کہر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

کہر اگرانتہائی سرد علاقوں میں ٹمپریچر صفرسنٹی گریڈ سے کم ہو جائے تو شبنم کے ننھے قطرے جم جاتے ہیں اورگھاس اور پودوں پر جمع ہو جاتے ہیں اس کو کہر(Frost) کہتے ہیں۔ کہر(Frost) ٹھوس حالت میں ہوتی ہے اور سورج کے نکلنے پر یہ پگھل کر خشک ہوجاتی ہے۔

انجماد؛ پالا؛ جلید؛ درجۂ حرارت کی وہ صورت جس میں پانی جم جائے؛ چھوٹی چھوٹی برف کی سوئیوں کی تہ جو رات کو فضا میں بن جاتی ہے اور صبح سویرے زمین پر یا زمین پر پڑی ان اشیا پر نمودار ہوتی ہے جو کھلے آسمان تلے ہوتی ہیں؛ جمے ہوئے بخارات؛ کہر؛ مزاج یا رویہ کی سرد مہری۔ (عوامی)

ناکامی (خصوصاً کسی ڈرامے یا مجلسی تقریب کی)؛ اشخاص کی باہمی سرد مہری۔ (فعل لازم و متعدی) کہرسے ڈھانپ دینا؛ دھندلا دینا (شیشے وغیرہ کو)؛ کیک وغیرہ پر چینی کی تہ جمانا؛ پالے سے پودوں کو نقصان پہنچانا؛ جم جانا؛ کہر بن جانا؛ پالا پڑ جانا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. آن لائن قومی انگریزی اُردو لُغت، ادارۂ فروغِ قومی زبان اسلام آباد پاکستان