مائی بھاگی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مائی بھاگی
Mai Bhaghi of Sindh.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1920  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مٹھی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 7 جولا‎ئی 1986 (65–66 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ضلع تھرپارکر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
فنی زندگی
آلات موسیقی صوت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آلۂ موسیقی (P1303) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ گلو کارہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان سندھی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

مائی بھاگی (انگریزی: Mai Bhaghi) (پیدائش: 1920ء - وفات: 7 جولائی 1986ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والی نامور لوک گلوکارہ تھیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

مائی بھاگی 1920ء کو ضلع تھرپارکر، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئیں[1]۔ مائی بھاگی کو بھاگ بھری ( خوش نصیب) کا نام بھی دیا گیا۔ انہوں نے کم عمری سے ہی اپنے والدین کے ساتھ آواز سے آواز ملائی۔مائی بھاگی کا تعلق ایک ایسے غریب گھرانے میگواڑ برادری سے تھا جو ڈیپلو اور آس پاس کے دیہاتوں میں شادی بیاہ کے موقع پر سہرے لوک گیت گاکر اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔ ابتدا میں مائی بھاگی نے گلوکاری کا فن اپنی والدہ مائی خدیجہ سے حاصل کیا وہ اپنے والدین کے ساتھ شادیوں اور تہواروں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتی رہیں۔ ان کا نام 1968ء میں اس وقت منظرِ عام پر آیا جب بھالو ( ماروی کے گاؤں) میں منعقدہ جشنِ ماروی کی ایک تقریب میں انہوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اسی سال شیخ غلام حسین نے انہیں ریڈیو پاکستان حیدرآباد اور پاکستان ٹیلی ویژن پر گانے کے لیے بلایا۔ شیخ غلام حسین بین الاقوامی شہرت یافتہ لوک فنکارہ، عابدہ پروین کے شوہر تھے۔ سولہ برس کی عمر میں ان کی شادی ہوتھی فقیر سے ہو گئی جو تھرپارکر کے شہر اسلام کوٹ کے ممتاز لوک فنکار تھے۔[2]

مائی بھاگی نے تھر کے ایک اور مشہور گلوکار استاد مراد فقیر کے ساتھ مختلف زبانوں میں گانے گئے جن میں سرائیکی، مارواڑی، سندھی اور برصغیر کی دیگر زبانیں شامل ہیں۔ اس کے بعد ان کی شہرت پاکستان کے طول و عرض میں پھیل گئی اور یہاں سے نکل کردنیا کے دیگر علاقوں تک جاپہنچی۔ ان کی وجہ شہرت جو گانا بنا وہ کھڑی ہوں نیم کے نیچے تان ہیکلی تھا۔ یہ گانا ان لوگوں نے بھی پسند کیا جو زبان سے ناواقف تھے۔[2]

اعزازات[ترمیم]

حکومت پاکستان نے موسیقی کے میدان میں ان کی شاندار خدمات کے نتیجے میں مائی بھاگی کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں1981ء کو صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔ اسی طرح ریڈیو پاکستان سے شاہ عبد الطیف بھٹائی ایوارڈ، قلندر لعل شہباز اور سچل سرمست ایوارڈ کے علاوہ درجنوں اعزازات اور انعامات دیے گئے۔[2]

وفات[ترمیم]

مائی بھاگی 7 جولائی، 1986ء کو ضلع تھرپارکر، پاکستان میں وفات پاگئیں۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]