قلعہ دراوڑ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قلعہ دراوڑ یہ قلعہ دراوڑ بہاولپور سے 32 کلومیٹر دور واقع ہے
Derawar Fort, Bahawalpur I.jpg
ابتدا میں قلعہ دراوڑ بطور راجپوت قلعہ نویں صدی عیسوی میں تعمیر ہوا
قسمقلعہ
متناسقات28°46′5″N 71°20′3″E / 28.76806°N 71.33417°E / 28.76806; 71.33417متناسقات: 28°46′5″N 71°20′3″E / 28.76806°N 71.33417°E / 28.76806; 71.33417
تعمیرنویں صدی عیسوی
قلعہ دراوڑ is located in پاکستان
قلعہ دراوڑ
قلعہ دراوڑ (پاکستان)
قلعہ دراوڑ
قلعہ دراوڑ 2006 فروری میں۔

قلعہ دراوڑ : پاکستان میں بہاولپور کے قریب ایک قلعہ ہے۔ قلعہ ڈیراوڑ (ڈیوااوور) کی مختصر تاریخ ترتیب و تدوین= ملک حسن امتیاز ڈیوا (جٹ بھٹی)رابطہ نمبر03003536780

یہ قلعہ جٹ بھٹی راجپوت قبیلے کی تاریخی عظمتوں کا امین ہے۔ تاریخ دانوں کے مطابق جیسل میر اور موجودہ بہاولپور ریاست کے قدیم جٹ بھٹی راجپوت حاکم راول دیو راج بھٹی نے 800 عیسوی میں اس کی تعمیر کرائی۔

اس دور میں اس راجا کو راجا ڈیوا بھٹی بھی کہا جاتا تھا۔

قلعہ ڈیراور، بہاولپور سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر تحصیل احمد پور شرقی میں چولستان صحرا کے درمیان میں میلوں دور تک دیکھا جا سکتا ہے۔چولستان میں واقع اس قلعے کی دیواریں اور ان کی ساخت عہد رفتہ کی شان و شوکت کی مظہر ہیں اور اس خطے کی ماضی کی امین ہیں۔ تاریخ دانوں کے مطابق چونکہ ریاست جیسل میر اور موجودہ بہاولپور ریاست کے قدیم جٹ بھٹی راجپوت حاکم راول دیو راج بھٹی نے 800 عیسوی میں اس کی تعمیر کرائی۔ اسی لیے اس کا نام دیو راول قلعہ تھا جو بگڑ کر ڈیوا راوڑ اور اب ڈیراور ہو گیا ہے۔ ۔ ایک اور روایت کے مطابق شری کرشن جی مہاراج جن کا جنم چندر بنسی قبیلے میں ہوا اورچندر بنسی اصلا اور نسلا جاٹ بن سندھ بن حام بن نوح علیہ اسلام کی آل میں سے ہیں کی ہی نسل سے ایک انتہاٸی خوش بخت اور جنگجو راجا بھٹی کا جنم ہوا جو اصلاً اور نسلاُ جٹ ہی تھا مگر بعد ازاں وسیع وعریض راج پاٹ کی بدولت تاریخ میں راجپوت مشہور ھوا۔ اور اس راجا جٹ بھٹی کی نسل سے یکے بعد دیگرے کثیرالتعداد راجے مہاراجے ہوئے جن میں سے ایک راجےکا نام راول دیو راج جٹ بھٹی بھی تھا جو وادی ہاکڑہ (چولستان) کا عظیم الشان حکمران ہوگزراہے۔ اس خطے کی قدیم زبان وہی تھی جسے آج کل سراٸیکی کا نام دیا گیا ہے۔ اور سراٸیکی کے بہت سے الفاظ میں حرف” د“ عموماً حرف ”ڈ“کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔مثلاً دادا سے ڈاڈا،دانت سے ڈند،درانتی سے ڈاتری ،دینا سے ڈینا ،دیوا سے ڈیواوغیرہ وغیرہ لہازہ راجا دیوا بھٹی کو راجا ڈیوا بھٹی بھی کہا جاتا تھا نیز یہانپر میں آپکو یہ بھی بتاتا چلوں کہ لفظ دیوا دراصل سنسکرت یا ہندی کے لفظ دیوتا کا اختصار ہے اور اس کی مزید مختصر صورت لفظ دیو ہے۔ چنانچہ راجا دیو نے چولستان (وادیٍ ہاکڑہ)میں جو قلعہ تعمیر کیا تھا اس دور میں اسے دیو اوور یا ڈیوا اوور کہا جاتا تھا۔”اوور“ سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی قلعہ/کوٹ/فورٹ کے ہیں اسی طرح ڈیوا اوور سے مراد راجا ڈیوا بھٹی کا قلعہ ہے۔جو بعد ازاں قلعہ ڈیراوڑ /ڈیراول مشہور ہوا۔ (جو بعد میں راجا ڈیوا کے خاندان سے حاکم بہاولپور صادق خاں عباسی کےخاندان کی ملکیت بنا اور آج کل جس میں بہاور لپور کے حکمران عباسی خاندان کے بزرگوں کے مقبرے یا مزارات ہیں ) بالکل اسی طرح جسطرح راجا کہر یا راجا کیہار جٹ بھٹی نے اس دور میں دریاٸے بیاس اور ستلج کے سنگم پر ایک قلعہ تعمیر کیا تھا جسے اس دور میں ”کہراوور“ (راجا کہر جٹ بھٹی کا قلعہ)کہا جاتا تھا جو بعد میں کہروڑ اور پھر کہروڑ پکا مشہور ہوا ۔ جیسے راجا لہو اور راجا کسو کے قلعے ”لہواوور“,”کسواوور“ بعد ازاں لاہور اور قصور مشہور ہوٸے۔ ایک اور روایت کے مطابق یہ قلعہ بھاٹی خاندان کے حکمران رائے ججہ نے نویں صدی عیسوی میں تعمیر کروایا۔ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رائے ججہ نے اپنے بھتیجے سے اختلاف کی وجہ سے اس قلعہ کی تعمیرومرمت رکوا دی تھی۔ جس پر رائے ججہ کی بہن نے اسے سمجھایا کہ بھٹی/بھاٹی اور بھاٹیا ایک ہی قوم ہیں لہذا قلعہ کی تعمیر جاری رکھیں۔لوک روایت میں اس واقعہ کا ذکر کچھ اس طرح ہوا ہے۔ رائے ججہ سائیں، تیکوں وڈی بھین سمجھاوے

