معین اختر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
معین اختر
معلومات شخصیت
پیدائش 24 دسمبر 1950  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 22 اپریل 2011 (61 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مزاحیہ اداکار،  مصنف،  فلم ہدایت کار،  گلو کار،  ٹیلی ویژن اداکار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

معین اختر پاکستان ٹیلیوژن، اسٹیج اور فلم کے ایک مزاحیہ اداکار اور میزبان ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بطور فلم ہدایت کار، پروڈیوسر، گلوکار اور مصنف کام کر چکے ہیں۔

سوانح[ترمیم]

ابتدائی حالات[ترمیم]

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے تعلق رکھنے والے معین اختر نے پاکستان ٹیلی ویژن پر اپنے کام کا آغاز 6 ستمبر، 1966ء کو پاکستان کے پہلے یوم دفاع کی تقاریب کے لیے کیے گئے پروگرام سے کیا۔ جس کے بعد انہوں نے کئی ٹی وی ڈراموں، اسٹیج شوز میں کام کرنے کے بعد انور مقصود اور بشرہ انصاری کے ساتھ ٹیم بنا کر کئی معیاری پروگرام پیش کیے۔

نقالی کی صلاحیت کو اداکاری کا سب سے پہلا مرحلہ سمجھا جاتا ہے لیکن یہ اداکاری کی معراج نہیں ہے۔ یہ سبق معین اختر نے اپنے کیرئر کی ابتدا ہی میں سیکھ لیا تھا۔ چنانچہ نقالی کے فن میں ید طولٰی حاصل کرنے کے باوجود اس نے خود کو اس مہارت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس سے ایک قدم آگے جا کر اداکاری کے تخلیقی جوہر تک رسائی حاصل کی۔

انتقال[ترمیم]

مورخہ 22 اپریل 2011ء کو دل کا دورہ پڑنے سے کراچی میں انتقال کر گئے ۔[2]

کا رہائے نمایاں[ترمیم]

انہوں نے کئی زبانوں میں مزاحیہ اداکاری کی ہے جن میں انگریزی، سندھی، پنجابی، میمن، پشتو، گجراتی اور بنگالی کے علاوہ کئی دیگر زبانیں شامل ہیں اور اردو میں انکا کام انکو بچے بڑے، ہر عمر کے لوگوں میں یکساں مقبول بناتا ہے۔ وہ اداکار لہری سے متاثر تھے ۔

ٹیلی وژن ڈرامے[ترمیم]

  • روزی
  • مرزا اور حمیدہ
  • آخری گھنٹی
  • ہیلو ہیلو
  • انتظار فرمائیے
  • مکان نمبر 47
  • ہاف پلیٹ
  • فیملی 93
  • عید ٹرین
  • بندر روڈ سے کیماڑی
  • سچ مچ
  • آنگن ٹیڑھا
  • بے بی
  • رفتہ رفتہ
  • گم
  • ڈالر مین
  • لاؤ تو میرا اعمال نامہ
  • ہریالے بنے
  • سچ مچ پارٹ2
  • سچ مچ کا الیکشن
  • کچھ کچھ سچ مچ
  • رانگ نمبر
  • سچ مچ کی عید
  • چار سو بیس
  • نوکر کے آگے چاکر

اسٹیج ڈرامے[ترمیم]

  • بڈھا گھر پہ ہے
  • یس سر نو سر ===میزبانی===
  • درج ذیل تقاریب میں معین اختر نے میزبانی کے فرائض سر انجام دیے :
  • Silver Jubilee in 1983
  • پی ٹی وی ایوارڈ شو
  • اعزازی استقبالیہ برائے شاہ حسین(اردن)
  • اعزازی استقبالیہ برائے وزیر اعظم گیمبیا دواؤد ال جوزی
  • دعوت تقریب برائے صدر ضیاء الحق
  • دعوت تقریب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو
  • دعوت تقریب صدر جنرل یحیٰ خان
  • دعوت تقریب صدر غلام اسحاق خان
  • اعزازی استقبالیہ برائے مشہور اداکار دلیپ کمار
  • صدر جنرل پرویز مشرف کے روبرو میزبانی کی اور ساتھ ہی ان کی بہترین نقالی بھی کی ۔

ٹی وی شو[ترمیم]

  • ففٹی ففٹی PTV
  • 1970 الیکشن پروگرام
  • شو شا PTV
  • شو ٹائم PTV
  • سٹوڈیو ڈھائی PTV
  • اسٹوڈیو پونے تین PTV
  • یس سر نو سر PTV
  • معین اختر شو PTV
  • چار بیس NTM
  • لوز ٹاک ARY
  • ایکسیوز می

فلم[ترمیم]

  • تم سا نہيں دیکھا (1974) [3]
  • مسٹر کے ٹو
  • مسٹر تابعدار

گانے[ترمیم]

البم تیرا دل بھی یوں ہی تڑپے

  • چھوڑ کر جانے والے
  • چوٹ جگر پہ کھائی ہے
  • رو رو کے دے رہا ہے
  • تیرا دل بھی یوں ہی تڑپے
  • درد ہی صرف دل کو ملا ہے
  • دل رو رہا ہے
  • ہوتے ہيں بے وفا

اعزازات[ترمیم]

انہیں ان کے کام کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی طرف سے تمغا حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے نوازہ گیا ہے۔

تاثرات[ترمیم]

معین اختر نے اگرچہ کئی بار بھارت جا کر بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور اگر پاکستان اور بھارت کے تعلقات اچھے ہوتے تو شاید بمبئی اسٹیج کی دنیا بھی معین اختر کے سِحر سے نہ بچ سکتی لیکن بھارتی فنکاروں پر دھاک بٹھانے کے لیے معین اختر کو دوبئی کا راستہ مل گیا۔ جس کے ذریعے انہوں نے وہاں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا ۔ معین اختر نے مشرق وسطٰی میں کئی بار شو منعقد کیے اور برِصغیر کے سب سے بڑے ادا کار دلیپ کمار تک کو اپنا فین بنا لیا۔ دلیپ کمار نے فاطمید فاؤنڈیشن کے لیے جب بھی بین الاقوامی شو منعقد کیے، میزبان کے طور پر معین اختر کو مدعو کیا اور معین اختر نے کسی معاوضے کی پروا کیے بغیر خون کے عطیات جمع کرنے والی اس انجمن کا خیراتی کام پوری دلجمعی سے کیا ۔[4] انڈيا میں اک شو میں رضا مراد نے معین اختر کے کام کو ان الفاظ میں سراہا کہ معین اختر اسٹیج کی دنیا میں ایسے ہی ہے جیسے عمران خان اور سنیل گواسکر کرکٹ کی دنیا میں اور دلیپ کمار فلم کی دنیا میں ۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://web.archive.org/web/20121022145404/http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=2011%5C04%5C23%5Cstory_23-4-2011_pg1_3 — سے آرکائیو اصل
  2. "لیجنڈ فنکار معین اختر انتقال کر گئے"۔ دی نیوز ٹرائب۔ کراچی۔ Unknown parameter |seperator= ignored (معاونت)
  3. "Pakistani Film comedians from the 1970's"۔ پاکستان فلم میگزین۔ Unknown parameter |seperator= ignored (معاونت)
  4. عارف وقار (ہفتہ 23 اپريل 2011)۔ "معین اختر کا سفر"۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام۔ لاہور۔ Unknown parameter |seperator= ignored (معاونت); Check date values in: |date= (معاونت)