بادشاہی مسجد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
بادشاہی مسجد
بنیادی معلومات
محل وقوع Flag of پاکستان لاہور، پاکستان
جغرافیائی متناسقات 31°35′17.07″N 74°18′36.45″E / 31.5880750°N 74.3101250°E / 31.5880750; 74.3101250متناسقات: 31°35′17.07″N 74°18′36.45″E / 31.5880750°N 74.3101250°E / 31.5880750; 74.3101250
مذہبی انتساب اسلام
صوبہ پنجاب
ضلع ضلع لاہور
تاریخ وقف 1671
مذہبی یا تنظیمی حالت مسجد
قیادت اورنگزیب
معماری اوصاف
معماری قسم مسجد
معماری طرز اسلامی، مغلیہ
تکمیل 1673
تفصیلات
گنجائش 100,000
گنبد 3
مینار 8 (4 بڑے، 4 چھوٹے)
بلندی مینار 176 فٹ 4 انچ (53٫75 میٹر)

بادشاہی مسجد 1673 میں اورنگزیب عالمگیر نے لاہور میں بنوائی۔ یہ عظیم الشان مسجد مغلوں کے دور کی ایک شاندار مثال ہے اور لاہور شہر کی شناخت بن چکی ہے۔ یہ فیصل مسجد اسلام آباد کے بعد پورے پاکستان کی دوسری بڑی مسجد ہے، جس میں بیک وقت 60 ہزار لوگ نماز ادا کرسکتے ہیں۔ اس مسجد کا انداز تعمیر جامع مسجد دلی سے بہت ملتا جلتا ہے جو کہ اورنگزیب کے والد شاہجہان نے 1648 میں تعمیر کروائی تھی۔

تاریخ[ترمیم]

ہندوستان کے چھٹے مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر تمام مغلوں میں سے سب سے زیادہ مذہبی بادشاہ تھے۔ انھوں نے اس مسجد کو اپنے سوتیلے بھائی مظفر حسین، جن کو فداے خان کوکا بھی کہا جاتا تھا، کی زیر نگرانی تعمیر کروایا۔ 1671 سے لیکر 1673 تک مسجد کی تعمیر کو دو سال لگے۔ مسجد کو شاہی قلعہ کے برعکس تعمیر کیا گیا، جس سے اس کی مغلیہ دور میں اہمیت کا پتہ لگتا ہے۔ اس مسجد کے بننے کے ساتھ ہی ساتھ اورنگزیب نے اس کے دروازے کے برعکس شاہی قلعہ میں بھی ایک باوقار دروازے کا اضافہ کیا، جس کو عالمگیری دروازہ کہا جاتا ہے۔

فن تعمیر[ترمیم]

سید لطیف نے اپنی کتاب میں مسجد کا طرز تعمیر اس وقت حجاز (موجودہ سعودی عرب) میں موجود مکہ مکرمہ کے مقام پر ایک مسجد الوالد سے متاثر بیان کیا ہے۔ اگر ہندوستان میں دیگر تاریخی مساجد کے طرز تعمیر کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اس مسجد کا طرز تعمیر کافی حد تک جامع مسجد فتح پور سیکری سے مماثلت کھاتا ہے۔ یہ مسجد حضرت سلیم چشتیؒ کے عہد میں 1571-1575ء میں پایہ تکمیل تک پہنچی۔ اس حوالے سے دوسری اہم ترین مسجد‘ دہلی کی جامع مسجد ’’جہاں نما‘‘ ہے جو کہ اورنگزیب کے والد شاہجہان نے 1650-1656ء میں تعمیر کی تھی۔ پہلی نظر میں یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ دونوں مساجد ایک ہی جیسی ہیں۔ اورنگزیب کے کئی کام باپ اور بھائیوں کے مقابلے میں تھے۔ یہی معاملہ تعمیرات کے ساتھ بھی رہا۔ شاہی مسجد لاہور اور موتی مسجد آگرہ اس کی اہم ترین مثالیں ہیں ۔ دہلی اور لاہور کی بادشاہی مسجد کی مماثلت کے بارے میں تحریر انگریز سرکار کے عہد میں چھپے لاہور گیزئٹیر نمبر 1883-84ء کے صفحہ نمبر(175-176) پر بھی ملتی ہے۔ اس میں ان دونوں مساجد کو جامع مسجد کے نام سے تحریر کیا گیا۔ لیکن طرز تعمیر میں نفاست کے حوالے سے جامع مسجد دہلی کو زیادہ بہتر مانا گیا۔ روایات کے مطابق دہلی کی جامع مسجد پر اخراجات دس لاکھ روپے آئے تھے جوکہ لاہور کی مسجد سے چار لاکھ زائد تھے جبکہ لاہور کی مسجد صرف دو برس کی قلیل مدت میں تعمیر ہو گئی تھی اور دہلی کی مسجد پر پانچ برس سے زائد کا عرصہ لگا۔[1]

