ابرار الحق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابرار الحق
ابرار الحق
ابرار الحق
فنکار موسیقی
پیدائشی نام ابرار الحق
دیگر نام ابرار
ولادت 21 جولائی، نارووال،پاکستان[1]، (سال خفیہ)
ابتدا لاہور، پاکستان
اصناف موسیقی پاپ
راک
بھنگڑا
پیشہ گلوکار
گیت نگار
موسیقار
سرگرم دور 1995ء تا حال
ریکارڈنگ کمپنی ساؤنڈ ماسٹر

ابرار الحق (ولادت: 21 جولائی، سال نامعلوم) ایک پاکستانی بھنگڑا گلوکار ہے۔ اس کی پہلے البم "بلو دے گھر" پر اس کا نام صرف "ابرار" درج ہے۔ "بلو دے گھر" اس کا سب سے مشہور گیت ہے۔ گلوکار بننے سے پہلے ابرار لاہور کے ایچی سن کالج میں استاد کی حیثیت سے متعین تھا۔ وہ نسبی طور پر کاہلوں جٹ/جاٹ ہے۔

ابرار زیادہ تر پنجابی میں گاتا ہے جو بھنگڑا گائیکی کی بنیادی، پاکستان کے سب سے زیادہ آباد صوبہ پنجاب کی اور ابرار کی مادری زبان ہے۔ ابرار نے اردو میں بھی طبع آزمائی کی ہے جب کہ اس کا ایک مشہور گیت "سانوں تیرے نال" انگریزی اور پنجابی میں ہے۔

ابرار کا پہلا گیت "بلو دے گھر" اسی نام کی البم کے ساتھ فوری طور پر مقبول ہو گیا۔ اس کی ویب سائیٹ کے مطابق اب تک اس البم کی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔

سوانح[ترمیم]

ابرار الحق 21 جولائی کو فیصل آباد میں پیدا ہوا۔ بہت سے دیگر نئے پاکستانی فنکاروں کی طرح ابرار نے بھی اپنی سن پیدائش کو خفیہ رکھا ہوا ہے تا کہ اپنی عمر کو عوام سے پوشیدہ رکھ سکے۔ تاہم ایک حالیہ انٹرویو میں اس نے کہا تھا کہ اس کی سن ولادت 1968ء ہے۔ ابرار نے ٹی وی کے پروگراموں میں کئی دفعہ کہا ہے کہ وہ نہ زیادہ عمر رسیدہ ہے اور نہ ہی بہت کم عمر ہے اور اس بات کے بھ اشارے دیے ہیں کہ وہ 1960ء کی دہائی میں پیدا ہوا۔

اس ابتدائی تعلیم گجرات اور راولپنڈی میں ہوئی۔ سر سید کالج (راولپنڈی) سے بی۔ اے۔ کیا اور جامع قائد اعظم سے معاشرتی علوم میں ایم۔ اے۔ کیا۔

1996ء میں ایچی سن کالج (لاہور) میں مستقل استاد کی حیثیت سے متعین ہو گیا۔ بعد میں پاپ موسیقی کی وجہ سے اسے درس و تدریس کے پیشے کو خیر بعد کہنا پڑا اگرچہ ایچی سن کالج (لاہور) میں اپنی تعیناتی کے دن کو ابرار نے اپنی زندگی کا سب سے قابل فخر دن قرار دیا ہے۔

ابرار کے زیادہ تر گیت پنجابی زبان میں اور بھنگڑا طرز موسیقی کے ہوتے ہیں۔ اس نے اردو میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔ اس کا ایک معروف گیت "سانوں تیرے نال" دو زبانوں، انگریزی اور پنجابی، میں ہے۔

ابرار کا پہلا گیت "بلو دے گھر" اسی نام کی البم کے ساتھ فوری مشہور ہوگیا۔ اس کی ویب سائیٹ کے مطابق اس البم کی 1 کروڑ ساٹھ لاکھ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔

تنازعات[ترمیم]

دنیا کے دیگر معروف فنکاروں کی طرح ابرار الحق بھی اکثر مختلف تنازعات کی زد میں رہا ہے گو ان کی نوعیت پیشہ ورانہ رہی۔

بلو دے گھر[ترمیم]

ابرار کی پہلی البم "بلو دے گھر" مقبول ہونے کے ساتھ ساتھ تنازع اور بحث کا با‎عث بنی۔ "بلو" پاکستان کے پنجابی مسلمانوں میں کافی مقبول زنانہ نام ہے۔ اس البم کے پہلے گیت کی سطور "اساں تے جاناں بلو دے گھر، کنے کنے جاناں بلو دے گھر" (پنجابی: ہم نے تو جانا ہے بلو کے گھر، کس کس نے جانا ہے بلو کے گھر) کو گلیوں کے اوباش طبقے نے بلو نامی خواتین کو تنگ اور زچ کرنے کےیے استعمال کیا۔ اس جملہ بازی کا نشانہ بننے والی خواتین کے مرد رشتہ داروں کی طرف سے ان واقعات کا شدید ردعمل دیکھنے میں آیا جس کا نتیجہ اکثر ہاتھاپائی کی صورت میں نکلا۔ اس قسم آئندہ حالات سے بچنےکےلیےابرار نے اپنے ایک اور گیت میں ایک غیرمسلم زنانہ نام "پریتو" استعمال کیا۔ یہ نام پاکستان میں قریباًناپید ہے۔

نچ پنجابن نچ[ترمیم]

نچ پنجابن نچ (ٱردو: ناچو پنجابن ناچو) ابرار الحق کے گیت "پنجابی ٹچ" کا دوسرا مصرع ہے۔ اس سطر پر پاکستانی عوام نے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا کیونکہ اسے پاکستان کی تمام پنجابی (جو 97 فیصد سے زیادہ مسلمان ہیں) خواتین سے خطاب سمجھا گیا۔ گلوکار پر لاہور ہائی کورٹ میں مقدمہ کر دیا گیا۔ ابرار بذات خود عدالت میں حاضر ہوا اور جج کو بتایا کہ اس نے لفظ "پنجابن" کو "مجاجن" سے بدل دیا ہے۔ اس گیت کو دوبارہ سے ریکارڈ کیا گیا اور البم "اساں جانا مال و مال" کی نئی کھیپ میں اصل کی جگہ ترمیم شدہ گانے کو شامل کیا گیا۔ تاہم البم کی اصل گانے والی کاپیوں کو بازاروں سے نہیں ہٹایا گیا۔ ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران جب ابرار سے "مجاجن" کے مطلب کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ "مجاجن" کوئی لفظ نہیں ہے بلکہ اصل لفظ "مجاجنی" ہے جس کو پنجابن کے وزن پر لانے کے لیے "مجاجن" کر دیا گیا ہے۔

SAHARA for Life Trust[ترمیم]

ابرار الحق SAHARA for Life Trust کا بانی اور موجودہ چیئرمین ہے۔ یہ ایک ٹیکس سے مستثنی تنظیم ہے جو دوردراز کے علاقوں میں صحت اور تعلیم کو فروغ دیتی ہے۔ SAHARA کی ترکیب "Services Aimed at Health and Awakening in Remote Areas" کا مخفف ہے۔ یہ مخفف اس لحاظ سے دلچسپ ہے کہ اردو کے لفظ "سہارا" کو رومن اردو میں SAHARA لکھیں گے۔

ڈسکوں کی فہرست[ترمیم]

باقاعدہ سٹوڈیو البمز[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بابت - ابرار آن لائن

بیرونی روابط[ترمیم]