پاکستان سپر لیگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
پاکستان سپر لیگ
Pakistan Super League.png
ممالک  پاکستان
منتطم پاکستان کرکٹ بورڈ
طرز ٹوئنٹی/20
پہلا ٹورنامنٹ 2016
طرز ٹورنامنٹ دوہرا راؤنڈ روبن اور ناک آؤٹ
کل ٹیمیں 5 (موجودہ)
موجودہ فاتح اسلام آباد یونائیٹڈ
کامیاب ترین اسلام آباد یونائیٹڈ
زیادہ دوڑیں عمر اکملFlag of پاکستان
زیادہ ووکٹیں آندرے رسلFlag of ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ
ٹی وی ٹین سپورٹس، پی ٹی وی سپورٹس اور جیو سپر
ویب سائٹ psl-t20.com
پاکستان سوپر لیگ 2016ء

پاکستان سپر لیگ پاکستان کی ٹی/20 پریمئر لیگ ہے۔ یہ لیگ ٹیموں کے نام کی بجائے شہروں کے نام پر مشتمل ہے۔ اس لیگ کا مقصد بین الاقوامی کرکٹ ٹیموں کو پاکستان میں کھیلنے میں آمادہ کرنا اور پاکستان میں ٹوئنٹی/20 کرکٹ کا فروغ ہے۔ اس لیگ کا افتتاح 26 مارچ 2013ء کو ہونا تھا لیکن چند ناگزیر وجوہات کی وجہ سے اسی ملتوی کر دیا گیا۔بعدازاں یہ 4تا 23 فروری 2016شارجہ اور دوبئی میں کھیلی گئی [1]

معلومات[ترمیم]

پاکستان سپر لیگ کی پانچ فرنچائز کی نیلامی ملین93$ ڈالر کے عوض دس سال کے لئیے کی گئی سب سے بڑی بولی کراچی کنگز کے لئیے لگائی گئی۔ پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن میں ہر ٹیم میں 16کھلاڑی شامل کئیے گئے ۔ کھلاڑیوں کو پانچ کیٹگریز میں تقسیم کیا گیا. * پلاٹینم 193000$

  • ڈائمنڈ 65000$
  • گولڈ 47000$
  • سلور 28000$
  • ایمرجنگ 25000$

مزید توسیع[ترمیم]

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق 2019ءمیں اس لیگ کے چوتھے سلسہ میں 8 ٹیمیں کر دی جائیں گی اور 59 میچ کھیلے جائیں گے۔[2]

سارے پاکستانی میچز دیکھئے پی ٹی ؤی سپورٹس پر

لیگ کی ساخت[ترمیم]

قدر[ترمیم]

اس لیگ کی کل مالیت 93 ملین امریکی ڈالر ہے ۔

نیلامی[ترمیم]

پاکستان سپر لیگ کی پانچ فرنچائز کو 93 ملین امریکی ڈالر کےعوض دس سال کے لئے فروخت کیا گیا۔


کھلاڑیوں کی نیلامی[ترمیم]

پاکستان سپر لیگ کے لئے کھلاڑیوں کو پانچ درجوں میں تقسیم کیا گیا۔ کھلاڑی زیادہ سے زیادہ قیمت نیلامی کی قیمت 140,000 امریکی ڈالر تھی۔ پاکستان نے کھلاڑیوں کے لئے 2 ملین امریکی ڈالر کا بیمہ کروایا اور غیر ملکی کھلاڑیوں کی آمدنی کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ [3]

زمرہ قمیت ($)
پلاٹینم $190,000
ڈائمنڈ $65,000
گولڈ $47,000
سلور $28,000
امرجنگ $25,000

کھلاڑی[ترمیم]

پاکستان کرکٹ بورڈ نے پہلے تین سالوں کے لئے لیگ پانچ ٹیموں پر مشتمل ہو گی اور ہر ٹیم میں 6 غیر ملکی اور 10 مقامی کھلاڑی اور 2 ابھرتے ہوئے کھلاڑی شامل ہوں گے۔ [4][5]

سیزن[ترمیم]

افتتاحی سیزن 4 تا 23 فروری شارجہ اور دوبئی میں کھیلا گیا سیمی فائنل تک ہر ٹیم نے دوسری ٹیم سے دو میچ کھیلے ۔فائنل میں اسلام آباد یونائٹڈ نے کوئٹہ گلیڈیٹرز کو 6وکٹ سے ہرا کرچیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا ویسٹ انڈیز کے ڈیوائن سمتھ کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا ۔اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کے عمر اکمل 335 رنز کے ساتھ ٹاپ اسکوررجبکہ ویسٹ انڈیز کے آندرے رسل ٹاپ وکٹ ٹیکر رہے ۔