مرمات[ترمیم]

جوں جوں وقت گزرتا گیا، مسجد کو متعدد وجوہات کی بنا پر نقصانات پہنچتے گئے۔ 1850 سے اس کی مرمت کا آغاز ہوا، لیکن یہ مرمت نامکمل تھیں۔ آخرکار مکمل مرمت 1939ء میں شروع ھوئی اور 1960 میں مکمل کی گئی جن پر 48 لاکھ روپے صرف ہوئے۔ اس مرمت کی وجہ سے مسجد ایک بار پھر اپنی اصلی حالت میں واپس آگئی۔

خاص واقعات[ترمیم]

مسجد کا منظر، مینار پاکستان کی طرف سے

22 فروری، 1974ء کو لاہور میں منعقدہ دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر 39 سربراہانِ مملکت نے جمعہ کی نماز اس مسجد میں ادا کرنے کی سعادت حاصل کی۔

نگار خانہ[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔
درجہ نام مقام گنجائش رقبہ (مربع میٹر) سال فرقہ
1 مسجد الحرام سعودی عرب کا پرچم مکہ، سعودی عرب 4,000,000 400,800 638ء ـــ
2 مسجد نبوی سعودی عرب کا پرچم مدینہ منورہ، سعودی عرب 1,000,000 400,500 622ء ـــ
3 مزار امام علی رضا ایران کا پرچم مشہد، خراسان، ایران 700,000 598,657 818ء اہل تشیع
4 جامع الصالح یمن کا پرچم صنعاء، یمن 45,000 224,831 2008ء اہل سنت
5 مسجد اقصٰی Palestine کا پرچم یروشلم، فلسطین 250,000 144,000 ـــ
6 مسجد استقلال Indonesia کا پرچم جکارتہ، انڈونیشیا 120,000 95,000 1978ء اہل سنت
7 مسجد حسن ثانی مراکش کا پرچم دار البیضاء، مراکش 105,000 90,000 1993ء اہل سنت
8 فیصل مسجد پاکستان کا پرچم اسلام آباد، پاکستان 74,000 43,295 1986ء ـــ
9 بادشاہی مسجد پاکستان کا پرچم لاہور، پنجاب (ضد ابہام)، پاکستان 110,000 29,867 1678ء ـــ
10 جامع مسجد دہلی India کا پرچم دہلی، بھارت 85,000 1656ء اہل سنت
11 جامع مسجد شیخ زايد متحدہ عرب امارات کا پرچم ابوظبی (شہر)، متحدہ عرب امارات 40,000 22,000 2007ء اہل سنت
12 بیت المکرم مسجد، ڈھاکہ Bangladesh کا پرچم ڈھاکہ، بنگلہ دیش 30,000 1960ء اہل سنت
13 جامع الراجحي سعودی عرب کا پرچم ریاض، سعودی عرب 20,500 13,260 2004ء اہل سنت
14 مسجد قباء سعودی عرب کا پرچم مدینہ منورہ، سعودی عرب 20,000 13,500 622ء اہل سنت
15 جامع السلطان قابوس الأكبر سلطنت عمان کا پرچم مسقط، عمان 20,000 416,000 2001ء اباضیہ
16 مسجد عیدگاه چین کا پرچم کاشغر، سنکیانگ، چین 20,000 16,800 1442ء
17 يوسف بي جامع روس کا پرچم ماخاچکالا، داغستان، روس 17,000 1996ء اہل سنت
18 مسجد نغارا Malaysia کا پرچم کوالالمپور، ملائیشیا 15,000 1965ء اہل سنت
19 المسجد الكبير کویت کا پرچم کویت شہر، کویت 13,000 20,000 1986ء
20 مسجد اقصی پاکستان کا پرچم ربوہ، پاکستان 12,000 1972ء احمدی
21 مکہ مسجد (حیدرآباد دکن) بھارت کا پرچم حیدرآباد، دکن، آندھرا پردیش، بھارت 10,000 1694ء اہل سنت
22 مسجد بيت الفتوح برطانیہ کا پرچم لندن، برطانیہ 30,000 2003ء احمدی
23 سلطان احمد مسجد ترکی کا پرچم استنبول، ترکی 10,000 4,608 1616ء اہل سنت
24 مسجد الفاتح بحرین کا پرچم منامہ، بحرین 7,000 1987ء اہل سنت
25 مسجد سيدي إبراهيم الدسوقي مصر کا پرچم دسوق، مصر 25,000 7,000 1277ء اہل سنت

سانچہ:لاہور میٹرو

  1. ^ http://www.express.pk/story/277632/