فرخ سیر
اس میں کسی قابل تصدیق ماخذ کا حوالہ درج نہیں ہے۔ |
| ||||
|---|---|---|---|---|
| دور حکومت | 11 جنوری 1713 – 28 فروری 1719 | |||
| معلومات شخصیت | ||||
| پیدائش | 20 اگست 1685 اورنگ آباد، مغلیہ سلطنت | |||
| وفات | 29 اپریل 1719 (عمر 33) دہلی، مغلیہ سلطنت | |||
| مدفن | مقبرہ ہمایوں | |||
| طرز وفات | سزائے موت | |||
| مذہب | اسلام | |||
| زوجیت | فخر النساء بیگم راجکماری اندرا کنور | |||
| اولاد | بادشاہ بیگم ملکہ الزمانی | |||
| والد | عظیم الشان | |||
| والدہ | صاحبہ نزوان | |||
| خاندان | تیموری سلطنت | |||
| نسل | بادشاہ بیگم، مغلیہ ملکہ | |||
| خاندان | تیموری | |||
| دیگر معلومات | ||||
| پیشہ | سیاست دان | |||
| درستی - ترمیم | ||||
| مغل حکمران | |
| ظہیر الدین محمد بابر | 1526–1530 |
| نصیر الدین محمد ہمایوں | 1530–1540 1555–1556 |
| جلال الدین اکبر | 1556–1605 |
| نورالدین جہانگیر | 1605–1627 |
| شہریار مرزا (اصلی) | 1627–1628 |
| شاہجہان | 1628–1658 |
| اورنگزیب عالمگیر | 1658–1707 |
| محمد اعظم شاہ (برائے نام) | 1707 |
| بہادر شاہ اول | 1707–1712 |
| جہاں دار شاہ | 1712–1713 |
| فرخ سیر | 1713–1719 |
| رفیع الدرجات | 1719 |
| شاہجہان ثانی | 1719 |
| محمد شاہ | 1719–1748 |
| احمد شاہ بہادر | 1748–1754 |
| عالمگیر ثانی | 1754–1759 |
| شاہجہان ثالث (برائے نام) | 1759–1760 |
| شاہ عالم ثانی | 1760–1806 |
| [[بیدار بخت محمود شاہ بہادر] (برائے نام) | 1788 |
| اکبر شاہ ثانی | 1806–1837 |
| بہادر شاہ ظفر | 1837–1857 |
| برطانیہ نے سلطنت مغلیہ کا خاتمہ کیا | |
شہزادہ معین الدین محمد فرخ سیر شہزادہ عظیم الشان (حاکم بنگال) کے ساتھ بنگال میں مقیم تھا۔ 1712ء میں بادشاہ شاہ عالم اول کی وفات کی خبر سن کر عظیم الشان نے فرخ سیر کو بنگال میں اپنا قائم مقام مقرر کیا اور خود تخت دہلی کے حصو ل کے لیے اپنی فوج کے ہمراہ روانہ ہوا۔ شہزادوں کی تخت نشینی کی خونریز جنگوں کے بعد شہزادہ معزالدین جہاں دار شاہ تخت طاؤس کا وارث بنا۔
جہاں دار شاہ نے اپنے ایک سال سے کم مختصر دور حکومت (1712 تا 1713) میں لاتعداد مغل شہزادے موت کے گھاٹ اتار دیے۔ اسی اثناء میں جہاں دار شاہ نے فرخ سیر کی گرفتاری کے لیے بنگال کی طرف فوج روانہ کرنے کا حکم صادر کر دیا۔ یہ خبریں بنگال بھی پہنچ گئیں، جس سے فرخ سیر، اس کی والدہ اور دیگر بہن بھائیوں میں خوف کی لہردوڑ گئی، کیونکہ وہ دیگر رشتہ داروں کا حشر دیکھ چکے تھے۔
فرخ سیر نے نہایت سوچ بچار کے بعد طاقتور امرا (سید برادران) سے مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ شہزادہ فرخ سیر نے 11 جولائی 1713ء کو معزالدین جہاں دار شاہ کو شکست دے کر مغلیہ سلطنت کی باگ ڈور سنبھال لی۔ فرخ سیر کو حکومت سید برادران کی وجہ سے ملی تھی، اس لیے وہ ان کے ماتحت تھا، تمام امور سلطنت ان کے مشوروں سے سر انجام دیے جاتے تھے۔ کچھ عرصہ بعد فرخ سیر نے ان کا زور اور طاقت توڑنے کی کوشش کی.
ابتدائی زندگی
[ترمیم]محمد فرخ سیار 20 اگست 1683 (9 رمضان 1094ھ) کو اورنگ آباد شہر میں سطح مرتفع دکن میں ایک کشمیری ماں صاحبہ نسوان کے ہاں پیدا ہوئے۔ وہ عظیم الشان کا دوسرا بیٹا تھا، جو شہنشاہ بہادر شاہ اول کا پوتا اور شہنشاہ اورنگزیب کا پڑپوتا تھا۔
1696 میں، فرخ سیار اپنے والد کے ساتھ بنگال کی مہم پر گئے۔ اورنگزیب نے عظیم الشان کو 1707 میں بنگال سے واپس بلایا اور فرخ سیار کو صوبے کا چارج سنبھالنے کی ہدایت کی۔ فرخ سیار نے اپنے ابتدائی سال ڈھاکہ (موجودہ بنگلہ دیش میں) بنگال کے دار الحکومت شہر پر حکومت کرتے ہوئے گزارے۔
1712 میں عظیم الشان نے بہادر شاہ اول کی موت اور اقتدار کے لیے جدوجہد کا اندازہ لگایا اور فرخ سیار کو واپس بلا لیا۔ وہ عظیم آباد (موجودہ پٹنہ، بہار، ہندوستان) کے قریبب تھا، جب اسے مغل بادشاہ کی موت کا علم ہوا۔ 21 مارچ کو فرخ سیار نے اپنے والد کے تخت پر فائز ہونے کا اعلان کیا، ان کے نام کا سکہ جاری کیا اور خطبہ (عوامی دعا) کا حکم دیا۔ 6 اپریل کو، اسے ذو الفقار خان نصرت جنگ کی طرف سے جہاندار شاہ اور اس کے چھوٹے بھائیوں رفیع الشان اور جہاں شاہ کے درمیان بنائے گئے اتحاد سے اپنے والد کی شکست کا علم ہوا۔ اگرچہ شہزادے نے خودکشی کا سوچا، لیکن بنگال سے اس کے دوستوں نے اسے ایسا نہ کرنے دیا۔
مزید دیکھیے
[ترمیم]| ماقبل | مغل شہنشاہ 1713–1719 |
مابعد |
- 1683ء کی پیدائشیں
- 1719ء کی وفیات
- اٹھارہویں صدی کے مقتول حکمران
- بھارتی اسلام پسند
- تیموری فرماں روا
- چنگیز خان کی اولاد
- مغل شہنشاہ
- مغلیہ خاندان
- مغلیہ دور حکومت
- مقتول شاہی فرد
- ہندوستانی فرماں روا
- اورنگ آباد (مہاراشٹر) کی شخصیات
- ہندوستانی مسلم شخصیات
- مقتول ہندوستانی شاہان
- اٹھارہویں صدی کی مغلیہ سلطنت کی شخصیات
- ایشیا میں 1719ء کے قتل
- 1685ء کی پیدائشیں
- بھارت میں مقتول افراد
- اٹھارویں صدی کے حکمران
- اٹھارویں صدی کی سزائے موت


