حسینہ معین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حسینہ معین
پیدائش 20 نومبر 1941 (1941-11-20)ءکانپور، اترپردیش، برطانوی ہندوستان
قلمی نام حسینہ معین
پیشہ ڈراما نویس، مصنفہ، مکالمہ نگار
زبان اردو
نسل مہاجر
شہریت پاکستان کا پرچمپاکستانی
تعلیم ایم اے (تاریخ)
صنف ڈراما
نمایاں کام شہزوری
تنہائیاں (ڈراما)
انکل عرفی (ڈراما)
دوھوپ کنارے (ڈراما)
اہم اعزازات صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی
پی ٹی وی ایوارڈ

حسینہ معین (انگریزی: Haseena Moin) ‏ (پیدائش: 20 نومبر، 1941ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والی ممتاز مصنفہ، مکالمہ نگار اور ڈراما نویس ہیں۔ اُنہوں نے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لیے پاکستان اور بیرون پاکستان بہت سے ڈرامے لکھے۔ اُنہیں حکومت پاکستان کی طرف سے صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی بھی دیا گیا ہے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

حسینہ معین 20 نومبر، 1941ء کو بھارت کے شہر کانپور میں پیدا ہوئیں ۔ حسینہ معین نے ابتدائی تعلیم کانپور سے حاصل کی۔ تقسیم ہند کے بعد وہ ہجرت کر کے پاکستان منتقل ہو گئیں۔ وہ کافی سالوں تک راولپنڈی میں رہیں، پھر لاہور چلی گیں اور 1950ء میں کراچی میں مقیم ہو گیں۔ اُنہوں نے جامعہ کراچی سے 1963ء میں تاریخ میں ایم اے کیا۔

ڈرامے[ترمیم]

اُنہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے لیے بہت سے یادگار ڈرامے لکھے، جیسے، شہزوری، زیر زبر پیش، انکل عرفی، ان کہی، تنہایاں، دھوپ کنارے،دھند، آہٹ، کہر، پڑوسی، آنسو، بندش، آئینہ جیسے مشہور ڈرامے شامل ہیں۔

فلم[ترمیم]

اُنہوں نے فلم کے لیے بھی کام کیا ہے۔ اُنہوں نے راج کپور کی درخواست پر ہندی فلم حنا کے مکالمات لکھے تھے۔ پھر اُنہوں نے ایک پاکستانی فلم کہیں پیار نہ ہو جائے لکھی تھی۔ اس سے پہلے وہ پاکستانی فلم نزدیکیاں اور وحید مراد کی فلم یہاں سے وہاں تک کے مکالمات بھی لکھ چکی ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]