کرکٹ عالمی کپ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
کرکٹ عالمی کپ
منتظم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل
طرز کرکٹ ایک روزہ کرکٹ
پہلا 1975ء
آخری 2019ء
طرز ٹورنامنٹ متعدد
مشترکہ ٹیمیں 20 (اب تک کے تمام)
14 (حالیہ عالمی کپ میں)
10 (اگلے میں)
موجودہ فاتح Flag of the United Kingdom.svg برطانیہ (1 مرتبہ)
سب سے کامیاب Flag of Australia.svg آسٹریلیا (5 مرتبہ)
سب سے زیادہ دوڑیں سچن ٹنڈولکر (Flag of India.svg بھارت) (2278)
سب سے زیادہ وکٹ گلین میگرا (Flag of Australia.svg آسٹریلیا) (71)

کرکٹ کا عالمی کپ ایک روزہ کرکٹ کا ایک اہم ٹورنامنٹ ہے جو ہر 4 سال بعد منعقد کیا جاتا ہے۔ اس کا اہتمام انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کرتی ہے۔ اس کے شروع ہونے سے پہلے آزمائشی ٹورنامنٹ ہوتے ہیں۔ کرکٹ کے عالمی کپ کو کرکٹ کا سب سے اہم ٹورنامنٹ تصور کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلا عالمی کپ 1975ء میں برطانیہ میں کھیلا گیا۔ 1973ء سے خواتین کا علیحدہ عالمی کپ کھیلا جاتا ہے۔ عالمی کپ دس ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک اور ICC ٹرافی میں اچھی کارکردگی دکھانے والے ممالک کے درمیان میں کھیلا جاتا ہے۔ اب تک 12 عالمی کپ کھیلے جا چکے ہیں۔ آخری کپ2019 میں انگلینڈ اور ویلز میں کھیلا گیا۔ آسٹریلیا کی ٹیم سب سے کامیاب ٹیم ہے جو اب تک 5 دفعہ فاتح رہ چکی ہے۔ ویسٹ انڈیز اور بھارت دو دو دفعہ، جبکہ پاکستان، پاکستان اور سری لنکا ایک ایک بار کرکٹ کے عالمی کپ کے فاتح رہ چکے ہیں۔ کرکٹ عالمی کپ 2007ء مارچ 2007ء میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا جس میں 16 ٹیموں نے حصہ لیا۔ فائنل میں آسٹریلیا نے سری لنکا کو ہرا کر چوتھی بار عالمی کپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔

تاریخ[ترمیم]

پہلے کرکٹ عالمی کپ سے پہلے[ترمیم]

سب سے پہلا بین الاقوامی کرکٹ میچ امریکا اور کینیڈا کی ٹیموں کے درمیان میں 24 اور 25 ستمبر، 1844ء میں کھیلا گیا۔ لیکن سب سے پہلا ٹیسٹ میچ 1877ء میں آسٹریلیا اور برطانیہ کے درمیان میں کھیلا گیا۔ کرکٹ کو 1900ء کے المپکس کا حصہ بنایا گیا جس میں برطانیہ نے فرانس کو شکست دے کر سونے کا تمغا جیتا سب سے پہلا کرکٹ کا ٹورنامنٹ1912ء میں منعقد کیا گیا جس میں برطانیہ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ نے حصہ لیا۔ لیکن وہ زیادہ کامیاب نہ ہو سکا۔ بعد میں جوں جوں کرکٹ کھیلنے والی ٹیموں کی تعداد بڑھتی گئی توں توں ٹیسٹ کرکٹ کا معیار بڑھتا گیا اور کرکٹ کی مقبولیت بڑھتی گئی۔ 1960ء تک اسی طرز کی کرکٹ کھیلی جاتی رہی جس میں ٹیمیں ایک دوسری سے تین، چار یا پانچ دن تک کھیلتے رہتے۔

ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ[ترمیم]

