فریدہ خانم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فریدہ خانم
Farida Khanum rehearsing.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1929 (عمر 89–90 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کولکاتا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت پاکستانی
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ گلو کارہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو،  پنجابی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

فریدہ خانم (پیدائش: 1929ء) پاکستانی کلاسیکی گلوکارہ ہیں۔اُنہیں غزل گائیکی کے حوالے سے ایک مستند حوالہ خیال کیا جاتا ہے۔2007ء میں دی ٹائمز آف انڈیا نے اُنہیں ملکہ موسیقی کے خطاب سے یاد کیا۔[1][2] وہ پٹیالہ گھرانہ کی موسیقی کے گنے چنے گلوکاروں میں سے ایک ہیں۔

سوانح[ترمیم]

فریدہ خانم کی پیدائش 1929ء میں کلکتہ میں ہوئی۔ اُن کی بڑی بہن مختار بیگم بھی ہندوستانی کلاسیکی گلوکارہ تھیں۔ فریدہ خانم کا خاندان امرتسر کے راستے 1947ء میں ہجرت کرکے لاہور پہنچا جب وہ محض 18 سال کی تھیں۔

موسیقی[ترمیم]

موسیقی میں خیال، ٹھمری اور دادرا کی تعلیم پٹیالہ گھرانے کے استاد عاشق علی خان سے حاصل کی۔ فریدہ ابھی محض نوعمر کی تھیں جب اُن کی بہن مختار بیگم استاد عاشق علی خان سے موسیقی کی تحصیل کررہی تھیں۔ 1947ء میں استاد عاشق علی خان پاکستان آگئے اور فریدہ خانم کا خاندان بھی پاکستان آگیا۔ اِس طرح موسیقی کا یہ خاندان پاکستان منتقل ہو گیا۔فریدہ خانم نے محض 21 سال کی عمر میں پہلی بار 1950ء میں عوامی اجتماعات میں گانا شروع کیا۔ بعد ازاں وہ ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوگئیں اور اِسی سے اُن کی شناخت بڑے گلوکاروں میں ممکن ہوئی۔ 1960ء کے عشرے میں جنرل ایوب خان کی دعوت پر عوامی اجتماع میں گا کر داد سمیٹی۔

پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ سے اُن کے بے شمار پروگرام بھی نشر ہوئے۔ فیاض ہاشمی کی لکھی ہوئی غزل آج جانے کی ضد نہ کرو گانے سے وہ شہرت کی بلندیوں کو پہنچ گئیں۔[3] علاوہ ازیں اطہر نفیسکی غزل وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا سے بھی اُنہیں شہرت ملی۔2015 میں 85 سال کی عمر میں اُنہوں نے دوبارہ اِس غزل کو کوک سٹوڈیو (پاکستان) کے لیے ریکارڈ کروایا۔ 1960ء اور 1970ء کے ابتدائی عشرے میں فریدہ خانم نے کابل کا دورہ بھی کیا جہاں اُنہوں نے عوامی اجتماعات میں اپنی موسیقی اور فن کا جادو جگایا، علاوہ ازیں فارسی غزلوں کو گانے کا بھی اُنہیں اعزاز حاصل رہا۔

خاندان[ترمیم]

فریدہ خانم لاہور میں اپنے ایک بیٹے اور پانچ بیٹیوں کے ہمراہ رہائش پزیر ہیں۔

اعزازات[ترمیم]

1970ء میں حکومت پاکستان نے فریدہ خانم کو تمغائے حسن کارکردگی سے نوازا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]