عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی
Attaullah Khan Esakhailvi.JPG 

معلومات شخصیت
پیدائش 19 اگست 1951 (68 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
میانوالی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ گلو کار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر

عطاء اللہ خان عیسی خیلوی کا تعلق میانوالی کے علاقے عیسی خیل کے نیازی خاندان سے ہے۔ انہیں لالہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ فوک گلوکار کے طور پر مشہور ہے۔ عطاء اللہ خان نے سرائیکی، پنجابی اور اردو سمیت سات زبانوں میں پچاس ہزار سے زائد گیت گائے ہیں۔

پیدائش[ترمیم]

عطاء اللہ خان عیسی خیلوی کی پیدائش بروز 19 اگست 1951ء کو احمد خان نیازی کے گھر ہوئی۔ آپ کی جائے پیدائش محلہ بھمبراں عیسی خیل ضلع میانوالی ہے۔ عیسی خیلوی کا تعلق متوسط درجے کے نیازی گھرانے سے تھا۔ [2]

سلسلہ نسب[ترمیم]

عطاء اللہ خان عیسی خیلوی کا عیسی خان نیازی اور اس سے آگے نیازی خان تک سلسلہ نسب کچھ یوں ہے۔

عطاء اللہ خان بن احمد خان بن فلک شیر خان بن محمد عبد العزیز خان بن محمد خان بن عمر خان بن خان زمان خان بن دلیل خان بن چنگی (جھنگی) خان بن فتح خان بن بیرم خان بن دلاور خان بن شیر خان بن دلو (زکو ثانی) خان بن خواجہ خان بن زکو خان بن عیسی خان نیازی بن عمر خان بن خڑ خان بن جام (زام) خان بن تور خان بن حبیب (حمیم) خان بن وگن خان بن جمال خان بن نیازی خان [3]

ابتدائی حالات[ترمیم]

عطاء اللہ عیسی خیلوی نے مڈل تک تعلیم اپنے محلے کے سکول سے حاصل کی۔ میڑک کی ڈگری گورنمٹ بوائز ہائی سکول عیسی خیل سے حاصل کی۔ [4] عطاء اللہ کو بچپن ہی سے موسیقی کا شوق تھا اس لیے سکول میں نعت، حمد، نظمیں اور ترانے پڑھا کرتے تھے۔ [5] میڑک کے بعد ایف اے کی ڈگری گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج عیسی خیل سے حاصل کی۔ [6] عیسی خیل کے شمالی بازار میں عطاء اللہ کے والد کی آٹا کی مشین تھی جہاں پر اس نے میڑک تک باقاعدہ طور پر والد کا ہاتھ بٹھایا۔ بی اے کی تعلیم پرائیوٹ طور پر حاصل کی۔ تعلیم کے بعد آٹا مشین چھوڑ کر عطاء اللہ نے عیسی خیل کے بازار میں الصدف جنرل سٹور بنا لیا اور والد صاحب کے ساتھ اسی کام میں لگ گئے۔ والد صاحب عطاء اللہ کو بڑا افسر بننا دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کے بقول گانا بجانا مراثیوں کا کام ہے۔ اس وجہ سے والد اپنے بیٹے پر سختی بھی کرتے اور ساتھ میں مار پیٹ بھی کرتے تھے۔[7]

فنی کیریئر[ترمیم]

عطاء اللہ خان عیسی خیلوی کی فنی زندگی دو حصوں پر مشتمل ہیں کیونکہ ان کو پروفشنل گلوکاری سے پہلے بہت مشکلات درپیش آئیں۔

ابتدائی مشکلات[ترمیم]

