روشنائی دروازہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Hazuri Bagh.JPG
حضوری باغ کے سامنے والا دروازہ
روشنائی دروازہ is located in پنجاب، پاکستان
روشنائی دروازہ
روشنائی دروازہ is located in پاکستان
روشنائی دروازہ
متناسقاتمتناسقات: 31°35′16″N 74°18′43″E / 31.58769°N 74.31197°E / 31.58769; 74.31197
مقاملاہور، پنجاب، پاکستان
قسمشہر کا دروازہ

روشنائی دروازہ، اندرون شہر لاہور کی فصیل پر بنائے گئے تیرہ دروازوں میں سے ایک ہے، جو پاکستان کے صوبہ پنجاب میں واقع ہے۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

یہ دروازہ دوسرے مغلیہ دور میں تعمیر شدہ دروازوں سے اونچا اور چوڑا ہے۔ عالمگیری دروازے کے بعد مغلیہ فوج میں شامل ہاتھیوں کا دستہ اسی دروازے سے شہر میں داخل ہوا کرتا تھا۔ اسی دروازے سے ملحقہ حضوری باغ بھی تعمیر کیا گیا تھا۔اس دروازے کے قریب امراء کی رہائش تھی اور قلعہ اور مسجد کی وجہ سے روشنائی کا اہتمام ہوتا جس کی وجہ سے اس کا نام روشنائی دروازہ پڑ گیا [1] اسے روشنائی دروازہ کیوں کہتے ہیں ۔اس کے متعلق دو روایتیں اور بھی ہیں ۔پہلی روایت یہ ہے کہ اصل روشنائی دروازہ یہ نہیں ، اس کے بالکل سامنے والا دروازہ ہے جو رنجیت سنگھ کی سمادھی کے ساتھ ہے۔اس کے دوسری سمت دریائے راوی تھا اور ہندو عورتیں اسی دروازے سے دئیے جلا کر دریائے راوی میں بہایا کرتی تھیں ۔یہیں پر دئیے جلانے کا بندوبست ہوتا تھا اور دور سے منور دکھائی دیتا تھا ۔اسی لئے اسے روشنائی دروازہ کہتے تھے ۔دوسری روایت یہ ہے کہ یہی دروازہ روشنائی دروازہ تھا۔ اس کے قریب کا تبوں والی گلی تھی ۔ جو اب بھی ہے ۔لکھنے پڑھنے کا تمام کام اسی دروازے کے توسط سے ہوتا تھا ۔یعنی یہ دروازہ اس زمانے کے سیکرٹریٹ میں کھلتا تھا اوراب بھی روشنائی کا لفظ روشنی کےلئے کم اور لکھنے والی سیاہی کیلئے سیاہی زیادہ استعمال ہوتا ہے ۔

تاریخ[ترمیم]

لاہور کے تمام تاریخی دروازوں میں سے واحد دروازہ جو اپنی اصلی حالت میں بدرجہ اتم موجود ہے، اس کے نزدیک ہی راجا رنجیت سنگھ کی سمادھی بھی ہے،

بلند و بالا دروازے کو 400 سال قبل مغل بادشاہ شاہی گزرگاہ کے طور پر استعمال کرتے تھے اور یہاں رات کو دیے جلا کر روشن کردئیے جاتے تھے۔ دروازے کے اندر داخل ہوں تو بادشاہی مسجد کے دلفریب مناظر دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ باہر نکلنے والوں کو لکڑی کی روشن بالکنیاں اور جھروکے اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

والڈسٹی اتھارٹی کے مطابق روشنائی دروازے کو مغل اور سکھ دور میں شاہی افراد کے لیے گزرگاہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ ایک وقت تھا جب دریائے راوی شاہی قلعہ اور بادشاہی مسجد تک پھیلا ہوا تھا تواس دروازے کو شہر میں داخل ہونے والے راہگیروں اور مسافروں کو راستہ دکھانے کے لیے بھی روشن کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں انگریز دور میں یہ ایک چھوٹا روشنائی دروازہ قلعے کے باہر تعمیر کیا گیا تھا جہاں آج کل فوڈ سٹریٹ ہے۔ اس دروازے کو زیادہ تر فوڈ سٹریٹ میں انے والے لوگ استعمال کرتے ہیں۔

تصاویر[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

  1. نقوش لاہور نمبر،صفحہ 658،محمد طفیل، نقوش پریس لاہور