عاقب جاوید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عاقب جاوید سندھو ٹیسٹ کیپ نمبر 109
Aqib javeed.jpeg
ذاتی معلومات
مکمل نامعاقب جاوید سندھو
پیدائش5 اگست 1972ء (عمر 49 سال)
شیخوپورہ, پنجاب, پاکستان
بلے بازیدائیں ہاتھ کا بلے باز
گیند بازیدایاں بازو فاسٹ میڈیم
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
پہلا ٹیسٹ (کیپ 109)10 فروری 1989  بمقابلہ  نیوزی لینڈ
آخری ٹیسٹ27 نومبر 1998  بمقابلہ  زمبابوے
پہلا ایک روزہ (کیپ 67)10 دسمبر 1988  بمقابلہ  ویسٹ انڈیز
آخری ایک روزہ24 نومبر 1998  بمقابلہ  زمبابوے
قومی کرکٹ
سالٹیم
2000/01شیخوپورہ کرکٹ ٹیم
1994/95–2002/03الائیڈ بینک لمیٹڈ
1993/94–1996/97اسلام آباد کرکٹ ٹیم
1991ہیمپشائر کاؤنٹی کرکٹ کلب
1989/90–1991/92پاکستان آٹوموبائل کارپوریشن کرکٹ ٹیم
1984/85–1986/87لاہور ڈویژن
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ ایک روزہ فرسٹ کلاس لسٹ اے
میچ 22 163 121 250
رنز بنائے 101 267 819 469
بیٹنگ اوسط 5.05 10.68 9.41 9.97
100s/50s –/– –/– –/1 –/–
ٹاپ اسکور 28* 45* 65 45*
گیندیں کرائیں 3,918 8,012 19,267 12,212
وکٹ 54 182 358 289
بالنگ اوسط 34.70 31.43 26.66 30.14
اننگز میں 5 وکٹ 1 4 19 5
میچ میں 10 وکٹ 5
بہترین بولنگ 5/84 7/37 9/51 7/37
کیچ/سٹمپ 2/– 24/– 19/– 43/–
ماخذ: Cricinfo، 9 May 2010

عاقب جاوید سندھو (پیدائش:05 اگست 1972ء شیخوپورہ، پنجاب) پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی اور کوچ ره چکے ہیں۔ وہ دائیں ہاتھ کے کھلاڑی ہیں لیکن ان کی ایک بڑی پہچان دائیں ہاتھ کے ایک تیز میڈیم باولر کی ہے اور انہوں نے 1988ءسے1998ء تک 22 ٹیسٹ اور 163 ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیلے۔ انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور میں اپنی تعلیم حاصل کی انہوں نے پاکستان کے علاوہ الائیڈ بینک ،ہمپشائر کاونٹی،اسلام آباد کرکٹ ایسوسی ایشن،لاہور ڈویژن،پاکستان آٹو موبائل کارپوریشن ،شیخوپورہ کرکٹ ایسوسی ایشن کی طرف سے بھی کرکٹ کھیلیعاقب جاوید نے 19سال کی عمر میں انڈیا کے خلاف ہیٹ ٹرک کی۔ جب پاکستانی ٹیم نے 1992ء میں کرکٹ ورلڈکپ جیتا جب آپ ٹیم کے اہم کھلاڑی تھے۔ آپ کی شادی ”فرزانہ برکھی“ سے ہوئی۔

ٹیسٹ کرکٹ میں آمد[ترمیم]

عاقب جاوید نے 1989ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف ولنگٹن کے مقام پر اپنے ایک ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا تھا مگر اس پہلے میچ میں وہ کوئی بھی وکٹ لینے سے محروم رہے حالانکہ انہوں نے 160 رنز دیئے تھے تاہم آسٹریلیا کے خلاف 1990ء میں میلبورن کے واحد ٹیسٹ میں انہوں نے 3 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔ آسٹریلیا کی فتح پر ختم ہونے والے اس ٹیسٹ میں اصل میں اعلیٰ کارکردگی وسیم اکرم کی تھی جنہوں نے 11 کھلاڑیوں کو اپنا نشانہ بنایا تھا۔ تاہم عاقب جاوید نے پہلی اننگ میں 47/2 کی کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے سٹیو وا کو سلیم یوسف کے ہاتھوں وکٹوں کے پیچھے کیچ کروا کر اپنی پہلی ٹیسٹ وکٹ حاصل کی۔ بعد میں انہوں نے آئن ہیلی کو بھی اپنا شکار بنایا۔ دوسری باری میں انہوں نے 55/1 کے ساتھ جیف مارش کی وکٹ حاصل کی۔1990ء میں جب نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تو عاقب جاوید نے کراچی کے ٹیسٹ میں ایک بار پھر 3 کھلاڑیوں کی اننگز کا خاتمہ کیا جبکہ لاہور کے ٹیسٹ میں وہ ایک ہی وکٹ لے پائے۔ لیکن فیصل آباد ٹیسٹ میں انہوں نے 87 رنز کے عوض 3 کیوی کھلاڑیوں کو کریز سے رخصت کیا۔ 1991ء میں سری لنکا کی ٹیم پاکستان کے دورہ پر آئی تو انہوں نے سیالکوٹ اور فیصل آباد کے 2 ٹیسٹوں میں 6 کھلاڑیوں کو پویلین بھجوایا جن میں سیالکوٹ ٹیسٹ میں 92 رنز کے عوض 4 وکٹوں تک رسائی بھی شامل تھی۔ تاہم گوجرانوالہ کے ٹیسٹ میں ان کی بولنگ نہ آسکی۔ 1992ء میں جب پاکستان نے انگلستان کا دورہ کیا تو عاقب جاوید مانچسٹر کے ٹیسٹ میں 100 رنز کے عوض 4 کھلاڑیوں کیلئے خطرہ بنے۔ جبکہ لارڈز اور برمنگھم کے ٹیسٹوں میں ان کے حصے میں 1,1 وکٹ آئی۔ لیڈز کے ٹیسٹ میں بھی ایک اور اوول کے ٹیسٹ میں 2 کھلاڑیوں کیلئے وہ خطرہ ثابت ہوئے۔ 1993ء میں نیوزی لینڈ اور 1994ء میں آسٹریلیا کے خلاف 2 ٹیسٹوں میں ان کی بولنگ مخالف ٹیموں کیلئے خطرے کا باعث نہیں تھی۔لیکن جنوبی افریقہ کے دورہ میں جو کہ جنوری 1995ء میں تھا عاقب جاوید نے بولنگ میں 5 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔ یہ ٹیسٹ جنوبی افریقہ کی 324 رنز کی فتح پر اختتام پذیر ہوا تھا کیونکہ جنوبی افریقہ کے پہلے کھیلتے ہوئے 460 رنز بنائے۔ برائن میکملن 113، جونٹی رھوڈز 72، فینی ڈویلیرز 66، گیری کرسٹن 62 کے ساتھ نمایاں سکورر تھے مگر پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے بولرز نے بھی اس سکور میں نمایاں اضافہ کروایا تھا جب انہوں نے 36 نو بالز اور 6 وائیڈز کے ساتھ ایکسٹرا کی تعداد کو 64 تک تقویت دی تھی۔ پاکستان نے 230 رنز کی پہلی اننگ کھیلی جبکہ دوسری باری میں بھی 490 کے ہدف میں وہ صرف 165 رنز بنا سکی۔اس کے بعد اس نے زمبابوے کے خلاف ہرارے میں 73 رنز دے کر 2 کھلاڑیوں کو اپنا نشانہ بنایا لیکن ہرارے کے اگلے ٹیسٹ میں زمبابوے کے کھلاڑیوں کو عاقب جاوید کو کھیلنے میں زیادہ مشکل پیش آئی۔ پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے انضمام الحق کے 101 رنز کی مدد سے 231 رنز سکور کئے۔ جس کے جواب میں زمبابوے اپنی پہلی اننگ میں 243 سے آگے نہ بڑھ سکا۔ عاقب جاوید نے 64/4 اور عامر نذیر نے 13/3 سے زمبابوے کے کھلاڑیوں کا راستہ بخوبی روکا تھا۔ پاکستان نے دوسری اننگ میں 250 رنز بنائے۔ انضمام الحق اس بار بھی مرد بحران ثابت ہوئے اور انہوں نے 83 رنز کی مزاحمتی اننگ کھیلی۔ اعجاز احمد کے 55 رنز بھی ٹیم کے سکور کو تقویت دینے میں نمایاں تھے۔ زمبابوے کی ٹیم جیت کیلئے درکار 239 رنز کے تعاقب میں صرف 139 پر ہی ڈھیر ہوگئی۔ پاکستان کی 99 رنز کی فتح نے عامر نذیر 46/5، وسیم اکرم 45/2 اور عاقب جاوید 26/2 کے ساتھ نمایاں کردار ادا کر گئے تھے۔ سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز میں عاقب جاوید ایک بار پھر نمایاں نظر آئے۔ پشاور کے ٹیسٹ میں انہوں نے 77/3 کی کارکردگی دکھائی اور فیصل آباد کے ٹیسٹ میں 118 رنز کے عوض میچ میں ان کے حصے میں 8 وکٹ آئے۔انہوں نے اس ٹیسٹ میں پاکستان کی سری لنکا پر برتری کیلئے بہترین بولنگ کی مگر سری لنکا نے اس ٹیسٹ میں 42 رنز سے کامیابی حاصل کرلی۔ مرلی دھرن کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا تھا۔ سری لنکا نے پہلے کھیلتے ہوئے 223 رنز بنائے جس میں ہشان تلکارتنے کے 115 رنز کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے جن کا ساتھ چندیکا ہتھورا سنگھے نے 47 کے ساتھ خوب نبھایا تھا۔ پاکستان کی طرف سے عاقب جاوید 34/3، ثقلین مشتاق 74/3 اور وسیم اکرم31/2 کے ساتھ سری لنکن بیٹنگ کا شیرازہ بکھیرنے میں برابر کے حصہ دار تھے۔ پاکستان کی ٹیم نے اپنی اننگ میں 333 رنز بنائے۔ کپتان رمیز راجہ 75، سعید انور 54 اور انضمام الحق 50 کے ساتھ پاکستان کی تقویت کا باعث بنے تھے۔ مرلی دھرن نے 68/5 کے ساتھ اپنی گیندوں کا جادو جگایا۔ سری لنکا نے دوسری اننگ میں 361 رنز کی نمایاں اننگ کھیلی جس میں اروندا ڈیسلوا کے 105، چندیکا 83 اور کمارا دھرما سینا کے 49 رنز کی مزاحمت صاف دکھائی دے رہی تھی۔ پاکستان نے 252 کے ہدف میں اس وقت ناکامی کا اعلان کیا جب ان کی ساری ٹیم 209 پر پویلین لوٹ گئی۔ معین خان اور سعید انور کے 50,50 رنز اس باری میں شامل نہ ہوتے تو پاکستان کا حشر کیا ہوتا۔ سیالکوٹ کے اگلے ٹیسٹ میں عاقب جاوید 5 وکٹس لے اڑے تھے۔ تاہم اس کے بعد 3 سال تک وہ قومی ٹیم سے دور رہے۔ 1998ء میں زمبابوے کے دورئہ پاکستان کے موقع پر انہیں پشاور کے ٹیسٹ میں ٹیم کا حصہ بنایا گیا مگر وہ 88 رنز کے عوض ایک بھی وکٹ لینے سے قاصر رہے۔

ون ڈے کیریئر[ترمیم]

عاقب جاوید کا ون ڈے کیریئر 163 میچوں پر مشتمل ہے۔ ان کو 1988ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ایڈیلیڈ کے میدان پر ٹیم کا حصہ بنایا گیا تھا۔ جس میں انہوں نے رچی رچرڈسن کو سلیم یوسف کے ہاتھوں وکٹوں کے پیچھے کیچ کروا کے اپنی پہلی بین الاقوامی وکٹ حاصل کی تھی۔ اگلے سال انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پرتھ میں 33/2، آسٹریلیا کے خلاف 3/28، ویسٹ انڈیز کے خلاف 2/49 اور آسٹریلیا کے خلاف 2/38 کی کارکردگی دکھا کر ٹیم میں اپنی جگہ پکی کرلی۔ مگر اگلے 4 میچوں میں وہ کوئی ایک بھی ایسی گیند نہ پھینک سکے جس پر انہیں وکٹ ملتی۔ اسی سیزن میں انہوں نے آکلینڈ کے میدان پر نیوزی لینڈ کے خلاف 48 رنز دے 3 کھلاڑیوں کو اپنا نشانہ بنایا۔ نیوزی لینڈ نے 249 رنز سکور کئے تھے جس میں عاقب جاوید نے جان رائٹ 59، آئن سمتھ 8 اور جیک کرو 27 کو اپنا شکار بنایا تھا۔ پاکستان نے مقررہ ہدف 48.3 اوورز میں مکمل کرلیا تھا جس میں رمیز راجہ 101، سلیم ملک 56 اور کپتان عمران خان 51 پر ناٹ آئوٹ رہے تھے۔ عاقب جاوید نے اسی سیزن میں ایک بار پھر 3 وکٹ لئے جب انہوں نے شارجہ میں انڈیا کے خلاف پاکستان کو 38 رنز سے کامیابی دلوائی۔ پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے سلیم ملک 102 اور شعیب محمد کے 51 کی بدولت 4 وکٹوں پر 252 رنز تشکیل دیئے۔ بھارت کی ٹیم مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں پر214 رنز بنا سکی۔ عاقب جاوید نے سری کانت، محمد اظہر الدین اور چیتن شرما کو اپنے چنگل میں پھنسا کر مقررہ ہدف کو ناقابل تسخیر بنا دیا تھا۔ لاہور میں منعقدہ ایک اور میچ میں عاقب جاوید نے بھارت کو ایک اور ہزیمت سے دوچار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 8 وکٹوں پر 150 رنز بنائے۔ اس سکور میں جاوید میانداد 30، سلیم ملک 29، شعیب محمد 26 اور رمیز راجہ 24 کے ساتھ بھرپور مزاحمت میں نظر آئے۔ اس کے باوجود یہ ہدف بادی النظر میں تھوڑا لگ رہا تھا لیکن جب بھارت کی باری آئی تو اس کی ساری ٹیم 112 پر ہی ڈھیر ہوگئی۔ سری کانت 31 کے ساتھ نمایاں سکورر تھے اور بھارتی بیٹنگ میں 18 رنز ایکسٹرا کے بھی شامل ہوئے مگر ان کی 38 رنز سے شکست نہ ٹل سکی۔ عاقب جاوید نے صرف 28 رنز دے کر 3 کھلاڑیوں کی اننگ کو مسدود کردیا تھا۔ عمران خان 10/2، وسیم اکرم 25/2 نے بھی اپنی خوب ذمہ داری دکھائی تھی۔عاقب جاوید کی ایک اور شاندار کارکردگی 1991ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف شارجہ میں دیکھنے کو ملی جب اس نے 54 رنز کے عوض 3 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔ لیکن وہ ایک دفعہ پھر بھارت پر وار کرنے کو تیار تھے جب شارجہ کی میدان میں پاکستانی ٹیم کو بھارت پر 72 رنز کی برتری حاصل ہوئی۔ پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 6 وکٹوں پر 262 رنز بنائے۔ اس میں زاہد فضل 98 اور سلیم ملک 87 کے ساتھ نمایاں سکورر تھے۔ منوج پربھارکر اور کپل دیو نے 3,3 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔ بھارت کی بیٹنگ کو پاکستانی بولرز نے ماسوائے سنجرے منجریکر کے تتر بتر کردیا اور اسی کا نتیجہ تھا کہ پوری بھارتی ٹیم 190 پر پویلین لوٹ گئی۔ بھارت کو اس انجام سے دوچار کرنے میں عاقب جاوید کی گیندوں کا کمال تھا۔ انہوں نے 10 اوورز میں ایک میڈن اوور کے ساتھ 37 رنز دے کر 7 کھلاڑیوں روی شاستری، نوجوت سدھو، سنجے منجریکر، کپتان محمد اظہر الدین، سچن ٹنڈولکر، کپل دیو اور منوج پربھارکر کا راستہ روک کر اپنی بہترین پرفارمنس کا جادو جگایا۔ 