مائنٹ سوی
مائنٹ سوی | |
|---|---|
جنرل مائنٹ سوی (برمی: မြင့်ဆွေ، تلفظ میَںسھوے؛ 24 جون 1951ء - 7 اگست 2025ء)[1] ایک برمی فوجی افسر اور سیاست دان تھے جنھوں نے میانمار کی سیاست میں کئی کلیدی عہدے سنبھالے، جن میں 30 مارچ 2016ء سے 7 اگست 2025ء تک نائب صدر اور 1 فروری 2021ء سے 22 جولائی 2024ء تک عبوری صدر تھے۔ 2021ء کی فوجی بغاوت کے بعد فوجی نظام کے تحت ملک کے سربراہ ریاست کے طور پر کام کرتے رہے۔
ابتدائی اور عسکری زندگی
[ترمیم]مائنٹ سوی 24 مئی 1951ء کو پیدا ہوئے۔ انھوں نے میانمار کی ڈیفنس سروسز اکیڈمی سے 1973ء میں گریجویشن مکمل کی۔ 1997ء میں لائٹ انفنٹری ڈویژن 11 کے بریگیڈیئر جنرل اور کمانڈر مقرر ہوئے۔[2] 2001ء میں وہ ساؤتھ ایسٹ کمانڈ کے سربراہ اور ریاستی امن و ترقی کونسل کے رکن بنے۔
2005ء میں انھیں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی اور وہ مون نسل کے پہلے شخص تھے جنھیں اس عہدے تک رسائی حاصل ہوئی۔[3]
سیاسی سفر
[ترمیم]یانگون کے وزیر اعلیٰ کے طور پر تقرری
[ترمیم]2011ء میں، جب میانمار میں نیم سول حکومت قائم ہوئی، مائنٹ سوی کو اس وقت برما کے صدر تھین شین نے یانگون علاقہ کا پہلا وزیر اعلیٰ مقرر کیا۔ اس عہدے پر وہ 30 مارچ 2011ء سے 30 مارچ 2016ء تک فائز رہے۔[4]
نائب صدر اور عبوری صدارت
[ترمیم]30 مارچ 2016ء کو وہ نائب صدر مقرر ہوئے۔ جب صدر ہتن نے مارچ 2018ء میں ریاضت اختیار کی، تو مائنٹ سوی نے عبوری صدر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں۔
2021ء کی فوجی بغاوت میں کردار
[ترمیم]1 فروری 2021ء کو میانمار کی فوج نے آنگ سان سو چی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ آئینی طور پر نائب صدر کی حیثیت سے مائنٹ سوی نے ہنگامی حالت کا اعلان کیا، جس سے فوج کو اقتدار سنبھالنے کا راستہ ملا۔ بعد ازاں تمام انتظامی اختیارات سینئر جنرل مین آنگ ہلاینگ کو منتقل کیے گئے۔[5]
ذاتی زندگی
[ترمیم]مائنٹ سوی مون نسل سے تعلق رکھتے تھے۔[4] ان کی اہلیہ کا نام کھن تھیٹ ہتائے تھا اور ان کے دو بچے تھے۔[6]
روگ
[ترمیم]2024ء کے اواخر میں ان کی صحت میں نمایاں گراوٹ آنا شروع ہوئی۔ ذرائع کے مطابق وہ ایک عصبی مرض اور پریفیرل نیوروپیتھی کا شکار ہو گئے تھے، جس سے ان کی نقل و حرکت اور ذہنی توجہ متاثر ہو گئی تھی۔[7] 22 جولائی 2024ء کو انھوں نے باضابطہ طور پر میڈیکل چھٹی لے لی اور ذمہ داریاں مین آنگ ہلاینگ کو سونپ دیں۔[8]
وفات
[ترمیم]7 اگست 2025ء کو، مائنٹ سوی 74 سال کی عمر میں میانمار کے دار الحکومت نیپیداو ایک فوجی اسپتال میں ایک طویل بیماری کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ پارکنسن اور دیگر اعصابی بیماریوں سے متاثر تھے۔[9] حکومت کی جانب سے پانچ روزہ (7 سے 11 اگست 2025ء تک) قومی سوگ کا اعلان کیا گیا۔ ان کی آخری رسومات ریاستی اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔[10]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "Myanmar's acting President Myint Swe dies after a long illness". Toronto Star (بزبان انگریزی). Associated Press. 7 Aug 2025. Retrieved 2025-08-07.
- ↑ Min Lwin (27 جون 2008)۔ "Lt-Gen Myint Swe: Future No 2?"۔ The Irrawaddy۔ 2012-02-17 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-07-02
- ↑ "Lt Gen Myint Swe"۔ Alternative Asean Network on Burma۔ 2014-06-24 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-07-02
- 1 2 Sean Gleeson (11 مارچ 2016)۔ "Myint Swe revealed as military VP pick"۔ Frontier Myanmar۔ 2018-06-30 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-10-04
- ↑ Thibaut Noel (مارچ 2022)۔ "Unconstitutionality of the 2021 Coup in Myanmar" (PDF)۔ International Institute for Democracy and Electoral Assistance۔ 2023-03-15 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا (PDF)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-03-15
- ↑ "Children of Burma's bloody junta in Sydney deny black money". Kalgoorlie Miner (بزبان انگریزی). 11 Jun 2021. Archived from the original on 2022-08-04. Retrieved 2022-08-04.
- ↑ "The leader of Myanmar's army government is named acting president so he can renew state of emergency". Associated Press (بزبان امریکی انگریزی). Retrieved 2024-07-23.
- ↑ Myanmar’s military chief named acting president - الجزیرہ(07/23/2024)
- ↑ "میانمار کے قائم مقام صدر مائنٹ سوی کا 74 سال کی عمر میں انتقال"۔ روزنامہ انقلاب، بھارت۔ 7 اگست 2025۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-08-07
- ↑ "Myanmar's figurehead president dies after long illness". بی بی سی (بزبان British English). 7 Aug 2025. Retrieved 2025-08-07.