مندرجات کا رخ کریں

وین مائنٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
وین مائنٹ
(برمی میں: ဝင်းမြင့်)  ویکی ڈیٹا پر  (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

مناصب
صدر میانمار (3  )
برسر عہدہ
30 مارچ 2018  – 1 فروری 2021 
صدر میانمار [1][2]
آغاز منصب
16 اپریل 2021 
معلومات شخصیت
پیدائش 8 نومبر 1951ء (75 سال)[3][4]  ویکی ڈیٹا پر  (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت میانمار   ویکی ڈیٹا پر  (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی   ویکی ڈیٹا پر  (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی یونیورسٹی آف یانگون   ویکی ڈیٹا پر  (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان   ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ون مائنٹ یا وین مائنٹ (انگریزی: Win Myint) (ولادت: 8 نومبر 1951ء) برمی سیاست دان اور سابق سیاسی قیدی ہیں جنھوں نے میانمار کے 10 ویں صدر کی حیثیت سے 2018ء سے 2021ء تک خدمات انجام دیں۔ وہ نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) کے سینئر رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں اور آنگ سان سوچی کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک تصور کیے جاتے ہیں۔[5]

خاندانی پس منظر

[ترمیم]

وین مائنٹ کا تعلق اپنے ملک کے ائیراوڈی علاقہ کے ایک متوسط خاندان سے تھا۔ انھوں نے یونیورسٹی آف رانگون سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور ابتدا ہی سے طلبہ سیاست میں سرگرم رہے۔ فوجی حکومت کے خلاف جمہوریت نواز تحریکوں میں حصہ لینے کی وجہ سے وہ 1980ء کی دہائی میں نمایاں ہوئے۔ 1988ء کی عوامی بغاوت کے بعد جب این ایل ڈی معرضِ وجود میں آئی تو وین مائنٹ اس کے ابتدائی ارکان میں شامل تھے۔ فوجی حکومت نے سیاسی سرگرمیوں کے الزام میں انھیں متعدد بار گرفتار کیا اور وہ مجموعی طور پر کئی برس قید و بند کی صعوبتیں جھیلتے رہے۔[6]

عملی سیاسی نمائندگی اور انتخاب

[ترمیم]

2000ء کی دہائی میں انھیں دوبارہ جمہوری سیاست میں حصہ لینے کی اجازت ملی۔ 2012ء کے ضمنی انتخابات میں وہ پہلی مرتبہ پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے، جبکہ 2015ء کے عام انتخابات میں این ایل ڈی کی تاریخی کامیابی کے بعد وہ ایوانِ زیریں کے اسپیکر منتخب ہوئے۔ اسپیکر کی حیثیت سے وین مائنٹ نے پارلیمانی اصلاحات، شفاف کارروائیوں اور قانون سازی کے عمل کو مضبوط کرنے پر توجہ دی۔[7]

صدر کے طور پر انتخاب

[ترمیم]

مارچ 2018ء میں ہتین کیاؤ کے استعفے کے بعد وین مائنٹ کو میانمار کا 10 واں صدر منتخب کیا گیا۔ اگرچہ آئینی پابندیوں کے باعث حقیقی اختیارات ریاستی مشیر آنگ سان سوچی کے پاس تھے، تاہم وین مائنٹ نے بدعنوانی کے انسداد، انتظامی شفافیت اور سول حکومت کے استحکام کے لیے متعدد اقدامات کیے۔ ان کے دورِ صدارت میں معیشت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اصلاحات کی کوششیں بھی کی گئیں۔[8]

گرفتاری

[ترمیم]

یکم فروری 2021ء کو جب فوج نے انتخابات میں دھاندلی کے الزام کو بنیاد بنا کر بغاوت کی، وین مائنٹ کو آنگ سان سوچی کے ساتھ حراست میں لے لیا گیا۔ انھیں مختلف الزامات کے تحت فوجی عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑا جنھیں بین الاقوامی برادری نے ’’سیاسی انتقام‘‘ قرار دیا۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور کئی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔[9]

وین مائنٹ آج بھی میانمار کی جمہوری جدوجہد کا اہم استعارہ سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی سیاسی زندگی استقامت، اصول پسندی اور فوجی حکمرانی کے خلاف مزاحمت کی علامت رہی ہے، جبکہ عوامی حلقوں میں انھیں ایک معتدل، بردبار اور قانون پسند رہنما کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. بنام: Win Myint — مذکور بطور: President — اخذ شدہ بتاریخ: 25 اکتوبر 2022
  2. National Unity Government of the Republic of the Union of Myanmar — اخذ شدہ بتاریخ: 25 اکتوبر 2022
  3. Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000031401 — بنام: Win Myint — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000031401 — بنام: Win Myint
  5. Mya Aye (2016), "Political Biography of Win Myint", Yangon Political Review.
  6. Hnin Thandar (1992), "Myanmar’s Political Prisoners", South Asian Human Rights Journal.
  7. Aung Zeya (2017), "Reforms in Myanmar Parliament under Win Myint", Asian Legislative Studies.
  8. Min Ko Latt (2019), "Civilian Governance in Myanmar", Burma Policy Journal.
  9. Elaine Stewart (2021), "Myanmar Coup and Arrest of Civilian Leaders", Global Rights Monitor.