عمران خان کا عہد وزارت عظمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

18 اگست 2018ء کو اسلام آباد میں واقع ایوان صدر میں عمران خان کی تقریب حلف برداری منعقد ہوئی جس میں عمران خان نے پاکستان کے بائیس ویں وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔[1] ان کی کابینہ میں 16 وزرا اور پانچ مشیر ہیں۔ عمران خان نے وزارت داخلہ کا قلمدان اپنے ہی پاس رکھا۔[2] انہوں نے حلف برداری سے قبل اپنی تقریر میں نیز بحیثیت وزیر اعظم اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ وہ مدینہ منورہ کی پہلی اسلامی ریاست کے اصولوں پر پاکستان کی بنیادوں کو استوار کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔[3][4]

اقتصادی حکمت عملی[ترمیم]

قوم سے پہلے خطاب میں عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ وزیر اعظم ہاؤس میں نہیں رہیں گے اور وزیر اعظم کے 524 افراد پر مشتمل عملہ کو گھٹا کر صرف دو افراد کو باقی رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کے استعمال کے لیے دستیاب 80 گاڑیوں کے بیڑے میں سے صرف دو کو چھوڑ کر بقیہ نیلام کر دیں گے۔ مزید کہا کہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر رہتے ہوئے وہ کوئی کاروبار نہیں کریں گے تاکہ مفادات کے تصادم کا خطرہ نہ ہو اور نظام زکاۃ کو مضبوط کریں گے۔ نیز عمران خان نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ بجائے دوسری قوموں سے مالی امداد طلب کرنے کے سادگی کو اپنائیں گے اور یوں قرضوں سے نجات کی صورت پیدا ہوگی۔ ساتھ ہی نظام محاصل کی مضبوطی کا بھی اعلان کیا۔ وزارت داخلہ کے قلمدان کو اپنے پاس رکھنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خواہش ہے ایف آئی اے کو اپنے ماتحت رکھیں تاکہ منی لانڈرنگ میں تخفیف کی کوششوں کا بچشم خود جائزہ لے سکیں۔ یہ بھی کہا کہ اس طرح کے پیسوں کو پاکستان واپس لانے کے لیے وہ ایک علاحدہ گروہ تشکیل دیں گے جس کے ذمہ یہی کام ہوگا۔ برآمدات میں اضافہ کے لیے ان کی حکومت ضروری کارروائی کرے گی۔ مزید برآں عمران خان نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے درخواست کی کہ وہ اس سخت ضرورت کے موقع پر اپنے پیسوں کو پاکستانی بنکوں میں رکھیں اور غیر قانونی ذرائع سے پیسے بھیجنے کی بجائے بنکوں کے ذریعہ ارسال کریں۔ انہوں نے قومی احتساب بیورو سے بھی درخواست کی کہ ملک میں جاری و ساری بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے وفاقی حکومت کا تعاون کرے۔[3]

صحت[ترمیم]

سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ایک علاحدہ گروہ کی تشکیل کا اعلان کیا تاکہ ملک کے نادار افراد بھی اُسی درجہ کی اعلیٰ طبی نگہداشت حاصل کر سکیں جو نجی ہسپتالوں کا خاصہ ہے۔[3]

نیز اسی ذیل میں عمران خان نے اس کا بھی سرسری تذکرہ کیا کہ ناقص تغذیہ کی بنا پر کس طرح پاکستانی بچوں کی نشو و نما متاثر ہو رہی ہے۔[3]

آب اور آب پاشی[ترمیم]

عمران خان نے کہا کہ ملک کے بڑے شہروں میں پانی کا بحران ہے جس سے نمٹنے کے لیے ہم بھاشا بند کو مکمل کرنے پر پورا زور صرف کریں گے نیز کاشت کاروں کو ايسے طریقے سکھائے جائیں گے جن کی مدد سے آب پاشی کے دوران میں پانی کا استعمال کم ہو۔[3]

صحت گاری[ترمیم]

اپنے افتتاحی خطاب میں عمران خان نے اعلان کیا کہ صحت گاری کی خاطر وہ دوسرے ملکوں سے افراد بلانے کی بجائے اپنا ذاتی نظام بنانے کو ترجیح دیں گے۔[3]

تعلیم[ترمیم]

