شاہ محمود قریشی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شاہ محمود قریشی
تفصیل=

وزیر خارجہ پاکستان
آغاز منصب
20 اگست 2018
وزیر اعظم عمران خان
Fleche-defaut-droite-gris-32.png عبد اللہ حسین ہارون (قائم مقام)
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
مدت منصب
31 مارچ 2008 – 9 فروری 2011
صدر پرویز مشرف
آصف علی زرداری
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی
Fleche-defaut-droite-gris-32.png خورشید محمود قصوری
حنا ربانی کھر Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
نائب صدر پاکستان تحریک انصاف
آغاز منصب
27 نومبر 2011
حکومت پنجاب، پاکستان
مدت منصب
1990 – 1993
گورنر
وزیر اعظم بینظیر بھٹو
رکن پاکستان قومی اسمبلی
آغاز منصب
11 مئی 2013
صدر ممنون حسین
وزیر اعظم نواز شریف
مدت منصب
مارچ 2008 – نومبرr 2011
صدر آصف علی زرداری
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی
مدت منصب
مارچ 2002 – دسمبر 2007
صدر پرویز مشرف
وزیر اعظم ظفراللہ خان جمالی
چوہدری شجاعت حسین
شوکت عزیز
محمد میاں سومرو
معلومات شخصیت
پیدائش 22 جون 1956 (63 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مری  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
جماعت اسلامی جمہوری اتحاد  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد مخدوم سجاد حسین قریشی  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی ایچی سن کالج
کانپس کرسٹی کالج
فورمن کرسچین کالج  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں


شاہ محمود قریشی زرداری حکومت میں پاکستان کے وزیر خارجہ رہے 31 مارچ 2008ء تا فروری 2011ء پیپلز پارٹی کے فعال رکن رہا۔ زرداری حکومت سے بدظن ہو کر وزارت سے استعفی دے دیا اور بالآخر نومبر 2011ء میں زرداری جماعت اور پارلیمان سے بھی مستعفی ہو گئے۔[1] اور پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔

اس وقت وہ عمران خان کی کابینہ میں وزیر خارجہ پاکستان کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔[2]شاہ محمود قریشی دیگر پاکستانی حکمرانوں کی طرح مسلہ کشمیر کو ہندوستان کا داخلی معاملہ سمجھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی مشکل صرف یہ ہے کہ وہ پاکستان کی دشمنی میں اپنے ہی عوام کے خلاف اقدامات کر رہا ہے، ان کا کہنا ہے کہ کشمیر کے معاملے میں ہم وہی کریں گے جو سعودی عرب کہے گا، ہماری پالیسی وہی ہوگی جو متحدہ عرب امارات کی ہے، بس ہم اتنا چاہتے ہیں ہاتھ ہلکا رکھا جائے کیوں کہ پاکستانی عوام اس معاملے میں بعض اوقات کافی سنجیدہ ہوجاتے ہيں اور فوج بھی کشمیر کے مسلے کو لے کر اپنی جیبیں بھرنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔


حوالہ جات[ترمیم]

  1. "'میں پیپلز پارٹی چھوڑنے کا اعلان کرتا ہوں'"۔ بی بی سی موقع۔ 14 نومبر 2011ء۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. فراز ہاشمی (21 اگست 2018)۔ "عمران کی کابینہ میں تبدیلی کا عنصر ناپید"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔

بیرونی روابط[ترمیم]

  • شاہ محمود کا تعارف
  • ایک روایتی سیاست داں ہیں جو کسی چیز پر بھی یقین نہیں رکھتے، سیاست میں کوئی بھی چیز حرف آخر نہیں ہوتی، جہاں سے اقتدار ملے لے لو، کیوں اصل ہدف لوٹ کھسوٹ ہوتا ہے، اگر اصولوں کی سیاست کی تو پھر کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا، اصل چیز اقتدار ہے اور اقتدار کی خاطر ملک و قوم کو قربان کرنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں، اگر آپ یہ کام نہيں کریں گے تو کوئی دوسرا آکر یہ کام کرے گا، لہذا پارٹیاں بدلنا اور وفاداریاں تبدیل کرنا سیاست کا بنیادی حصہ ہے اور اس سے انکار کرنے والے ہمیشہ نقصان اٹھاتے ہيں۔
سیاسی عہدے
ماقبل 
انعام الحق
وزیر خارجہ پاکستان
2008 – 2011
مابعد 
TBD