1962ء میں انگلینڈ نے ایک نئی طرز کی کرکٹ متعارف کرائی جس کو آج ہم ایک روزہ کرکٹ کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ کرکٹ ابتدائی طور پر برطانیہ کی کاؤنٹی کی ٹیموں کے درمیان میں کھیلی گئی جو لوگوں میں کافی مقبول ہوئی۔ لیکن یہ کرکٹ دوسرے ممالک کے درمیان میں کافی عرصے بعد شروع کی گئی۔ پھر 1971ء میں برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان میں کھیلے جانے والا ٹیسٹ میچ کے دوران میں خراب موسم کی وجہ سے چار دن تک کوئی کھیل نہ ہو سکا۔ دونوں ٹیموں نے 40 اوور کی ایک ایک اننگز کھیلنے کا فیصلہ کیا جس میں ہر اوور 8 گیندوں پر مشتمل تھا۔ جو کافی پسند کیا گیا۔ ایک روزہ کرکٹ کی مقبولیت دیکھتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے سب کرکٹ کھیلنے والی ٹیمون کے درمیان مقابلوں کا فیصلہ کیا جو آج عالمی کرکٹ کپ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

پروڈینشل عالمی کپ 1975ء[ترمیم]

سب سے پہلا عالمی کپ 1975ء میں برطانیہ میں منعقد کیا گیا۔ جو پروڈینشل کپ کے نام سے کھیلا گیا۔ اس میں پہلی مرتبہ سرخ رنگ کی گیند استعمال کی گئی اور پہلی مرتبہ ٹیموں نے سفید رنگ کا لباس پہنا۔ اس میں آٹھ ٹیموں نے حصہ لیا۔ ان میں برطانیہ، آسٹریلیا، پاکستان، بھارت، نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز (اس وقت ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والی ٹیمیں) اور سری لنکا اور مشرقی افریقہ کی ٹیمیں شامل تھیں۔ اس میں جنوبی افریقہ کو کھیلنے کی اجازت اپارتھائیڈ کی وجہ سے نہیں دی گئی۔ اس میں ویسٹ انڈیز نے آسٹریلیا کو 17 رنز سے شکست دی۔ پہلے عالمی کپ کا فا‎ئنل لارڈز کے میدان میں کھیلا گیا۔ ابتدائی تین عالمی کپ برطانیہ میں کھیلے گئے۔ سات سے اکیس جون 1975ء کے درمیان میں کھیلے گئے پہلے ورلڈ کپ میں 8 ٹیموں نے حصہ لیا تھا جن میں ٹیسٹ سٹیٹس کی حامل 6 ٹیموں ویسٹ انڈیز، انگلینڈ، آسٹریلیا، بھارت، پاکستان اور نیوزی لینڈ کے علاوہ سری لنکا اور مشرقی افریقہ شامل تھیں۔ اس ٹورنامنٹ کے فائنل میں کلائیو لائیڈ کی قیادت میں کھیلنے والی ویسٹ انڈین ٹیم نے آسٹریلیا کو سترہ رنز سے شکست دی۔

دوسرا عالمی کپ[ترمیم]

1979 میں کھیلا گیا۔ ان مقابلوں کا میزبان ایک مرتبہ پھر انگلینڈ تھا اور اس ٹورنامنٹ میں بھی پہلے ورلڈ کپ کی طرح آٹھ ٹیمیں شریک ہوئیں۔ تاہم آسٹریلیا کی ٹیم اس کے بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل نہیں تھی جبکہ مشرقی افریقہ کی جگہ اس بار کینیڈا کی ٹیم ٹورنامنٹ کا حصہ بنی۔ پہلے ورلڈ کی ہی طرح اس ٹورنامنٹ میں بھی میچ کی ہر اننگز ساٹھ اوورز پر مشتمل تھی۔ ان مقابلوں کو شائقین کی عدم دلچسپی اور خراب موسم کا بھی سامنا رہا۔ اس بار فائنل میں دفاعی چیمپیئن ویسٹ انڈیز اور میزبان انگلینڈ کی ٹیمیں مدِ مقابل آئیں اور ویوین رچرڈز کی شاندار سنچری اور جوئیل گارنر کی عمدہ بالنگ کی بدولت ویسٹ انڈیز نے بانوے رنز سے میچ جیت کر اپنے اعزاز کا کامیابی سے دفاع کیا۔

تیسرا عالمی کپ[ترمیم]