اپنے اس خطاب میں عمران خان نے ریاست مدینہ کی مثال دے کر بتایا کہ کس طرح تعلیم یافتہ جنگی قیدیوں کو ترغیب دی گئی کہ وہ غیر تعلیم یافتہ افراد کو پڑھائیں اور یہی ان کا فدیہ ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم ہاؤس کو عالمی تحقیقی یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں دنیا بھر سے محققین کو مختلف و متنوع موضوعات پر تحقیق کرنے کے لیے مدعو کیا جائے گا۔[3]

اسی ضمن میں عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ سرکاری اسکولوں کے نظام کو بہتر بنائیں گے تاکہ جو بچے نجی اسکولوں میں نہیں پڑھ سکتے وہ بھی معیاری تعلیم سے محروم نہ رہیں۔ نیز انہوں نے مدارس کے نظام کو بھی ملک کے اصل تعلیمی نظام کے مطابق ڈھالنے کا یقین دلایا تاکہ مدارس کے طلبہ بھی ملک کے معیاری شہری بن سکیں۔[3]

خارجہ پالیسی[ترمیم]

خارجہ پالیسی کے ذیل میں عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ دنیا کی تمام قوموں اور ملکوں سے امن و بھائی چارے کے خواہاں ہیں۔[3]

ماحولیات[ترمیم]

ماحولیات کے تئیں انہوں نے کہا کہ عالمی حدت اور توڑ کی گرمی سے بچاؤ کی خاطر ان کی حکومت کروڑوں کی تعداد میں شجرکاری کا منصوبہ رکھتی ہے۔[3]

حکمرانی اور دیگر اقدامات[ترمیم]

انتخابات سے قبل عمران خان نے کہا تھا کہ اگر وہ بر سر اقتدار آتے ہیں تو ان کی حکومت جنوبی پنجاب میں ایک نیا صوبہ بنائے گی جو مکمل خود مختار ہوگا۔[5] چنانچہ بر سر اقتدار آنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے اس پر بھی زور دیا البتہ اس موقع پر مکمل خود مختاری کا ذکر نہیں کیا۔[3]

خیبر پختونخوا کی سابقہ حکومت کی مثال پیش کرتے ہوئے عمران خان نے اعلان کیا کہ اسی طرز پر پنجاب اور بلوچستان کے نظام پولیس کی اصلاح کی جائے گی، نیز انہوں نے حکومت سندھ سے بھی ان اصلاحات کے نفاذ کی درخواست کی۔[3]

مزید برآں، عمران خان نے کہا کہ وہ پاکستان کے چیف جسٹس کے ساتھ بیٹھ کر اس امر پر غور و خوض کریں گے کہ ملک کے عدالتی نظام کو کس طرح بہتر اور تیز رفتار بنایا جائے تاکہ ہر معاملہ ایک سال کے اندر ہی فیصل ہو سکے۔[3]

انہوں نے سول سروس سے کہا کہ عوام الناس کو یہ سوچ کر اپنی خدمات فراہم کریں کہ ان کا ان خدمات پر پورا حق ہے اور عزت و احترام کے ساتھ عوام کی خدمت کا فرض بجا لائیں۔[3]

اس خطاب میں عمران خان نے ایک نئے مقامی نظام حکومت کی تشکیل کا بھی اعلان کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اراکین پارلیمان کو ڈویلپمنٹ فنڈ نہیں دیا جائے گا۔[3]

تفریح و سیاحت[ترمیم]

عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ بڑے پیمانے پر باغیچے اور کھیل کے میدان تعمیر کریں گے۔[3] نیز سیاحت کی ترقی کے لیے انہوں نے ہر سال چار سیاحتی مقامات کی تعمیر کا وعدہ کیا ہے اور ساتھ ہی بین الاقوامی معیار کے ساحل بنانے کا ارادہ ظاہر کیا۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نادر گرامانی (18 اگست 2018)۔ "Prime Minister Imran Khan: PTI chairman sworn in as 22nd premier of Pakistan"۔ dawn.com۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 اگست 2018۔
  2. ڈان (18 اگست 2018)۔ "PM Imran Khan finalises names of 21-member cabinet"۔ dawn.com۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 اگست 2018۔
  3. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ "Prime Minister Imran Khan promises sweeping reforms in inaugural address"۔ www.thenews.com.pk۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 اگست 2018۔
  4. "Imran Khan's speech in full"۔ www.aljazeera.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 اگست 2018۔
  5. عامر وسیم (21 مئی 2018)۔ "Imran unveils ambitious agenda for first 100 days of govt"۔ dawn.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 اگست 2018۔