قلعہ روات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قلعہ روات
Rawat Fort - Main Gate East.jpg
قلعے کے مرکزی دروازے کا ایک منظر
قسم قلعہ
متناسقہ 33°29′53.16″N 73°11′39.12″E / 33.4981000°N 73.1942000°E / 33.4981000; 73.1942000متناسقات: 33°29′53.16″N 73°11′39.12″E / 33.4981000°N 73.1942000°E / 33.4981000; 73.1942000
تعمیر پندرہویں صدی عیسوی
قلعہ روات is located in پاکستان
قلعہ روات
قلعہ روات (پاکستان)
Tomb of Rawat Fort

روات شاہی قلعہ جسے قلعہ روات بھی کہا۔تزک بابری شہنشاہ بابر کے مطابق اس کے بارے میں کوئی واضح ذکر نہیں ملتا۔لیکن دوسرے مغل بادشاہ ہمایوں کو پوٹھوہار کے گگھڑ قبائل نے دور جلاوطنی میں عسکری مدد کی جس کی پاداش میں شیر شاہ سوری جو مغلوں کا مخالف تھا گکھڑ قبائل کو کافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا اپنے دوسرے دور اقتدار میں مغل شہنشاہ ہمایوں نے اپنے وفادار دوستوں کو نوازا پرنگہ روات پرنگہ پھر والا پرنگہ دھان گلی کا ذکر ہمایوں نامہ میں ملتا ہے ۔ جب ہمایوں کا بیٹا جلال الدین محمد اکبربادشاہ بنا تو اس کے دور میں پہلے بارہ صوبے اور پھر بعد میں پندرہ صوبے ہوئے صوبے کے انتظامات منصبدار کے ذمے تھے۔ امورسلطنت میں میں صوبے کے نیچیے سرکار آتی تھی آج کا ڈسٹرکٹ یا تحصیل تحصیل میں مختلف پر نگہ تھے۔فوجداری کے نظام تین حصوں پر تقسیم تھا۔مختلف دیہاتوں کے جس ذمہ دار شخص کو پر بگہ دیا جاتا تھا۔گھڑسوار سپاہی اسی نے بھرتی کر نہے ہوتے۔قلعہ روات بھی ایک پرنگہ تھا جس کے لیے مختلف دیہادت دیے گئے تھے بادشاہ براہ راست کوئی فوج بھرتی نہیں کرتا تھا۔پوٹھوہار کی عسکری تقسیم کے روح رواں شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے سپہ سالار مہاراجا مان سنگھ نے گکھڑ راجپوت اور دیگر جنگجو قبائل کو جاگیریں دے کر مغل فوج کا نظام درست کیا جاگیر تقسیم کی اور فوج کو منظم کیا ۔


روات کے معنی[ترمیم]

روات عربی زبان کے لفظ ربات کی بگڑی ہوئی شکل ہے ربات کے لغوی معانی سرائے کے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ قلعہ درحقیقت ایک قدیم کاروان سرائے تھا جو جرنیلی روڈ کے ساتھ مسافروں کی سہولت یا سرکاری اہلکاروں کے ٹھہرنے کے لیے بنائی گئی تھی اس کا فن تعمیر اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ قلعہ نماسرائے پندرہویں صدی کے اوائل میں سلاطین دہلی کے زمانے میں تعمیر ہوتی تھی لیکن اس قلعے کو سلطان محمود غزنوی کے بیٹے مسعود کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے جس کا زمانہ 1036ء ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کے لشکر کے باغی سپاہیوں نے اسے اس قلعے میں گرفتار کیا اور بعد میں ٹیکسلا کے نزدیک گڑی کے قلعے میں لے جا کر قتل کر دیا یہ قلعہ بعد میں گکھڑ قبیلے کے سردار سارنگ خان کے قبضے میں آیا جو اپنے سولہ بیٹوں کے ساتھ شیر شاہ سوری کے ہاتھوں قتل ہوا اور اسی قلعے میں دفن کیا گیا۔

محل وقوع[ترمیم]

راولپنڈی سے مشرق کی طرف جرنیلی سڑک پر سفر کرتے ہوئے سترہ کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک گاؤں آتا ہے جسے ’’روات‘‘ کہتے ہیں ایک شاندار تاریخی قلعہ روات شاہی قلعہ آ جاتا ہے یہ ’’قلعہ روات‘‘ ہے گاؤں کا نام بھی اسی مناسبت سے ہے۔ جو سولہویں صدی کے اوائل میں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ گکھڑوں کے سربراہ سلطان سارنگ خان اور شیر شاہ سوری کے درمیان ایک جنگ کی یاد دلاتا ہے جو 1546ء میں اس مقام پر لڑی گئی۔