1983 میں کھیلا گیا۔ ان مقابلوں میں بھی آٹھ ٹیمیں شریک ہوئیں جن میں نئے نئے ٹیسٹ سٹیٹس کی حامل سری لنکا کے علاوہ آئی سی سی ٹرافی کی فاتح زمبابوے کی ٹیم بھی شامل تھی۔ بھارتی ٹیم نے کپل دیو کی قیادت میں اس ورلڈ کپ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور سیمی فائنل میں میزبان انگلینڈ کو ہرانے کے بعد فائنل میں فیورٹ ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر سب کو حیران کر دیا۔ یہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ ویسٹ انڈیز کے علاوہ کوئی ٹیم یہ عالمی مقابلہ جیتنے میں کامیاب ہوئی۔

چوتھا عالمی کپ[ترمیم]

1987ء کا کرکٹ ورلڈ کپ پہلی مرتبہ انگلینڈ سے باہر منعقد کیا گیا اور اس بار میزبانی کا شرف بھارت اور پاکستان کے حصہ میں آیا۔ برصغیر میں دن میں روشنی کے اوقات میں کمی کی وجہ سے پہلی مرتبہ اننگز کا دورانیہ ساٹھ اوورز سے کم کر کے پچاس اوورز کر دیا گیا۔ اسی ورلڈ کپ میں پہلی مرتبہ غیر جانبدار امپائر متعارف کروائے گئے۔ ٹورنامنٹ کے میزبان ممالک بھارت اور پاکستان مقابلوں کے سیمی فائنل مرحلے تک تو پہنچے مگر وہاں انہیں انگلینڈ اور آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کلکتہ کے ایڈن گارڈنز میں کھیلے جانے والے فائنل میں آسٹریلیا نے سخت مقابلے کے بعد انگلینڈ کو سات رنز سے شکست دے کر پہلی مرتبہ یہ ٹورنامنٹ جیتا۔

پانچواں عالمی کپ[ترمیم]

پانچواں کرکٹ عالمی کپ 22 فروری سے لیکر 25 مارچ 1992 تک آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے میدانوں پر کھیلا گیا۔ اس ٹورنامنٹ پہلی بار رنگین وردیوں اور سفید گیند کا استعمال کیا گیا۔ جو پاکستان نے فائنل میں انگلستان کو 22 دوڑ سے ہرا کر جیتا۔ اس ورلڈ کپ میں کل نو ٹیموں نے حصہ لیا اور فائنل ملا کر 39 مقابلے کھیلے گئے۔

چھٹا عالمی کپ[ترمیم]

سنہ انیس سو چھیانوے کے ورلڈ کپ کی میزبانی ایک مرتبہ پھر برصغیر کے حصے میں آئی اور اس مرتبہ ٹورنامنٹ پاکستان، بھارت اور سری لنکا میں مشترکہ طور پر منعقد ہوا۔ اس ٹورنامنٹ میں کل بارہ ٹیمیں شریک ہوئیں جنہیں دو گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ متحدہ عرب امارات، کینیا اور ہالینڈ کو ان مقابلوں میں شرکت کا موقع ملا۔ لاہور میں ہونے والے فائنل میں اروندا ڈسلوا کے 124 گیندوں پر 107 رنز نے آسٹریلیا کے خلاف سری لنکا کو ایک بڑی فتح دلوا دی اور یوں وہ ٹورنامنٹ جیتنے والا پہلا میزبان ملک بن گیا۔

ساتواں عالمی کپ[ترمیم]

1999 میں منعقد ہوا۔ س مرتبہ کرکٹ ورلڈ کپ چار برس کے وقفے کی بجائے تین برس کے بعد منعقد ہوا اور اس کی میزبانی سولہ برس بعد ایک مرتبہ پھر انگلینڈ کے حصے میں آئی۔ یہ ٹورنامنٹ راؤنڈ رابن اور ناک آؤٹ سسٹم کے تحت کھیلا گیا اور اس میں ٹیسٹ اور ون ڈے سٹیٹس کی حامل نو ٹیموں کے علاوہ آئی سی سی ٹرافی ٹورنامنٹس کی فاتح بنگلہ دیش، سکاٹ لینڈ اور کینیا کی ٹیمیں شریک ہوئیں۔ یہ ٹورنامنٹ اپنے اس سیمی فائنل کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا جب آسٹریلیا کے خلاف میچ میں جنوبی افریقہ کے ایلن ڈونلڈ ایک رن نہ بنا سکے اور رن آؤٹ ہو گئے۔ یہ میچ ٹائی ہوا لیکن آسٹریلیا بہتر ریکارڈ کی وجہ سے فائنل میں پہنچ گیا جہاں اس نے پاکستان کو یکطرفہ مقابلے کے بعد ہرا کر دوسری بار یہ ٹورنامنٹ جیت لیا۔

