عمران نذیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عمران نذیر ٹیسٹ کیپ نمبر157
Imran-Nazir.jpeg
ذاتی معلومات
مکمل نامعمران نذیر
پیدائش16 دسمبر 1981ء (عمر 40 سال)
گوجرانوالہ، پنجاب، پاکستان
بلے بازیدائیں ہاتھ کا بلے باز
گیند بازیآف اسپنر
حیثیتاوپننگ بلے باز
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
پہلا ٹیسٹ (کیپ 157)8 مارچ 1999  بمقابلہ  سری لنکا
آخری ٹیسٹ11 اکتوبر 2002  بمقابلہ  آسٹریلیا
پہلا ایک روزہ (کیپ 126)27 مارچ 1999  بمقابلہ  سری لنکا
آخری ایک روزہ3 اکتوبر 2009  بمقابلہ  نیوزی لینڈ
ایک روزہ شرٹ نمبر.16
پہلا ٹی20 (کیپ 13)2 فروری 2007  بمقابلہ  جنوبی افریقہ
آخری ٹی204 اکتوبر 2012  بمقابلہ  سری لنکا
قومی کرکٹ
سالٹیم
لاہور بادشاز
نیشنل بینک آف پاکستان
شمال مغربی سرحدی صوبہ
سیالکوٹ
سیالکوٹ سٹالینز
زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کرکٹ ٹیم
ڈھاکہ گلیڈی ایٹرز
2013–چٹاگانگ کنگز
2018-لاہور قلندرز
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ ایک روزہ ٹوئنٹی20 فرسٹ کلاس
میچ 8 79 25 139
رنز بنائے 427 1,895 500 7,172
بیٹنگ اوسط 32.84 24.61 21.73 33.20
100s/50s 2/1 2/9 0/3 10/44
ٹاپ اسکور 131 160 72 185
گیندیں کرائیں 49 842
وکٹ 1 11
بالنگ اوسط 48.00 58.00
اننگز میں 5 وکٹ 0
میچ میں 10 وکٹ 0
بہترین بولنگ 1/3 3/61
کیچ/سٹمپ 4/– 26/– 11/0 105/–
ماخذ: Cricinfo، 8 May 2017

عمران نذیر (پیدائش:16 دسمبر 1981،ء گوجرانوالہ، پنجاب) پاکستان کے اوپننگ کرنے والے بلے باز ہیں۔ ان کی بلے بازی کرنے کا انداز جارحانہ ہے۔

بین الاقوامی کرکٹ[ترمیم]

عمران نذیر نے کرکٹ کا آغاز ٹیسٹ کرکٹ سے 1999ء میں سری لنکا کے خلاف کیا۔ ان کی تیز کھیلنے اور ضرورت سے زیادہ شاٹ کھیلنے کی وجہ سے وہ ٹیسٹ کرکٹ کم کھیلتے ہیں۔ وہ اب تک صرف 8 ٹیسٹ میچ کھیل چکے ہیں۔ اور 2002ء کے بعد ٹیم میں ٹیسٹ میچ کے لیے جگہ بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ البتہ آپ ایک روزہ کرکٹ کے لیے اکثر ٹیم میں شامل کیے جا چکے ہیں۔دوسری بے شمار اوپننگ بلے بازوں جیسے سلمان بٹ، محمد حفیظ، یاسر حمید اور توفیق عمر کی وجہ سے وہ اکثر ٹیم میں جگہ بنانے میں ناکام رہتے ہیں۔عمران کرکٹ عالمی کپ 2007ء میں ٹیم میں شامل تھے۔ انہوں نے زمبابوے کے خلاف پاکستان کے آخری میچ میں 160 رنز کی اننگز کھیلی۔ وہ ان کے کیرئیر کی بہترین اننگز تھی۔ اس میں انہوں نے 8 چھکے مارے اور کرکٹ عالمی کپ میں رکی پونٹنگ کا ریکارڈ برابر کیا۔ یہ اسکور عالمی کپ کی تاریخ میں پاکستانی کھلاڑی یا کسی بھی کھلاڑی کا سب سے زیادہ اسکور تھا۔

انڈین کرکٹ لیگ[ترمیم]

عمران نذیر نے اپنے بین الاقوامی کرکٹ کے کیرئیر کو اس وقت داؤ پر لگایا جب وہ ان چند پاکستانی کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہوں نے انڈین کرکٹ لیگ میں کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ یہ بات پہلے ہی واضح کر چکی تھی کہ انڈین کرکٹ لیگ میں حصہ لینے والے پاکستانی کھلاڑی پاکستان ٹیم کے لیے کھیلنے کے نااہل ہوں گے۔ اس بات کو پاکستانی کھلاڑیوں نے عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]