قذافی اسٹیڈیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
قذافی اسٹیڈیم
میدان کی معلومات
مقاملاہور، پنجاب، پاکستان
جغرافیائی متناسق نظام31°30′48″N 74°20′0″E / 31.51333°N 74.33333°E / 31.51333; 74.33333متناسقات: 31°30′48″N 74°20′0″E / 31.51333°N 74.33333°E / 31.51333; 74.33333
تاسیس1959ء
گنجائش[1] 27٫000
ملکیتپاکستان کرکٹ بورڈ
مشتغللاہور سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن
متصرفلاہور کرکٹ ٹیم، لاہور لائنز، لاہور ایگلز پی آئی اے، پاکستان
اینڈ نیم
پویلین اینڈ
کالج اینڈ
بین الاقوامی معلومات
پہلا ٹیسٹ21–26 نومبر 1959:
 پاکستان بمقابلہ  آسٹریلیا
آخری ٹیسٹ21–25 مارچ 2022:
 پاکستان بمقابلہ  آسٹریلیا
پہلا ایک روزہ13 جنوری 1978:
 پاکستان بمقابلہ  انگلستان
آخری ایک روزہ6 ستمبر 2023:
 پاکستان بمقابلہ  بنگلادیش
پہلا ٹی2022 مئی 2015:
 پاکستان بمقابلہ  زمبابوے
آخری ٹی2017 اپریل 2023:
 پاکستان بمقابلہ  نیوزی لینڈ
پہلا خواتین ایک روزہ2 نومبر 2019:
 پاکستان بمقابلہ  بنگلادیش
آخری خواتین ایک روزہ9 نومبر 2022:
 پاکستان بمقابلہ  آئرلینڈ
پہلا خواتین ٹی2026 اکتوبر 2019:
 پاکستان بمقابلہ  بنگلادیش
آخری خواتین ٹی2016 نومبر 2022:
 پاکستان بمقابلہ  آئرلینڈ
بمطابق 5 ستمبر 2023
ماخذ: کرک انفو
قذافی اسٹیڈیم کے باہر کا منظر

قذافی اسٹیڈیم (Gaddafi Stadium)، جو پہلے لاہور اسٹیڈیم کے نام سے جانا جاتا تھا، لاہور، پنجاب، پاکستان کا ایک کرکٹ اسٹیڈیم ہے، جو پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کی ملکیت ہے۔ 27,000 کی گنجائش کے ساتھ یہ پاکستان کا چوتھا بڑا کرکٹ اسٹیڈیم ہے۔ یہ پی ایس ایل میں لاہور قلندرز کا گھریلو گراؤنڈ ہے۔ قذافی اسٹیڈیم پاکستان کا پہلا اسٹیڈیم تھا جو جدید فلڈ لائٹوں سے لیس تھا جس کے اپنے اسٹینڈ بائی پاور جنریٹر تھے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کا ہیڈ کوارٹر قذافی اسٹیڈیم میں واقع ہے، اس طرح یہ پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کا گھر ہے۔

یہ اسٹیڈیم 1959ء میں تعمیر ہوا اور اس کا ڈیزائن نصر الدین مراد خان نے مکمل کیا۔ اس کا نام لیبیا کے صدر معمر القذافی کے نام پر رکھا گبا۔

اس میدان پر پہلا کرکٹ ٹیسٹ میچ پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیموں کے مابین 1959ء میں 21 سے 26 نومبر کے دوران میں کھیلا گیا۔ 1996ء کے کرکٹ عالمی کپ کے لیے اس اسٹیڈیم کی تزئین و آرائش کی گئی تھی جب اس نے فائنل کی میزبانی کی تھی۔

میدان کے بارے میں حقائق[ترمیم]

  • قذافی اسٹیڈیم کا اصل نام لاہور اسٹیڈیم رکھا گیا تھا۔ جس کا ڈیزائن آرکیٹیکٹ مراد خان نے تیار کیا تھا۔ جس کو 1974ء میں تبدیل کیا گیا جب لیبیا کے صدر معمر القذافی نے اسلامی کانفرنس میں پاکستان کے نیوکلیائی ہتھیاروں کے حق میں خطاب کیا تھا۔
  • پاکستان کرکٹ بورڈ کاآفس بھی قذافی اسٹیڈیم میں واقع ہے۔
  • اسٹیڈیم کو 1995–1996ء میں کرکٹ عالمی کپ کے لیے دوبارہ مرمت کیا گیا تھا۔ 1996ء کے عالمی کرکٹ کپ کا فائنل یہاں پر کھیلا گیا تھا۔ نیر علی دادا نے اس کا نقشہ بنایا تھا۔

ریکارڈز[ترمیم]

اسی میدان پر 1996ء کے کرکٹ عالمی کپ کا فائنل سری لنکا اور آسٹریلیا کے درمیان میں کھیلا گیا تھا جو سری لنکا نے اروندا ڈی سلوا کی سنچری کی بدولت جیتا تھا اور سری لنکا کے کپتان ارجنا رانا تنگے نے اس وقت کی وزیر اعظم شہید بے نظیر بھٹو سے ٹرافی وصول کی تھی۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے محمد یوسف قذافی اسٹیڈیم میں سب سے زیادہ ٹیسٹ اور ون ڈے رنز بنانے والے بیٹسمین ہیں جبکہ ٹیسٹ میچوں میں عمران خان اور ون ڈے میں وسیم اکرم سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بولر ہیں۔ پاکستان کی جانب سے پہلی ٹیسٹ ہیٹ ٹرک وسیم اکرم نے اسی میدان میں مکمل کی تھی۔ جاوید میانداد نے اپنے شاندار ٹیسٹ کیریئر کا آغاز اسی میدان پر سنچری بنا کر کیا تھا۔ انضمام الحق نے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹرپل سنچری اسکور کی اور عمران خان نے سری لنکا کے خلاف میچ میں چودہ وکٹیں حاصل کیں جو ٹیسٹ کرکٹ میں کسی بھی پاکستانی بولر کی میچ میں سب سے بہترین کارکردگی ہے۔[2] چند سال قبل جب سری لنکا کی ٹیم لاہور میں دہشت گردی کا نشانہ بنی تو اس وقت قذافی اسٹیڈیم میں ٹیسٹ میچ جاری تھا جسے ختم کرکے سری لنکن کرکٹرز کو فوجی ہیلی کاپٹر میں سوار کرا کر وطن کے لیے روانہ کر دیا گیا

کھلاڑی کا نام ملک بقابلہ تاریخ
پیٹر پیتھرک نیوزی لینڈ کا پرچم نیوزی لینڈ پاکستان کا پرچم پاکستان 6 اکتوبر 1976
وسیم اکرم پاکستان کا پرچم پاکستان سری لنکا کا پرچم سری لنکا 6 مارچ 1999
محمد سمیع پاکستان کا پرچم پاکستان سری لنکا کا پرچم سری لنکا 8 مارچ 2002

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Gaddafi Stadium - World of Stadiums
  2. Najma Begum (1-20-2016)۔ "Lahore Cricket Stadium – Gaddafi Stadium"۔ Zerocric۔ 26 جنوری 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