قلعہ پھروالہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قلعہ پھروالہ
Pharwala Fort
Pharwala Fort.JPG
قلعہ پھروالہ
عمومی معلومات
مقام راولپنڈی ضلع، پاکستان
متناسقات 33°37′10″N 73°17′57″E / 33.61944°N 73.29917°E / 33.61944; 73.29917
تکمیل پندرہویں صدی
Gate of Pharwala Fort toward the Swaan stream
Pharwala Fort

قلعہ پھروالہ ایک تاریخی قلعہ جو خطہ پوٹھوار میں واقع ہے۔[1] راولپنڈی سے مشرق کی جانب 27کلو میٹر اور اسلام آباد ہائی وے سے 17کلومیٹر کے فاصلہ پر لہتراڑ روڈ چراہ گاؤں کے قریب تحصیل کہوٹہ میں واقع ہے یہ چار مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ قلعہ قدرتی طور پر ایک طرف کوہ ہمالیہ کی پہاڑی اور دوسری جانب دریائے سواں ہونے کی بنا پر محفوظ مقام پر واقع ہے۔ گکھڑوں کا یہ قلعہ پندرہویں صدی میں راجپوت گکھڑ قبیلہ کے حکمران ہاتھی خان نے بنوایا تھا۔ مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر نے 1519ء میں اسے فتح کیا بعد ازاں سکھوں نے 1825ء میں اس پر قبضہ کر ڈالا۔ یہ قلعہ گکھڑوں کا دار الخلافہ بھی رہا ہے۔ اس قلعہ کے چھ دروازے ہیں جن کے نام لشکری، قلعہ، ہاتھی، باغ، زیارت اور بیگم دروازے ہیں۔ ہاتھی دروازہ شمال مشرق جبکہ بیگم دروازہ جنوب مغرب کی طرف کھلتا ہے جو بری طرح تباہ ہوچکا ہے یہ دروازہ دریائے سواں سے نکلتے ہوئے پہلی اونچی چٹان پر واقع ہے۔[2] قلعہ کے مغرب میں ایک مسجدموجود ہے جس کا شمار برصغیر کی قدیم ترین مساجد میں ہوتا ہے۔ مسجد کے ساتھ ایک دفتر کے آثار دکھائی دیتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کسی زمانے میں قلعہ کے لوگ نماز پڑھنے کے لیے قلعہ سے مسجد جاتے تھے اور درمیان میں جو دریا موجود ہے اس وقت شاید یہ موجود نہ تھا۔گکھڑ قبیلے کے آخری سلطان مقرب خان کا مقبرہ بھی قلعہ میں موجود ہے۔ قلعہ کی عقبی دیوار شمال کی جانب برگد کا ایک بہت پرانا درخت موجود ہے جس کے نیچے چند ایک پرانی قبریں موجود ہیں، مقامی افراد کے مطابق ان قبروں کے ساتھ بیٹھنے کی جگہ بنی ہوئی ہے۔ تاریخ دانوں کے مطابق اس بیٹھک پر داتا گنج بخش ہجویری ،البیرونی ،سخی سبزواری بادشاہ جلوہ افرز ہوتے رہے ہیں۔ مختلف کتابوں میں اس بات کا بھی تذکرہ ملتا ہے کہ قلعہ پھروالہ میں ہر وقت گکھڑوں کی 500نفوس پر مشتمل فوج موجود رہتی تھی جبکہ 50ہاتھی اور100گھوڑے دفاعی ضروریات کے پیش نظر ہر وقت قلعہ میں موجود رہتے تھے۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]