آٹھواں عالمی کپ[ترمیم]

2003 میں منعقد ہوا۔ نئی صدی کے پہلے اور مجموعی طور پر آٹھویں ورلڈ کپ کی میزبانی مشترکہ طور پر جنوبی افریقہ، زمبابوے اور کینیا کے حصے میں آئی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ یہ عالمی مقابلے براعظم افریقہ میں منعقد ہوئے۔ نو فروری سے چوبیس مارچ تک جاری رہنے والے اس ٹورنامنٹ میں دو گروپس میں تقسیم کی گئی چودہ ٹیمیں شامل تھیں جنہوں نے چوّن میچوں میں حصہ لیا۔ یہ ٹورنامنٹ بھی راؤنڈ رابن اور ناک آؤٹ سسٹم کے تحت کھیلا گیا۔ اس ٹورنامنٹ کے دوران میں انگلینڈ نے زمبابوے میں اور نیوزی لینڈ نے کینیا میں کھیلنے سے انکار کیا۔ دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا نے اس ورلڈ کپ میں بہترین کارکردگی دکھائی اور ایک مرتبہ پھر فائنل تک رسائی حاصل کی جہاں رکی پونٹنگ کے دھواں دار 140 رنز نے انڈیا کو کچل ڈالا اور یوں آسٹریلیا تین مرتبہ یہ ٹورنامنٹ جیتنے والی پہلی ٹیم بن گئی۔

نواں عالمی کپ[ترمیم]

2007 میں منعقد ہوا۔ نویں ورلڈ کپ کا میزبان پہلے دو ورلڈ کپ مقابلوں کا فاتح ویسٹ انڈیز بنا۔ تیرہ مارچ سے اٹھائیس اپریل تک جاری رہنے والے ان مقابلوں میں کل سولہ ٹیمیں شریک ہوئیں جنہیں چار گروپس میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ہرگروپ میں سے دو بہترین ٹیموں نے سپر ایٹ مرحلے میں جگہ بنائی اور آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ اور سری لنکا کی ٹیمیں سیمی فائنل مرحلے میں پہنچیں۔ ماضی میں ورلڈ کپ کے سیمی فائنل مرحلے سے آگے بڑھنے میں ناکام رہنے والی نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں اس بار بھی اس مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکیں اور 2007 ورلڈ کپ کا فائنل میچ ٹیموں کے لحاظ سے سنہ 1996 کے فائنل کا ری پلے ثابت ہوا۔ تاہم اس بار نتیجہ سنہ چھیانوے کے ورلڈ کپ سے الٹ رہا اور آسٹریلیا نے اٹھائیس اپریل کو کنزنگٹن اوول میں کھیلے گئے فائنل میں سری لنکا کو چھ وکٹ سے ہرا کر لگاتار تیسری بار اور مجموعی طور پر چوتھی مرتبہ یہ مقابلے جیت لیے۔

دسواں ورلڈ کپ[ترمیم]