عطاء اللہ عیسی خیلوی کو بچپن ہی سے موسیقی کا شوق تھا لیکن والد صاحب اس چیز کے سب سے زیادہ مخالف تھے۔ ان کے بقول گانا بجانا مراثیوں (نیچی ذات جو شادی بیاہ پر کام بھی کرتے ہیں اور گانا بجانا بھی کرتے ہیں) کا کام ہے۔ اس وجہ سے والد عطاء اللہ پر سختی بھی کرتے تھے اور مار پیٹ بھی کرتے تھے۔ آخر کار اس نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ گانا بجانا ہے تو گھر چھوڑ دو۔ 1972ء میں عطاء اللہ خان نے بے سرو سامانی کی حالت میں گھر چھوڑ کر کراچی چلے گئے۔ اس وقت ان کے پاس کل اثاثہ جسم پر ایک جوڑا کپڑوں کا، پاؤں میں چپل، کندھے پر ایک چادر اور چند روپے جیب میں تھے۔ تین سال تک ادھر کراچی میں ایک چھوٹے سے کمرے میں رہائش رکھی جس کا کرایہ دس روپے تھا اور اس کمرے میں عیسی خیل کے چند اور مزدور بھی ساتھ رہتے تھے۔ کراچی میں دن کو محنت مزدوری کرتے اور رات کو اپنا شوق گانا بجانا پورا کرتے۔ تین سال بعد گھر واپس آئے جس کی وجہ بہن کی وفات بنی تھی۔ منور علی ملک نے عطاء اللہ کو خط لکھا جس میں بہن کی وفات کی خبر درج تھی۔ گھر دوبارہ چھوڑ کر لاہور چلے گئے جہاں عطاء اللہ ہوٹل پر بیرا گیری کرتے تھے۔ کچھ عرصہ ٹرک کلینز بھی رہے، رکشہ بھی کرایہ پر چلاتے رہے۔ چھ سال عطاء اللہ عیسی خیلوی نے اسی طرح مشکلات میں گزاریں۔

پیشہ ور گلوکاری[ترمیم]

1978ء میں عطاء اللہ خان عیسی خیلوی نے ریڈیو پاکستان بہاولپور میں پرفارم کرنے کا موقع ملا۔ اسی سال پاکستان ٹیلی وژن کراچی کے پروگرام نیلام گھر میں پرفارم کیا۔ [8] ریڈیو پاکستان بہاولپور سے عطاء اللہ خان عیسی خیلوی کو 25 روپے کا چیک ملا تھا جو اب کہتا ہے کہ اگر کوئی مجھے 25 لاکھ بھی دے تو میں اس کو یہ چیک نہیں دوں گا۔ [9] 1979ء میں فیصل آباد کے چوہدری رحمت علی نے اپنے آڈیو سٹوڈیو رحمت گرافون ہاؤس میں عطاء اللہ عیسی خیلوی کے چار آڈیو والیم ریکارڈ کروائے۔ [10] چوہدری رحمت علی کی عطاء اللہ سے کوئی واقفیت نہیں تھی۔ اس کے ہاتھ عطاء اللہ کی آواز والی ایک کیسٹ لگی جس کو سن کر وہ عطاء اللہ کی آواز کے دیوانے ہو گئے اور خود پوچھتے ڈھونڈتے عیسی خیل جا پہنچے۔ اس نے عطاء اللہ کو ابلم ریکارڈ کروانے کے لیے راضی کر لیا۔ تب جا کر عطاء اللہ نے پیشہ ورانہ گانا شروع کیا۔ [11] ان البم کا باری باری ریلیز ہونا تھا کہ اس کی آواز وطن عزیز کے کونے کونے تک پہنچ گئی۔ اتنی شہرت کے باوجود عطاء اللہ کے والد اپنی بات پر ہی قائم رہے اور یہاں تک خلاف رہے کہ والد نے صاف منع کر دیا کہ تم اپنے نام کے ساتھ نیازی بھی نہہں لگا سکتے اسی وجہ سے عطاء اللہ خان نے اپنے نام کے ساتھ عیسی خیلوی لگا رکھا ہے۔ [12] عطاء اللہ خان عیسی خیلوی نے سات زبانوں میں پچاس ہزار سے زائد گیت ریکارڈ کرائے جن میں نوے فیصد سے زائد گانے ان کی ماں بولی سرائیکی میں ہے۔ [13] عطاء اللہ عیسی خیلوی کے 600 سے زائد کیسٹ بازار میں موجود ہیں۔ [14] عطاء اللہ خان عیسی خیلوی اپنے گیتوں اور غزلوں کی وجہ سے پاکستان سمیت پورے دنیا میں مشہور ہیں۔ اس نے اسرائیل اور فلسطین کے علاوہ پوری دنیا میں شاید ہی کوئی ملک ہو جہاں اس نے اپنے فن کا مظاہرہ نہ کیا ہو۔ عطاء اللہ عیسی خیلوی وسیب کے واحد فنکار ہیں جن پر سب سے زیادہ لکھا گیا ہے۔ [15]

مشہور گانے[ترمیم]

عطاء اللہ عیسی خیلوی نے بہت زیادہ تعداد میں گیت گائے ہیں جن میں مقبولیت حاصل کرنے والے گیتوں کی طویل فہرست ہے۔ چند مشہور گانے درج ذیل ہیں۔