1991ء میں ہی ویسٹ انڈیز کے خلاف فیصل آباد میں 31/4، سری لنکا کے خلاف حیدر آباد سندھ میں 30/3، ملتان میں 2/40 اور راولپنڈی میں 2/25 کے اعداد و شمار بھی اس کی اچھی کارکردگی کا پتہ دے رہے ہیں۔ 1992ء میں اس نے آسٹریلیا کے خلاف 21/3، میلبورن میں انگلینڈ کے خلاف 27/2، لارڈز میں 54/3 کے ساتھ ٹیم کی مدد کی۔ 1995ء میں عاقب جاوید نے بھارت کے خلاف شارجہ میں ایک اور اچھی بولنگ کا کرشمہ دکھایا۔ انہوں نے صرف 19 رنز دے کر بھارتی کھلاڑیوں کیلئے مشکلات پیدا کیں۔ اس نے 1997ء میں گوالیار میں کھیلے گئے ایک میچ میں سری لنکا کے خلاف 5/35 اور بھارت کے خلاف چنئی میں 61/5 کے خوبصورت اعداد و شمار کو اپنے ریکارڈ میں شامل کیا۔ حیدر آباد سندھ میں بھارت کے خلاف سیریز میں 4/29 بھی اس کی اعلیٰ کارکردگی کا نمونہ تھے۔ عاقب جاوید نے اپنا آخری ایک روزہ مقابلہ زمبابوے کے خلاف راولپنڈی میں کھیلا جس میں وہ 47 رنز کے عوض ایک وکٹ کے مالک بن سکے۔ یوں عاقب جاوید نے 1988-89ء سے لے کر 1998-99ء تک کے کیریئر میں 163 میچوں میں 182 وکٹوں کے حصول میں کامیابی حاصل کی۔

اعدادوشمار[ترمیم]

عاقب جاوید نے 22 ٹیسٹوں کی 27 اننگز میں 7 دفعہ ناٹ آئوٹ رہ کر 101 رنز سکور کئے۔ 5.05 کی اوسط سے بننے والے ان رنزوں میں 28 ناٹ آوٹ تھا جبکہ 163 ایک روزہ میچوں کی 51 اننگ میں 26 دفعہ بغیر آئوٹ انہوں نے 267 رنز 10.68 کی اوسط سے بنائے جس میں 45 ناٹ آوٹ اس کی کسی ایک اننگ کا بہترین سکور تھا۔ اس طرح 121 فرسٹ کلاس میچوں کی 135 اننگز میں 48 دفعہ ناٹ آئوٹ رہ کر انہوں نے 819 رنز 9.41 کی اوسط سے بنائے 65 اس کی ایک اننگ میں سب سے زیادہ سکور تھا۔ عاقب جاوید نے1874 رنز دے کر 54 ٹیسٹ وکٹ حاصل کیے 34.70 کی اوسط سے حاصل کردہ ان وکٹوں میں 5/84 کسی ایک اننگ کی بہترین باولنگ اور 8/188 کسی ایک میچ کی بہترین باولنگ کے اعدادوشمار تھے انہوں نے 2 دفعہ کسی ایک اننگ میں یا اس سے زائد جبکہ 1 دفعہ کسی ایک میچ میں 5 یا اس سے زائد وکٹ لیے عاقب جاوید نے ایک روزہ میچز میں 5721 رنز دے کر 182 وکٹیں اپنے اکائونٹ میں نمایاں کیں۔ 7/37 اس کی کسی ایک ون ڈے اننگ کی بہترین بولنگ ہے جس کیلئے انہیں 31.43 کی اوسط حاصل ہوئی۔ 2 دفعہ ایک اننگ میں 4 جبکہ 4 دفعہ ایک اننگ میں 5 وکٹیں لینے کا منفرد کارنامہ بھی ان کے پاس ہے۔ فرسٹ کلاس میچوں میں عاقب جاوید کی وکٹوں کی تعداد 358 جس کیلئے انہوں نے 26.66 کی اوسط سے 9546 دیئے۔ 9/51 ان کی بہترین بولنگ ہے۔ 19 دفعہ کسی ایک اننگ میں 5 یا اس سے زائد اور 5 دفعہ کسی ایک میچ میں 10 وکٹوں کا اعزاز بھی ان کے نام ہے۔ عاقب حاوید کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس نے 16 سال 189 دن کی عمر میں ء کے

حوالہ جات[ترمیم]