12 فروری 2011 سے 2 اپریل 2011 تک کھیلا گیا۔ اس کی میزبانی پاکستان، سری لنکا، ہندوستان، بنگلہ دیش کے حصے میں آئی تھی۔ مگر ناسازگار حالات کی وجہ سے پاکستان میں کھیلے جانے والے میچز ہندوستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں منتقل کر دیے گئے۔ ان مقابلوں میں کل چودہ ٹیمیں شریک ہوئیں جنہیں دو گروپ میں تقسیم کیا گیا گروپ اے میں پاکستان، سری لنکا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، زمبابوے، کینیا، کینیڈا اور گروپ بی میں ہندوستان، بنگلہ دیش، جنوبی افریقہ، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، آئر لینڈ، ہالینڈ نے شرکت کی کہ جن میں سے چار چار ٹیمیں کوارٹر فائنل میں پہنچیں، گروپ اے میں سے پاکستان، سری لنکا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور گروپ بی میں سے ہندوستان، جنوبی افریقہ، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز۔ ان میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو شکست دے کرسیمی فائنل میں مقام بنایا اور اس کے مقابلے مین ہندوستان نے سابق چیمپین آسٹریلیا کو ہرا کر دوسرے سیمی فائنل کو رونق بخشی اور پہلے سیمی فائنل میں سری لنکا نے انگلینڈ کو اور نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقہ کو شکست دے کر حصہ لیا، پھر پہلے سیمی فائنل میں سری لنکا نیوزی لینڈ کو شکست دے کر فائنل میں پہنچی اوردوسرے سیمی فائنل میں ہندوستان نے پاکستان کو ہرا دیا، اس طرح 2011ء کے دسویں عالمی کپ کا فائنل 2/ اپریل کو ممبئی میں سری لنکا اور ہندوستان کے درمیان میں کھیلا گیا جس میں ہندوستان نے سری لنکا کو چھ وکٹ سے شکست دے اٹھائیس سال بعد دوسری مرتبہ عالمی کپ کا سہرا اپنے سر باندھا۔ اس بار مجموعی طور پر اڑتالیس مقابلے ہوئے۔

گیارہواں عالمی کپ[ترمیم]

2015ء میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں منعقد ہوا۔ نیوزی لینڈ نے پہلی بار فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔ آسٹریلیا نے فائنل میں نیوزی لینڈ کوہرا کر پانچویں بار یہ اعزاز اپنے نام کیا

بارہواں عالمی کپ[ترمیم]

کرکٹ عالمی کپ 2019ء (باضابطہ طور پر آئی سی سی کرکٹ عالمی کپ، 2019ء) بارہواں کرکٹ عالمی کپ ہے جس کا پہلا میچ 30 مئی کو ہوا اور یہ سلسلہ 14 جولائی، 2019ء تک انگلستان اور ویلز میں جاری رہا۔فائنل میں انگلستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں سے رسائی حاصل کی۔ میچ ایک سنسنی خیز رہا، میچ برابر ہو گیا مگر انگستان کے چوکے( چار رنز ایک بال پر ) زیادہ ہونے کی وجہ سے عالمی کپ کا پہلا فاتح بن گیا۔

کارکردگی[ترمیم]