  1. قمیض تیڈی کالی
  2. ایہہ تھیوا مندری دا تھیوا
  3. ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا
  4. راتاں دیاں نیندراں
  5. وے بول سانول
  6. اونٹھاں والے ٹر جان گے
  7. عشق میں ہم تمہیں کیا بتائیں [16]
  8. آکھے واہ بلوچا بےپرواہ بلوچا [17]
  9. اچھا صلہ دیا تو نے میرے پیار کا
  10. عشق میں ہم تمہیں کیا بتائیں
  11. چن کھتا گزار آئی رات وے
  12. آج کالا جوڑا پا ساڈی فرمائش تے [18]
  13. انجے پنڈی تے پشور لگا جاندا عیسی خیل دور تے نئیں [19]
  14. جب آئے گا عمران سب کی جان بنے گا نیا پاکستان [20]

اعزاز[ترمیم]

عطاء اللہ خان عیسی خیلوی کو دنیا بھر سے اعزازات سے نوازا گیا ہے جن میں چند مشہور کے نام درج ذیل ہیں۔

  1. 14 اگست 1991ء کو حکومت پاکستان کی جانب سے تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا گیا  [21]
  2. 1992ء میں ملکہ برطانیہ نے لائف ٹائم چیف منٹ ایواڈ سے نوازا۔ [22]
  3. 1994ء میں سب سے زیادہ آڈیو البم (کیسٹ) ریکارڈ کرانے پر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام شامل کیا گیا۔
  4. 23 مارچ 2019ء کو حکومت پاکستان نے فن کے شعبے میں بہترین خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز سے نوازا۔ [23]


فلم انڈسٹری[ترمیم]

عطاء اللہ عیسی خیلوی نے اداکاری میں بھی اپنی قسمت آزمائی لیکن ناکام رہے۔ فلم  ڈائریکٹر نے اس کو کسی طرح اپنی فلمیں دل لگی اور زندگی میں اداکاری کے لیے راضی کر لیا۔ [24] فلم دل لگی میں فلم کی بجائے عطاء اللہ کا گانا دل لگایا تھا دل لگی کے لیے زیادہ مشہور ہوا۔ [25] اس کے علاوہ اس نے فلم ترازو اور قربانی میں بھی اداکاری کی۔ فلموں میں ناکامی کے بعد اپنی تمام توجہ گیتوں پر مرکوز کر دی۔ فلم بدمعاش ٹھگ اور منڈا بگڑا جائے میں پلے بیک سنگر کی حثیت سے گانے گائے۔ [26]

سیاست[ترمیم]

عطاء اللہ خان عیسی خیلوی نے سیاست میں حصہ لینا اس وقت شروع کیا جب وہ کالج میں پڑھتے تھے۔ اس وقت وہ ذو الفقار علی بھٹو کے سپوٹر تھے اور انہوں نے بھٹو صاحب کے ساتھ کام بھی کیا تھا۔ جب بھٹو نے نمبر گیم کے چکر میں میانوالی کے اس وڈیرے کو اپنے ساتھ ملا لیا جے عطاء اللہ کی فیملی دشمن سمجھتے تھے تو اس نے سیاست سے کنارہ کشی کر لی تھی۔ دوبارہ سیاست میں آنے میں عمران کی کوششیں شامل ہے۔ عمران خان اور ان جماعت پاکستان تحریک انصاف کے لیے 2013 میں عطاء اللہ خان نے جب آئے گا عمران سب کی جان بنے گا نیا پاکستان گایا ہے۔ اس گانے نے اتنی شہرت پائی کہ پی ٹی آئی کا کوئی جلسہ جلوس ہو سب میں یہ گانا لگایا جاتا ہے۔ [27] 2017ء میں بھی عطاء اللہ خان عیسی خیلوی نے مظہر نیازی کا لکھا ہوا ترانہ گایا جس نے پورے ملک میں یکساں مقبولیت حاصل کی۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس ترانے نے عمران خان کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کیا تو یہ بےجا نہ ہوگا۔[28]

خاندان[ترمیم]

عطاء اللہ خان کا خاندان چھوٹا سا ہے جس میں اس کے بہن بھائی، بیویاں اور اولاد شامل ہیں۔

بہن بھائی[ترمیم]

عطاء اللہ خان عیسی خیلوی کے والد کی اولاد میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل تھیں۔ بیٹوں میں عطاء اللہ خان اور ثناء اللہ خان شامل ہے۔ عطاء اللہ کی بڑی بہن وفات پا گئی ہے جبکہ چھوٹی بہن سکول ٹیچر ہے۔ ثناء اللہ خان کا راولپنڈی میں اپنا کاروبار ہے۔ 

ازواج[ترمیم]

