شیریں مزاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
شیریں مزاری
Shireen Mazari.jpg
 

وزیرِ انسانی حقوق
آغاز منصب
20 اگست 2018ء
وزیر اعظم عمران خان
Fleche-defaut-droite-gris-32.png روشن خورشید بروچہ (قائم مقام)
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
رکن قومی اسمبلی پاکستان
آغاز منصب
13 اگست 2018ء
مدت منصب
1 جون 2013ء – 31 مئی 2018ء
معلومات شخصیت
پیدائش 26 اپریل 1966 (56 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت پاکستان تحریک انصاف  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی لندن اسکول آف اکنامکس
جامعہ کولمبیا  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ جغرافیائی سیاست دان،  صحافی،  سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل بین الاقوامی تعلقات  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

شیریں مہر النساء مزاری ایک پاکستانی سیاست دان جو قومی اسمبلی پاکستان کی رکن اور انسانی حقوق کی وزیر ہیں۔[2] شیریں مزاری سابقہ صحافی ہیں۔ وہ 2013ء میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔ دی نیشن اخبار کی ملازمت چھوڑ کر انہوں نے 2008ء میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ وہ عمران خان کی قریبی ساتھی سمجھی جاتی ہیں۔ انہوں نے 2012ء میں تحریک انصاف چھوڑی جبکہ مارچ 2013ء میں دوبارہ تحریک انصاف میں آگئیں اور وہ 2013ء میں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئیں۔[3]

شیریں مزاری نے لندن اسکول آف اکنامکس سے تعلیم حاصل کی اور بعد میں کولمبیا یونیورسٹی سے سیاسیات میں علامۂِ فلسفہ کی سند حاصل کی۔[4] انہوں نے بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر قائد اعظم یونیورسٹی میں شامل ہوئیں۔ 2002ء میں، مزاری حکومت کی مالی اعانت سے چلنے والے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کی سربراہ بن گئیں اور انہیں 2008ء میں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ 2009ء میں، مزاری دی نیشن کے ایڈیٹر بن گئیں۔[4]

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

شیریں مزاری پاکستان کے کوئٹہ میں بمطابق نادرا 6 جولائی 1951ء ( بمطابق گوگل 26 اپریل 1966ء) کو پیدا ہوئیں [5] اور ایک کا تعلق ایک نسلی مزاری بلوچ شیعہ گھرانے سے ہے۔[6] وہ ضلع راجن پور کے علاقہ روجھان مزاری کے سردار عاشق محمود خان مزاری کی بیٹی ہیں، لندن اسکول آف اکنامکس کی فارغ التحصیل ہیں۔ انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی سے سیاسیات میں علامۂِ فلسفہ کی سند حاصل کی۔[7][8][9]

سیاسی زندگی[ترمیم]

2013ء کے عام انتخابات[ترمیم]

شیریں مزاری 2013ء کے پاکستانی عام انتخابات میں پہلی بار پنجاب سے خواتین کے لئے مخصوص نشست پر پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر پاکستان کی قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔[10][11][12][13][14]

2018ء کے عام انتخابات[ترمیم]

شیریں مزاری 2018ء کے پاکستانی عام انتخابات میں پنجاب سے خواتین کے لئے مخصوص نشست پر پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر پاکستان کی قومی اسمبلی کی رکن دوبارہ منتخب ہوئیں۔[15]

استعفی[ترمیم]

9 اپریل 2022 کو عمران خان کی حکومت کے رجیم چینج کی وجہ سے عمران خان کے حکم پر قومی سمبلی سے استعفی دیا ۔ نئی حکومت نے ارکان کی تعداد بگڑنے کے ڈر سے کئی ارکان کے استعفے منظور نہيں کیے ۔ تاہم مرحلہ وار منظور کرتے ہوئے گیارہ ارکان کے استعفی 28 جولائی 2022 کو منظور کیے جن میں سے ایک شیریں مزار ی بھی تھیں ۔[16] [17]استعفی کے کچھ دنوں کے بعد نئی حکومت نے ان کی خلاف ایک بہت پرانے اور دفن شدہ کیس کے چکر میں گرفتار کیا ۔ اور بعد میں رہا کر دیا ۔

بیرونی ربط[ترمیم]

"شیریں مزاری"، ذاتی تفصیل، قومی اسمبلی پاکستان، اخذ شدہ بتاریخ 22 اگست 2022 

مزید مطالعہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://tribune.com.pk/story/2357679/1966-born-shireen-mazari-arrested-in-a-case-registered-in-1972
  2. ہاشمی، فراز (21 اگست 2018). "عمران کی کابینہ میں تبدیلی کا عنصر ناپید". 06 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 22 اگست 2018. 
  3. "آرکائیو کاپی". 04 مئی 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 04 اکتوبر 2019. 
  4. ^ ا ب "Shireen Mazari". ARY News. 11 August 2018. 19 دسمبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 دسمبر 2019. 
  5. روزنامہ ایکسپریس 22 مئی 2022ء کالم نگار جاوید چوہدری
  6. "Shireen Mazari Twitter". اخذ شدہ بتاریخ 10 دسمبر 2019. 
  7. Markey، Daniel S. (2013). No exit from Pakistan : America's tortured relationship with Islamabad. New York: Cambridge University Press. ISBN 978-1-10-762359-0. 23 اکتوبر 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 04 مارچ 2017. 
  8. "Making some sense out of nonsense". Pakistan Today. 04 مارچ 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 04 مارچ 2017. 
  9. "TheNation welcomes new Editor". The Nation. 8 September 2009. 04 مارچ 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 04 مارچ 2017. 
  10. "Women, minority seats allotted". DAWN.COM (بزبان انگریزی). 29 May 2013. 07 مارچ 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 07 مارچ 2017. 
  11. "PML-N secures most reserved seats for women in NA - The Express Tribune". The Express Tribune. 28 May 2013. 04 مارچ 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 04 مارچ 2017. 
  12. "Women's reserved seats: Top politicians' spouses, kin strike it lucky - The Express Tribune". The Express Tribune. 30 May 2013. 12 فروری 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 04 مارچ 2017. 
  13. "Bye bye PTI?". DAWN.COM (بزبان انگریزی). 4 June 2013. 04 مارچ 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 04 مارچ 2017. 
  14. "Capital varsity bill passed amid walkout". DAWN.COM (بزبان انگریزی). 19 May 2015. 04 مارچ 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 04 مارچ 2017. 
  15. Reporter، The Newspaper's Staff (12 August 2018). "List of MNAs elected on reserved seats for women, minorities". DAWN.COM. اخذ شدہ بتاریخ 12 اگست 2018. 
  16. "حکومت نے پی ٹی آئی کے11 ارکانِ قومی اسمبلی کے استعفے منظور کرلیے". آج نیوز. آج نیوز ویب سائٹ اردو. اپ ڈیٹ 29 جولائ 2022.  الوسيط |first1= يفتقد |last1= في Authors list (معاونت);
  17. "پی ٹی آئی کے مزید 11 ارکان کے استعفے منظور کرنے کا ‏فیصلہ". جنگ ویب سائٹ. جنگ گروپ. 02 اگست ، 2022.