سال میزبان قوم (قومیں) فائنل مقام فائنل
فاتح نتیجہ رنر اپ
1975
تفصیلات
انگلستان کا پرچم
انگلستان
لارڈز کرکٹ گراؤنڈ، لندن  ویسٹ انڈیز
291/8 (60 اوورز)
ویسٹ انڈیز 17 رنز سے کامیاب اسکورکارڈ  آسٹریلیا
274 تمام آؤٹ (58.4 اوورز)
1979
تفصیلات
انگلستان کا پرچم
انگلستان
لارڈز کرکٹ گراؤنڈ، لندن  ویسٹ انڈیز
286/9 (60 اوورز)
ویسٹ انڈیز 92 رنز سے کامیاب اسکورکارڈ  انگلستان
194 تمام آؤٹ (51 اوورز)
1983
تفصیلات
انگلستان کا پرچم
انگلستان
لارڈز کرکٹ گراؤنڈ، لندن  بھارت
183 تمام آؤٹ (54.4 اوورز)
بھارت 43 رنز سے کامیاب اسکورکارڈ  ویسٹ انڈیز
140 تمام آؤٹ (52 اوورز)
1987
تفصیلات
بھارت کا پرچم پاکستان کا پرچم
بھارت، پاکستان
ایڈن گارڈنز، کولکاتہ  آسٹریلیا
253/5 (50 اوورز)
آسٹریلیا 7 رنز سے کامیاب اسکورکارڈ  انگلستان
246/8 (50 اوورز)
1992
تفصیلات
آسٹریلیا کا پرچم نیوزی لینڈ کا پرچم
آسٹریلیا، نیوزی لینڈ
میلبورن کرکٹ گراؤنڈ، میلبورن  پاکستان
249/6 (50 اوورز)
پاکستان 22 رنز سے کامیاب اسکورکارڈ  انگلستان
227 تمام آؤٹ (49.2 اوورز)
1996
تفصیلات
بھارت کا پرچم پاکستان کا پرچم سری لنکا کا پرچم
بھارت، پاکستان، سری لنکا
قذافی اسٹیڈیم، لاہور  سری لنکا
245/3 (46.2 اوورز)
سری لنکا 7 وکٹوں سے کامیاب اسکورکارڈ  آسٹریلیا
241/7 (50 اوورز)
1999
تفصیلات
انگلستان کا پرچم
انگلستان
لارڈز کرکٹ گراؤنڈ، لندن  آسٹریلیا
133/2 (20.1 اوورز)
آسٹریلیا 8 وکٹوں سے کامیاب اسکورکارڈ  پاکستان
132 تمام آؤٹ (39 اوورز)
2003
تفصیلات
جنوبی افریقا کا پرچم
جنوبی افریقہ، زمبابوے، کینیا
وانڈررز اسٹیڈیم، جوہانسبرگ  آسٹریلیا
359/2 (50 اوورز)
آسٹریلیا 125 رنز سے کامیاب اسکورکارڈ  بھارت
234 تمام آؤٹ (39.2 اوورز)
2007
تفصیلات
ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کا پرچم
ویسٹ انڈیز
کنسنگٹن اوول، برج ٹاؤن  آسٹریلیا
281/4 (38 اوورز)
آسٹریلیا 53 رنز سے کامیاب (ڈک ورتھ لیوس) اسکورکارڈ  سری لنکا
215/8 (36 اوورز)
2011
تفصیلات
بھارت کا پرچم بنگلادیش کا پرچم سری لنکا کا پرچم
بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا
وینکاڈے اسٹیڈیم، ممبئی  بھارت
277/4 (48.2 اوورز)
بھارت 6 وکٹوں سے کامیاب اسکورکارڈ  سری لنکا
274/6 (50 اوورز)
2015
تفصیلات
آسٹریلیا کا پرچم نیوزی لینڈ کا پرچم
آسٹریلیا، نیوزی لینڈ
ایم سی جی، ملبورن،
آسٹریلیا
 آسٹریلیا
186/3 (33.1 اوور)
آسٹریلیا 7 ووکٹ سے جیت گيا
اسکور کارڈ
 نیوزی لینڈ
183 تمام آؤٹ (45 اوور)
2019
تفصیلات
انگلستان کا پرچم
انگلینڈ
لارڈز میں، لندن،
انگلینڈ
2023
تفصیلات
بھارت کا پرچم
India

ٹیموں کی کارکردگی[ترمیم]

ٹیم\ میزبان 1975
(8)
1979
(8)
1983
(8)
1987
(8)
1992
(9)
1996
(12)
1999
(12)
2003
(14)
2007
(16)
2011
(14)
2015
(14)
2019
(10)
2023
(10)
انگلستان کا پرچم انگلستان کا پرچم انگلستان کا پرچم بھارت کا پرچم
پاکستان کا پرچم
آسٹریلیا کا پرچم
نیوزی لینڈ کا پرچم
بھارت کا پرچم
پاکستان کا پرچم
سری لنکا کا پرچم
انگلستان کا پرچم جنوبی افریقا کا پرچم ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کا پرچم بھارت کا پرچم
سری لنکا کا پرچم
بنگلادیش کا پرچم
آسٹریلیا کا پرچم
نیوزی لینڈ کا پرچم
انگلستان کا پرچم
ویلز کا پرچم
بھارت کا پرچم
 افغانستان راؤنڈ 1 اہل
 آسٹریلیا دوم راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 فاتح راؤنڈ 1 دوم فاتح فاتح فاتح کوارٹر فائنل فاتح اہل
 بنگلادیش راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 سپر 8 راؤنڈ 1 کوارٹر فائنل اہل
 برمودا راؤنڈ 1
 کینیڈا راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 راؤنڈ 1
مشرقی افریقا راؤنڈ 1
 انگلستان سیمی فائنل دوم سیمی فائنل دوم دوم کوارٹر فائنل راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 سپر 8 کوارٹر فائنل راؤنڈ 1 اہل
 بھارت راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 فاتح سیمی فائنل راؤنڈ 1 سیمی فائنل S6 دوم راؤنڈ 1 فاتح سیمی فائنل اہل Q
 آئرلینڈ سپر 8 راؤنڈ 1 راؤنڈ 1
 کینیا راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 سیمی فائنل راؤنڈ 1 راؤنڈ 1
 نمیبیا راؤنڈ 1
 نیدرلینڈز راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 راؤنڈ 1
 نیوزی لینڈ سیمی فائنل سیمی فائنل راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 سیمی فائنل کوارٹر فائنل سیمی فائنل S6 سیمی فائنل سیمی فائنل دوم اہل
 پاکستان راؤنڈ 1 سیمی فائنل سیمی فائنل سیمی فائنل فاتح کوارٹر فائنل دوم راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 سیمی فائنل کوارٹر فائنل اہل
 سکاٹ لینڈ راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 راؤنڈ 1
 جنوبی افریقا سیمی فائنل کوارٹر فائنل سیمی فائنل راؤنڈ 1 سیمی فائنل کوارٹر فائنل سیمی فائنل اہل
 سری لنکا راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 فاتح راؤنڈ 1 سیمی فائنل دوم دوم کوارٹر فائنل اہل
 متحدہ عرب امارات راؤنڈ 1 راؤنڈ 1
 ویسٹ انڈیز فاتح فاتح دوم راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 سیمی فائنل راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 سپر 8 کوارٹر فائنل کوارٹر فائنل اہل
 زمبابوے راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 S6 S6 راؤنڈ 1 راؤنڈ 1 راؤنڈ 1