ٹیمیں[ترمیم]


ٹیمیں[ترمیم]

لاہور قلندرز

اظہر علی(کپتان), عدنان رسول,ڈیوائن براوو,کیون کوپر,کیمرون ڈلپرٹ,کرس گیل,حماد اعظم,محمد رضوان, مستفیز الرحمن,نوید یاسین,صہیب مقصود,عمر اکمل,یاسر شاه,ظفر گوہر,ضیاءالحق,ذوہیب خاں ,عبدالرزاق,احسان عادل,عمران بٹ اور مختار احمد

کراچی کنگز

شعیب ملک کپتان,بلاول بھٹی,روی بوپاره, افتخار احمد,عماد وسیم, میر حمزه,محمد عامر, مشفق الرحیم,نعمان انور,شفیع الله بنگش,شکیب الحسن,لنڈل سمنز,سہیل خاں,عثمان میر,جیمز ونس,تلکرتنے دلشان,فواد عالم اور شاه زیب حسن

اسلام آباد یونائیٹڈ

مصباح الحق(کپتان),عماد بٹ,بابر اعظم, سیموئیل بدری,سیم بلنگز,بریڈ ہیڈن,عمران خالد,کامران غلام,خالد لطیف,محمد عرفان,محمد سمیع,رومان رئیس,آندرے رسل,شرجیل خان,عمر امین,شین واٹسن, اشعر زیدی,حسین طلعت,سعید اجمل اور عمر صدیق

پشاور زلمی

شاہد آفریدی (کپتان),عامر یامین,جیمز ایلنبے,جوناتهن برسٹو,حسن علی,عمران خان, جنید خان,کامران اکمل,ڈیوڈ مالن,محمد اصغر, محمد حفیظ,مصدق احمد,ڈیرن سیمی,شاہد یوسف,شان ٹیٹ,تمیم اقبال,وہاب ریاض,کرس جورڈن,بریڈ ہوج,اسرار الله اور تاج ولی

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز

سرفراز احمد (کپتان),گرانٹ ایلیٹ,ناتهن میکلم,احمد شہزاد,اکبر الرحمن,انور علی,اسد شفیق,بلال آصف,بسم الله خان,ایلٹن چگمبرا, محمد نواز,محمد نبی,کیون پیٹرسن,سعد نسیم ,عمر گل,لیوک رائٹ,ذوالفقار بابر,جیسن ہولڈر, اعزاز چیمہ,رمیز راجہ اور کمار سنگاکارا

امپائر و دیگر آفیشلز[ترمیم]

بین الاقوامی امپائر جوئل ولسن پاکستان سے علیم ڈار ,شوذب رضا ,احمد شهاب ,راشد ریاض ,خالد محمود اور احسن رضا اس لیگ میں امپائر کے فرائض سرانجام دئیے۔سری لنکا کےروشن مہانامہ اور پاکستان کے محمد انیس میچ ریفریز تهے. [6]

ٹیلیویژن اور بعید نما[ترمیم]

Sunset + Vine نامی کمپنی کو پاکستان سپر لیگ کے نشریاتی حقوق چار سال کے لئے دئیے گئے۔ ٹین سپورٹس،جیو سوپر اور پی ٹی وی سپورٹس کو پاکستان میں نشریاتی حقوق تین سال کے لئے دئیے گے۔ پاکستان سپر لیگ کے نشریاتی حقوق 15ملین امریکی ڈالر کے عوض فروخت کئیے گئے۔ پاکستان سپر لیگ کو یوٹیوب پر بھی دکھایا گیا۔

نشریاتی حقوق

Flag of پاکستانپاکستان جیو سوپر ,ٹین سپورٹس اور پی ٹی وی سپورٹس

Flag of انگلستانانگلینڈ پرائم ٹی وی

Flag of بنگلہ دیشبنگلہ دیش غازی ٹی وی

Flag of سری لنکاسری لنکا ٹین سپورٹس

Flag of ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈویسٹ انڈیز Flow tv

Flag of متحدہ عرب اماراتمتحده عرب امارات OSN

مزید دیکھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. [1]
  2. "Pakistan T20 League not to be underestimated - Lorgat". ESPN Cricinfo. اخذ کردہ بتاریخ 12 January 2013. 
  3. http://www.espncricinfo.com/pakistan/content/current/story/601992.html
  4. http://www.nation.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-english-online/sports/13-Jan-2013/indian-cricketers-keen-on-pakistan-super-league
  5. http://tribune.com.pk/story/492677/pakistan-super-league-indian-players-want-to-take-part-says-pcb-official/
  6. http://dawn.com/2013/01/25/koertzen-proctor-on-board-as-psl-officials/

http://www.cricketlive.pk/

بیرونی روابط[ترمیم]