زہرا نگاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
زہرا نگاہ
پیدائش فاطمہ زہرہ
14 مئی 1937ء (عمر 82 سال)
حیدرآباد، دکن، برطانوی ہندوستان
قلمی نام زہرا نگاہ
پیشہ شاعرہ
زبان اردو
نسل مہاجر
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
اصناف غزل، نظم
نمایاں کام شام کا پہلا تارا
ورق
اہم اعزازات صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی

زہرا نگاہ (پیدائش: 14 مئی، 1937ء) پاکستان سے تعلق رکھنے و الی اردو زبان کی بقید حیات نامور شاعرہ ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

محترمہ زہرا نگاہ 14 مئی، 1937ء حیدرآباد، دکن، برطانوی ہندوستان میں علمی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔[1] ان کا اصل نام فاطمہ زہرہ ہ ہے۔ آپ کے والد قمر مقصود کا شمار بدایوں کے ممتاز لوگوں میں ہوتا ہے۔ جبکہ مشہور ڈراما نویس فاطمہ ثریا بجیا آپ کی بڑی بہن اور مقبول عام ہمہ جہت رائٹر انور مقصود بھائی ہیں۔ زہرا نگاہ کا خاندان تلاش معاش میں حیدر آباد دکن میں آباد ہو گیا۔ تقسیم ہند کے بعد زہرا نگاہ اپنے خاندان کے ساتھ حیدر آباد دکن سے ہجرت کر کے کراچی آ گئیں اور یہیں پر اپنی تعلیم مکمل کی۔[2]

زہرا نگاہ کو شعر و سخن کا ذوق ورثہ میں ملا۔ اس لیے آپ نے صرف گیارہ سال کی عمر میں ایک نظمگڑیا گڈے کی شادی لکھی۔ زہرا نگاہ نے جگر مراد آبادی کو اصلاح کی غرض سے ابتدائی کلام دکھایا مگر جگر مراد آبادی نے یہ کہہ کر اصلاح سے انکار کر دیا کہ تمہارا ذوقِ مستحسن خود ہی تمہارے کلام کی اصلاح کر دے گا۔[2]

تنقیدی جائزہ[ترمیم]

زہرا نگاہ کے کلام میں روزمرہ کی زندگی کے جذباتی معاملات ہیں، جنہیں زہرا صنف نازک کی شاعری کہتی ہیں۔ جیسے ملائم گرم سمجھوتے کی چادر، قصیدہ بہار، نیا گھر، علی اور نعمان کے نام، سیاسی واقعات کے تاثرات بھی، وہ وعدہ بھی جو انسانوں کی تقدیروں میں لکھا ہے اور محض تغزل بھی۔ ان منظومات میں نہ جدیدیت کے غیر شاعرانہ جذبات کا کوئی پرتو ہے اور نہ رومانویت کی شاعرانہ آرائش پسندی کا کوئی دخل ہے۔ روایتی نقش و نگار اور آرائشی رنگ و روغن کا سہارا لیے بغیر شعر کہنا زہرا نگاہ کے شعری اسلوب کا خاصا ہے۔ تشبیہ و استعارے سے عاری ایک آدھ بلیغ مصرع جس سے پوری نظم کا سراپا جھلملانے لگے، اس کی سب سے اچھی مثال زہرا کی نظم شام کا پہلا تارا ہے۔ ان کی تخلیقات میں شام کا پہلا تارا ، ورق اور فراق شامل ہیں۔[2]

نمونۂ کلام[ترمیم]

غزل

جنونِ اولیں شائستگی تھی​ وہی پہلی محبت آخری تھی
کشادہ تھے بہت بازوِ وحشت​ یہ زنجیرِخرد الجھی ہوئی تھی​
جہاں ہم پھر سے بسنا چاہ رہے تھے​ وہ بستی ہُو کی دنیا ہو چکی تھی​
کبھی اک لفظ کے سو سو معانی​ کبھی ساری کہانی اَن کہی تھی​
اب اپنے آپ سے بھی چُھپ گئی ہے​ وہ لڑکی جو سب کو جانتی تھی​​
سحر آغاز، شب اتمامِ حجت​ عجب زہرا کی وضعِ زندگی تھی​[3]

اعزازات[ترمیم]

حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے صلے میں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی کا اعزاز عطاکیا۔[2]

تصانیف[ترمیم]

  • شام کا پہلا تارا
  • ورق
  • مجموعہ کلام (کلیات)
  • فراق

حوالہ جات[ترمیم]