ِ†سابقہ ٹیم

ظہور اول برائے ٹیم[ترمیم]

سال ٹیمیں
1975  آسٹریلیا،  مشرقی افریقا،  انگلستان،  بھارت،  نیوزی لینڈ،  پاکستان،  سری لنکا،  ویسٹ انڈیز
1979  کینیڈا
1983  زمبابوے
1987 کوئی نہیں
1992  جنوبی افریقا
1996  کینیا،  نیدرلینڈز،  متحدہ عرب امارات
1999  بنگلادیش،  سکاٹ لینڈ
2003  نمیبیا
2007  برمودا،  آئرلینڈ
2011 کوئی نہیں
2015  افغانستان
2019 کوئی نہیں
2023

اب موجود نہیں

انعامات[ترمیم]

مین آف ٹورنامنٹ [1][ترمیم]

سال کھلاڑی کارکردگی کی تفصیلات
1992 نیوزی لینڈ کا پرچم مارٹن کرو 456 رنز
1996 سری لنکا کا پرچم سناتھ جے سوریا 221 رنز اور 7 وکٹیں
1999 جنوبی افریقا کا پرچم لانس کلوزنر 281 رنز اور 17 وکٹیں
2003 بھارت کا پرچم سچن ٹنڈولکر 673 رنز اور 2 وکٹیں
2007 آسٹریلیا کا پرچم گلین میکگرا 26 وکٹیں
2011 بھارت کا پرچم یوراج سنگھ 362 رنز اور 15 وکٹیں
2015 آسٹریلیا کا پرچم مچل اسٹارک 22 ووکٹیں

ورلڈ کپ فائنل میں مین آف دی میچ[ترمیم]

سال کھلاڑی کارکردگی کی تفصیلات
1975 ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کا پرچم کلائیو لائیڈ 102 رنز
1979 ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کا پرچم ویوین رچرڈز 138*
1983 بھارت کا پرچم موہندر امرناتھ 3/12 اور 26
1987 آسٹریلیا کا پرچم ڈیوڈ بون 75 رنز
1992 پاکستان کا پرچم وسیم اکرم 33 اور 3/49
1996 سری لنکا کا پرچم اورندا ڈی سلوا 107* اور 3/42
1999 آسٹریلیا کا پرچم شین وارن 4/33
2003 آسٹریلیا کا پرچم رکی پونٹنگ 140*
2007 آسٹریلیا کا پرچم ایڈم گلکرسٹ 149
2011 بھارت کا پرچم مہندر سنگھ دھونی 91*
2015 آسٹریلیا کا پرچم جیمز فولکنر 3/36

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "کرکٹ عالمی کپ Past Glimpses". webindia123.com. 07 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 31 اکتوبر 2007. 

سانچہ:ایڈن گارڈنز