قاری عبدالمالک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

قاری عبد المالک ہندوستان وپاکستان کے نامور قاری اور استاذ القراء ہیں۔

ولادت[ترمیم]

آپ 1303ھ کو علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام شیخ جیون علی ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب سیدنا صدیق اکبرسے متصل ہے۔ آپ کی پیدائش سے قبل ہی آپ کے والد اللہ کو پیارے ہو چکے تھے۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

آپ کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری آپ کی والدہ ماجدہ اور آپ کے بڑے بھائی قاری عبد الخالق نے بطریق احسن نبھائی۔ چار برس کی عمر میں آپ کو سرائے کلیم علی گڑھ بھیجا گیا۔ جہاں حافظ محمد صدیق استاد تھے۔ انہوں نے آپ کو قرآن مجید کی ابتدائی ناظرہ تعلیم سے بہرہ ور کیا۔ 1313ھ میں آپ کی والدہ دونوں بیٹوں کے ہمراہ حج کی غرض سے حجاز مقدس تشریف لے گئیں اور محلہ جیاد میں رہائش اختیار کی۔ دونوں بیٹوں قاری عبد الخالق و قاری عبد المالک کو مکہ مکرمہ کے مشہور مدرسہ صولتیہ میں داخل کرا دیا۔ یہاں استاد القراء عبد اللہ مہاجر مکی سے آپ نے قرآن مجید حفظ کیا اور پھر روایت حفص کی تکمیل کی۔ حفظ قرآن اور تعلیم تجوید کے ساتھ ساتھ تفسیر، حدیث، فقہ، عربی ادب کی تعلیم بھی آپ نے مدرسہ صولتیہ ہی سے حاصل کی۔ 1320ھ میں قاری عبد المالک واپس ہندوستان آ گئے۔

عملی زندگی[ترمیم]

قیام مکہ کے دوران قاری صاحب کا معمول تھا کہ اپنی تعلیمی مصروفیات میں سے کچھ وقت نکال کر روزانہ حرم شریف میں تلاوت کرتے۔ لوگ محظوظ ہوتے۔ ایک روز نواب فیاض احمد خاں شیروانی نے حرم پاک میں آپ کی تلاوت سنی تو آپ سے کہنے لگے کہ حرمین شریفین میں تو کلام اللہ کی بہترین طرز ادا سے پڑھنے والے بیشمار لوگ موجود ہیں، جبکہ ہندوستان صحیح پڑھنے والوں سے خالی ہے لہٰذا ہندوستان اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ آپ جیسے ماہرین فن حضرات اس علم کی آبیاری کے لیے ہندوستان آئیں۔ نواب صاحب کی اس بات نے گہرا اثر کیا اور آپ ان کے ہمراہ ہندوستان آ گئے اور آگرہ کی شاہی مسجد میں اس علم کی خدمت پر مامور ہوئے۔ کچھ عرصے بعد مولانا عین القضاة بانی مدرسہ عالیہ فرقانیہ لکھنؤ¿ نے آپ کو اپنے مدرسہ میں بلا لیا۔ 1337-38ھ میں آپ نے الہٰ آباد جا کر قاری عبد الرحمٰن مکی سے قرا¿ت سبعہ و عشرہ کی تکمیل کی۔ اس کے بعد دوبارہ مدرسہ عالیہ فرقانیہ آ کر صدر نشین ہوئے۔ نواب ابراہیم کی دعوت پر آپ ریاست ٹونک تشریف لے گئے۔ والئی ٹونک نے آپ کی خوب پزیرائی کی۔

پاکستان ہجرت[ترمیم]

قیام پاکستان کے کچھ عرصے بعد قاری عبد المالک 1950ءمیں لکھنؤ¿ سے ہجرت کر کے پاکستان تشریف لے آئے۔ دار العلوم ٹنڈوالہ یار سندھ میں علم تجوید کی خدمت پر مامور ہوئے اور تقریباً ایک برس یاد و برس ٹنڈوالہ یار میں پڑھاتے رہے۔ پھر دار العلوم اسلامیہ چرچ روڈ پرانی انارکلی لاہور تشریف لے آئے اور دار العلوم اسلامیہ میں صدر مدرس کی حیثیت سے پڑھانا شروع کیا۔ آپ کا لاہور تشریف لانا ایک بہار سے کم نہ تھا۔ قاری عبد المالک 1952ءمیں دار العلوم اسلامیہ لاہور تشریف لائے اور 1958ءمیں مستعفی ہو گئے۔ اپنے بعض تلامذہ اور مخلصین کے اصرار پر آپ نے 1958ءمیں لٹن روڈ پر مرکزی دارالترتیل کی بنیاد ڈالی۔

وفات[ترمیم]

آپ کا انتقال 31 دسمبر 1959ء کو لاہور میں ہوا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]