عطاء اللہ خان نے اب تک پانچ شادیاں کیں ہوئیں ہیں۔ جن میں پہلی تین سے بات علیحدگی پر ختم ہو گئی۔ چوتھی شادی معروف اداکارہ بازغہ سے ہوئی جس سے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہوئی ہے۔ بازغہ انگلینڈ میں رہائش پزیر ہے۔ پانچویں شادی تونسہ شریف کے اعلی خاندان میں کی جس سے ایک بیٹی فاطمہ ہے۔ آخری بیوی عطاء اللہ کے ساتھ لاہور میں رہائش پزیر ہے۔

اولاد[ترمیم]

عطاء اللہ عیسی خیلوی کی اولاد میں دو بیٹیاں اور دو بیٹے شامل ہیں جن کے نام یہ ہیں۔

  1. سانول عطاء
  2. بلاول عطاء
  3. لاریب عطاء
  4. فاطمہ عطاء [29]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ڈسکوجس آرٹسٹ آئی ڈی: https://www.discogs.com/artist/1842078 — بنام: Attaullah Khan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. https://www.neelab.com/pakistan/4386
  3. تاریخ نیازی قبائل طبع ہفتم مولف محمد اقبال خان نیازی صفحہ 271 اور 272
  4. http://fqdupdates.com/the-famous-singer-ata-ullah-khan-khiloi-isa/
  5. https://www.roznama92news.com/%D8%AE%D8%A7%D9%86-%D8%B9%DB%8C%D8%B3-%D8%AE%DB%8C%D9%84%D9%88%DB%8C-%DA%A9%DB%8C%D9%84%DB%92-%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%81-%D8%A7%D9%85%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B2
  6. http://fqdupdates.com/the-famous-singer-ata-ullah-khan-khiloi-isa/
  7. https://www.naibaat.pk/09-Mar-2018/10458%3fversion=amp
  8. https://www.naibaat.pk/26-Aug-2019/25791?version=amp
  9. https://www.roznama92news.com/%D8%AE%D8%A7%D9%86-%D8%B9%DB%8C%D8%B3-%D8%AE%DB%8C%D9%84%D9%88%DB%8C-%DA%A9%DB%8C%D9%84%DB%92-%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%81-%D8%A7%D9%85%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B2
  10. https://www.naibaat.pk/26-Aug-2019/25791?version=amp
  11. https://www.naibaat.pk/09-Mar-2018/10458%3fversion=amp
  12. https://www.naibaat.pk/26-Aug-2019/25791?version=amp
  13. https://www.roznama92news.com/%D8%AE%D8%A7%D9%86-%D8%B9%DB%8C%D8%B3-%D8%AE%DB%8C%D9%84%D9%88%DB%8C-%DA%A9%DB%8C%D9%84%DB%92-%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%81-%D8%A7%D9%85%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B2
  14. https://www.naibaat.pk/26-Aug-2019/25791?version=amp
  15. https://www.roznama92news.com/%D8%AE%D8%A7%D9%86-%D8%B9%DB%8C%D8%B3-%D8%AE%DB%8C%D9%84%D9%88%DB%8C-%DA%A9%DB%8C%D9%84%DB%92-%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%81-%D8%A7%D9%85%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B2
  16. https://www.urdupoint.com/showbiz/amp/celebrity/233-attaullah-khan-niazi-esakhelvi.html
  17. https://www.neelab.com/pakistan/4386
  18. https://www.bbc.com/urdu/amp/entertainment-39755076
  19. https://www.naibaat.pk/26-Aug-2019/25791?version=amp
  20. https://www.neelab.com/pakistan/357
  21. http://www.tareekhepakistan.com/detail?title_id=2467&dtd_id=2345
  22. https://www.naibaat.pk/26-Aug-2019/25791?version=amp
  23. https://www.roznama92news.com/%D8%AE%D8%A7%D9%86-%D8%B9%DB%8C%D8%B3-%D8%AE%DB%8C%D9%84%D9%88%DB%8C-%DA%A9%DB%8C%D9%84%DB%92-%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%81-%D8%A7%D9%85%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B2
  24. https://www.express.pk/story/665940/?amp=1
  25. https://www.neelab.com/pakistan/4386
  26. https://www.roznama92news.com/%D8%AE%D8%A7%D9%86-%D8%B9%DB%8C%D8%B3-%D8%AE%DB%8C%D9%84%D9%88%DB%8C-%DA%A9%DB%8C%D9%84%DB%92-%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%81-%D8%A7%D9%85%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B2
  27. https://www.neelab.com/pakistan/357
  28. https://www.naibaat.pk/26-Aug-2019/25791?version=amp
  29. http://fqdupdates.com/the-famous-singer-ata-ullah-khan-khiloi-isa/