نسیم بیگم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نسیم بیگم
معلومات شخصیت
پیدائش 24 فروری 1936  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
امرتسر  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 25 ستمبر 1971 (35 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ گلو کارہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نسیم بیگم (ولادت: 24 فروری1936ء – وفات: 29 ستمبر 1971ء) پاکستان کی ایک مقبول و معروف گلوکارہ تھیں جو پاکستانی فلموں میں پس پردہ گلوکاری کے لیے جانی جاتی تھیں۔ 1964ء تک وہ پانچ دفعہ نگار ایوارڈ جیت چکی تھیں۔ اُن کو دوسری نور جہاں بھی کہا جاتا تھا مگر جلد ہی اُنہوں نے اپنا الگ انداز بنا لیا۔ اُنہوں نے موسیقی کی تعلیم مشہور غزل گلوکارہ فریدہ خانم کی بڑی بہن مختار بیگم سے حاصل کی۔ اُنہوں نے احمد رشدی کے ساتھ بھی بہت سے دوگانے گائے۔ اُنہوں نے بہت سے ملّی نغمے بھی گائے ہیں، جن میں اے راہِ حق کے شہیدوں وفا کی تصویروں، تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کرتی ہیں بہت مقبول ہوا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

نسیم بیگم 24 فروری 1936ء کو امرتسر برطانوی بھارت میں پیدا ہوئیں۔ نسیم بیگم نے موسیقی کی باقاعدہ تربیت مشہور کلاسیکی غزل گائیکہ فریدہ خانم کی بڑی بہن مختار بیگم سے حاصل کی [1]۔ اپنا پہلا فلمی نغمہ انہوں نے 1956ء کی فلم گڈی گڈا میں موسیقار غلام احمد چشتی کی ترتیب دی موسیقی پر گایا۔ 1958 میں، موسیقار میاں شہریار نسیم بیگم کی آواز کی رینج سے بہت متاثر ہوئے اور اپنی فلم بے گناہ(1958) میں گانے کا موقع دیا۔ نسیم بیگم نے گانا نینوں میں جل بھر آئے گا کر راتوں رات شہرت حاصل کر لی، یہ گانا پچاس کی دہائی میں بہت مقبول رہا۔ احمد رشدی کے ساتھ دوگانے بہت مشہور ہوئے اور ان دونوں کی جوڑی بہت پسند کی جاتی رہی۔

فلمی گیت[ترمیم]

نسیم بیگم نے اردو اور پنجابی دونوں فلموں کے لیے کئی مقبول گانے گائے۔

اردو فلمی گیت[ترمیم]

چند مقبول اردو فلمیں جن میں نسیم بیگم نے گانے گائے:

  • گڈا گڈی (1956)
  • سلمی (1960)
  • شام ڈھلے (1960)
  • سہیلی (1960)
  • گھونگھٹ
  • شہید (1962)
  • اولاد
  • باجی (1963)
  • اک تیرا سہارا (1963)
  • حویلی (1964)
  • فرنگی (1964)
  • مادر وطن (1964)
  • لٹیرا (1964)
  • پائل کی جھنکار (1966)
  • زرقا (1969)
  • کون کسی کا
  • کوثر
  • یہ راستے ہیں پیار کے

پنجابی گیت[ترمیم]

چند قابل ذکر پنجابی فلمیں جن میں نسیم بیگم نے گانے گائے:

  • کرتار سنگھ (1959)
  • تیس مار خان
  • جی دار
  • مکھڑا چن ورگا
  • چن پتر
  • میرا ویر
  • چن ویر
  • لنگوٹیا

ملی نغمے[ترمیم]

نسیم بیگم فلمی گانوں کے ساتھ ساتھ ملی نغموں کے لیے بھی بہت شہرت رکھتی ہیں۔ ان کے بے مثال ملی نغمے "اے راہ حق کے شہیدو وفا کی تصویروں، تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کرتی ہیں" نے ملک گیر شہرت حاصل کی اور سدا بہار ملی نغمہ قرار پایا، اس کے بول مشیر کاظمی نے لکھے اور موسیقی میاں شہریار نے ترتیب دی جبکہ ریڈیو پاکستان میں ریکارڈنگ 1965 میں ہوئی۔بہت سے سامعین اب تک اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ یہ نغمہ نسیم بیگم کی جگہ ملکہ ترنم نور جہان نے گایا۔ 1966 میں پاکستانی فلم پروڈیوسر اور ہدایت کار سیف الدین سیف نے اس نغمے کو اپنی فلم مادر وطن میں بھی استعمال کیا جس کی موسیقی سلیم اقبال نے ترتیب دی [2]۔

مقبول گیت[ترمیم]

  • اے راہ حق کے شہیدو
  • ویر میرا گھوڑی چڑھیا
  • اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو، اشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو
  • سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی، دنیا کی وہی رونق دل کی وہی تنہائی
  • میرا بچھڑا بلم گھر آیا گیا، میری پائل بجے چھنن چھنن چھنن
  • چندا توری چاندنی میں جیا جلا جائے رے
  • حبیبی ہیا ہیا حبیبی ہیا ہیا
  • ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے

ایوارڈ[ترمیم]

وفات[ترمیم]

29 ستمبر 1971ء کو اپنے بچہ کی پیدائش کے وقت اُن کا انتقال ہو گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]