قلعہ کا منظر[ترمیم]

قلعہ تقریباً مربع شکل میں ہے اور اس کے دو بڑے دروازے ہیں اور ایک مسجد کے تین بڑے کمرے گنبد کی شکل میں نظر آتے ہیں اور یہ تقریباً بہتر حالت میں ہے۔ ایک گنبد کے ساتھ ایک چوکور عمارت ہے دیوار وں کے ساتھ ساتھ چھوٹے کمرے ہیں۔ اس کی فصیل کے ساتھ ساتھ بہت سے چھوٹے چھوٹے کمرے بنے ہوئے ہیں جو دفاعی لحاظ سے اہمیت کے حامل ہیں قلعہ کے مرکز میں کئی قبریں ہیں۔ ان میں سے ایک سلطان سارنگ خان کی ہے۔ ان کے سولہ بیٹوں کی قبریں بھی ہیں جو 1540 میں یہاں جنگ کرتے ہوئے مارے گئے تھے۔ ہمایوں کے دور کے دوران، سلطان سارنگ خان نے زیادہ شہرت حاصل کی وہ اتنا طاقتور ہو گیا تھا کہ اس نے شیر شاہ سوری کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیاتھا ان کے اس انکار سے شیر شاہ سوری نے اس پر چڑھائی کر دی جس کے نتیجے میں وہ اور اس کے سولہ بیٹے مارے گئے تھے۔

موجودہ حالت[ترمیم]

اکبر کے سپہ سالار راجا مان سنگھ دفائی نقطہ نظر کے تحت اپنے سب سے قریبی اتحادیوں پرنگہ قلعہ روات جس کا ذکر مقامی مور خ نمبردار ار تاصب آف گر نوٹا میں اپنی کتاب وجہ تسمیہ د یہات پوٹھوہار میں بھی کیا ہے۔تاریخ فرشتہ کے مورخ لکھتا ہے کہ دس سو اکیس میں آدم گکھڑ نے پشاور کے مقام پر محمود غزنوی کو سخت مقابلہ کا کے پسپا کیا ۔

قیام پاکستان کے بعد قلعہ کو محکمہ اوقاف کی نگرانی میں دے دیا گیا اور اس کا نام شاہی قلعہ رکھ دیا گیا جس میں ایک مسجد بھی واقع ہے جو آج بھی آباد ہے اور قدیم دور کی یاد دلاتی ہے قلعے کے ارد گرد مضبوط فصیل ہے جو اسے بیرونی دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھنے کا ذریعہ تھی مگر اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اس کے علاوہ اس کی دیواروں کو اہل روات نے بھی نقصان پہنچایا ہے انہوں نے گھروں کی تعمیر کے لیے اس کی دیواروں کو گرانا شروع کر دیا تھا اب حکومت نے اس کے ارد گرد دیواروں کے ساتھ تعمیرات پر پابندی لگا دی ہے اور قلعے کے دونوں اطراف میں خوبصورت لان بنا دیے گئے ہیں۔ تاہم ان کی تعمیرات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ۔

سیاحتی مقام[ترمیم]

یہاں ملکی اور غیر ملکی سیاح آنا جانا رہتا ہے اور اگر حکومت زرا سی توجہ دے تو اس کو سیاحت کے لیے حوصلہ افزا مقام بنایا جا سکتا ہے اونچائی پر واقع ہونے کی وجہ سے دفاعی اعتبار سے بھی یہ قلعہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے یہاں سے اسلام آباد اور راولپنڈی اور ارد گردکے بڑے علاقے پر موثر کنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے تاہم اس تاریخی مقام پر حکومت کو توجہ دینی کی ضرورت ہے تاکہ آنیوالی نسلوں میں یہ وارثہ منتقل ہو سکے ۔

موجودہ حالت[ترمیم]

موجودہ قلعہ فصیل اور دو دروازوں پر مشتمل ہے صدر دروازے کا رخ مشرق کی جانب ہے جبکہ عقبی دروازہ شمال کی طرف کھلتا ہے۔ فصیل کے اندر چاروں اطراف میں حجرے بنے ہوئے ہیں۔ فصیل کے اندر دیگر تاریخی عمارتوں میں ایک ہشت پہلو مقبرہ، ایک مسجد اور چند قبریں ہیں۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

ہمایوں نامہ

آئین اکبری

تزک جہانگیری

تاریخ فرشتہ

راج ترنگی