  مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

غازی صلاح الدین پاکستان کے نامور صحافی، مصنف، ادیب، دانشور اور سیاسی تجزیہ کار ہیں ۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

غازی صلاح الدین انڈیا میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد والدین کے ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔ 1950 میں میٹرک کیا[1] اور بعد ازاں کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن کی۔ دورانِ تعلیم ہی صحافت سے وابستہ ہو گئے اور ہمیشہ سے ہی وسیع المطالعہ ہونے کے باعث ان کی سیاست اور حالاتِ حاضرہ پر بہت عمیق نگاہ رہی۔ انہوں نے پی ٹی وی کے پروگرام کسوٹی میں باقاعدہ شرکت کے باعث ملک گیر مقبولیت پائی ۔

صحافتی کیرئیر کا آغاز[ترمیم]

غازی صلاح الدین نے 1960 میں اس وقت کے انگریزی اخبار ڈی لیڈر میں رپورٹر کی حیثیت سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ 1966 میں انگریزی اخبار روزنامہ ڈان میں بطور رپورٹر کام کا آغاز کیا۔ اس کے علاوہ جنگ اخبار کے بچوں کے صفحہ پر بھی لکھتے تھے۔ نیوز انٹرنیشنل، جنگ اور دیگر کئی آن لائن انگریزی اردو اخبارات[2] اور مجلوں[3] میں ان کے کالم اور تحریریں شائع ہوئے ہیں ۔

ریڈیو اور ٹی وی پروگرامز[ترمیم]

غازی صلاح الدین نے 1969 میں ریڈیو پر پروگرامز بھی کیے اور پھر ٹیلی وژن پر جاوید جبار کے ساتھ ایک پروگرام تجزیہ پیش کرتے رہے۔ آرٹ اور ٹھیٹر سے متعلق یہ پی ٹی وی کا پہلا پروگرام تھا جو دو زبانوں انگریزی اور اردو میں پیش ہوتا رہا۔ اس کے بعد پی ٹی وی سے ہی ذہنی آزمائش کا پروگرام کسوٹی پیش کیا۔ جس میں قریش پور میزبان تھے اور غازی صلاح الدین کے ہمراہ افتخار عارف اور عبید اللہ بیگ ہوتے تھے ۔91- 1990 میںآج کا اخبار کے نام سے پی ٹی وی پروگرام کیا۔ اس کے علاوہ جیو کتاب [4] اور میں نہیں مانتا کے نام سے پروگرام پیش کیے اس کے علاوہ بھی انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن اور جیو نیوز پر حالات حاضرہ کے متعدد پروگرام پیش کیے ہیں ۔

کتب[ترمیم]

غازی صلاح الدین کے سفر ناموں پر مشتمل کتاب میرے دریا میرے سائل(صلاح الدین کے سفر نامچے ) [5] سنگ میل پبلی کیشنز نے شائع کی ہے۔

رکنیت[ترمیم]

  1. رکن آئی بی اے، کراچی
  2. رکن ہیومن رائٹس کونسل پاکستان
  3. پی آئی ایل اے ڈی اے ٹی (Pakistan Institute of Legislative Development and Transparency۔ PILADAT )کے ارکان
  4. کراچی کی فعال آرگنائزیشن آئی ایم کراچی (I AM KARACHI )کے بانی ممبر ہیں ۔

صدارتی ایوارڈ[ترمیم]

23 مارچ 2017 کو غازی صلاح الدین کو ادب اور صحافت میں حسنِ کارکردگی پر صدارتی ایوارڈ دیا گیا ۔[6]

حوالہ جات[ترمیم]