علی امام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
علی امام
علی امام
علی امام

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1924  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
نارسینگھپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 2002 (77–78 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
قومیت پاکستانی
پیشہ مصور

علی امام (1924ء2002ء) ایک مشہور پاکستانی مصور تھے۔[1]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

مشہور پاکستانی مصور مدھیہ پردیش کے شہر نرسنگھ پور میں پیدا ہوئے اور آرٹ کی تعلیم کی ابتدا ناگپور اسکول آف آرٹس سے کی اور پھر جے جے اسکول آف آرٹ بمبئی چلے گئے۔انہوں نے کچھ عرصہ گورڈن کالج راولپنڈی میں آرٹ کی تدریس کے فرائض بھی انجام دیئے۔

لاہور آمد[ترمیم]

علی امام کی تخلیق

اس کے بعد لاہور آ گئے۔ یہ سن پچاس کا زمانہ تھا اور لاہور اس وقت فن مصوری کا مرکز تھا۔ اس وقت لاہور میں فنکاروں کا ایک گروپ تو وہ تھا جو روایتی مصوری سے جڑا ہوا تھا اور ایک اس کے بر عکس جدت پسند تھا۔ اس جدت پسند حلقے نے لاہور آرٹ سرکل کے نام سے ایک تنظیم بنائی ۔جس کا نام انڈس آرٹ گیلری رکھا ۔ اس کے ذریعے انہوں نے آرٹ کی زبردست خدمت کی اور اس کے تحت مصوری کے جدید فن پاروں کی نمائش کی جاتی رہی۔ یوں تو اس گروپ میں کئی لوگ تھے مگر چند مصور زیادہ سرگرم تھے اور ان میں علی امام، احمد پرویز، انور جلال شمزا اور معین نجمی کے نام قابل ذکر ہیں۔

لندن کا سفر[ترمیم]

علی امام کی تخلیق

سن چھپن میں علی امام مصوری کی اعلی تعلیم کے لیے لندن چلے گئے۔ پہلے انہوں نے سینٹ مارٹن کالج آف آرٹ میں اور پھر ہیمر اسمتھ کالج میں مصوری کی تعلیم اور تربیت حاصل کی۔ان دنوں احمد پرویز اور انور جلال شمزا بھی لندن ہی میں تھے۔ یہاں بھی ان تینوں نے مل کر پاکستانی مصوروں کا ایک گروپ بنایا جو پاکستان گروپ آف آرٹ کہلاتا تھا۔

وطن واپسی[ترمیم]

علی امام کی تخلیق

علی امام سن سڑسٹھ میں جب لندن سے پاکستان واپس آئے تو اس وقت مجسمہ ساز اور مصور آذر زوبی سینٹرل اسکول آف آرٹ اینڈ کرافٹ کے سربراہ تھے- علی امام بھی اس ادارے سے وابستہ ہو گئے۔ مگر یہ کام ان کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں تھا اس لیے انہوں نے ملازمت ترک کرکے 1971ء میں انڈس آرٹ گیلری قائم کی جو آج بھی قائم ہے۔

علی امام نے اس گیلری کے ذریعے آرٹ کی جو خدمت کی اس کی مثال کم از کم پاکستان میں نہیں ملتی۔ انہوں نے تجارتی بنیادوں پر چلنے والی آرٹ گیلری کو ایک ادارہ بنا دیا۔ یہ علی امام کی شخصیت کی کشش تھی۔ وہ مشرق و مغرب میں اس فن کے تمام رحجانات کے واقف ہی نہیں ان پر محیط بھی تھے۔

ایک زمانہ تھا کہ وہ سرگرم کمیونسٹ تھے لیکن آخری دنوں میں وہ تصوف کا مطالعہ کرنے لگے ،یہ فکری تبدیلی تھی یا مزاج کی رنگا رنگی، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

وفات[ترمیم]

علی امام 23 مئی سنہ 2002ء کو کراچی میں دل کے دورے کی وجہ سے فوت ہوگئے تھے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 1.2 1.3 1.4 1.5 http://www.dawn.com/news/37023, 'Ali Imam laid to rest' on Dawn newspaper, Published 24 May 2002, Retrieved 19 November 2016