بھٹی تے بھاٹیا ہن ہکو کوٹ اسارن ڈے۔

1733 میں نواب صادق محمد خان اول نے اس قلعہ کو فتح کیا۔ اگرچہ 1747 میں جیسل میر کے راجا راول سنگھ نے اس قلعہ پر دوبارہ قبضہ کر لیا لیکن 1804 میں نواب مبارک خان نے یہ دوبارہ حاصل کر لیا۔ اس کے بعد سے یہ بہاولپور کے حکمرانوں کی شاہی رہائش گاہ بنارہا۔ نوابوں کے مختلف ادوار میں اس قلعہ کی وقتا فوقتا مرمت اور تزین و آرائیش کی جاتی رھی لیکن ریاست کا دار الحکومت بہاولپور بننے سے آہستہ آہستہ اس پر بعد میں آنے والے حکمرانوں کی توجہ کم ہوتی گئی اور اب یہ قلعہ بہت خستہ حالت میں بدلتا جا رہا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ یہ قلعہ آج بھی نواب کی ملکیت ہے۔قلعہ ڈیراور کے اردگرد کئی آثار قدیمہ کے مقامات ہیں جو وادی سندھ کی تہذیب سے بھی پرانے ہیں لیکن آج تک یہاں پر کھدائی نہیں ہو سکی۔قلعہ کے ساتھ واقع تالاب کے بارے میں کہا جاتا کہ اس کی تہ پیتل کی دھات سے بنائی گئی ہے تاکہ بارش کا پانی صحرا میں جذب نہ ہو سکے۔ قلعہ کے پاس ہی لال قلعہ دہلی کی موتی مسجد کی طرز پر بنائی گئی شاہی مسجد قلعہ کی شان اور خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے۔ قلعہ میں خفیہ سرنگوں کا ایک جال بھی بچھایا گیا تھا جو جنگ کی صورت میں خفیہ راستے کے طور پر استعمال ہوتی تھیں۔ لیکن اب سکیورٹی خدشات کی وجہ سے حکومت پاکستان نے ان سرنگوں کو بند کروا دیا ہے۔ صدر لوک سیوا وارث ملک کے مطابق قلعہ ڈیراور میں دفاتر، قید خانہ، پھانسی گھاٹ، رہائش گاہیں اور پانی کا کنواں جو تالاب سے جڑا ہوا تھا، موجود تھے۔ اس قلعہ میں نواب صاحب اپنے درباریوں کے ساتھ کھلا دربار منعقد کرتے تھے اور سزاوں کے احکامات جاری کرتے تھے۔ آج بھی یہ قلعہ نواب خاندان کی ملکیت ہے۔ یہاں پر تین چوکیدار بھی انہیں کی طرف سے متعین ہیں۔ یہ قلعہ چولستان جیپ ریلی کا اختتامی پوائنٹ بھی ہے۔ جس کی وجہ سے کافی ملکی اور غیر ملکی سیاح اس تاریخی مقام کی سیر بھی کرتے ہیں۔

بہاولپور کے دیگر قلعے[ترمیم]

چولستان کے قلعے

تحریر عرفان علی عزیز[ترمیم]

ویسے تو پاکستان میں سینکڑوں قلعے ہیں لیکن چولستان میں قلعوں کی تعداد 29 ہے اور اس کے علاوہ محلوں اور پرانی عمارتوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہے اور کہتے ہیں صحابہ کرام ولی اللہ کی قبریں مبارک بھی ہیں صحرائی چولستان کے راستوں کی مجموعی لمبائی ایک ہزار ایک سو ننانوے میل بنتی ہے۔ چولستان بہاولپور کے تین اضلاع بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان کے راستے صحراکی جانب قلعوں تک جاتے ہیں۔

چولستان میں واقع قلعوں کے نام۔

1۔قلعہ پھلڑاقائم پور، 2۔ قلعہ مروٹ، 3۔ قلعہ جام گڑھ مروٹ، 4۔ قلعہ موج گڑھ مروٹ، 5۔ قلعہ مبارک پور چشتیاں، 6۔قلعہ فتح گڑھ امروکہ بہاولنگر، 7۔قلعہ میر گڑھ مروٹ، 8۔قلعہ خیرگڑھ، 9۔قلعہ بہاول گڑھ، 10۔قلعہ سردار گڑھ ولہر، 11۔قلعہ مچھلی، 12۔قلعہ قائم پور، 13۔قلعہ مرید والا، 14۔قلعہ دراوڑ، 15۔قلعہ چانڈہ کھانڈہ، 16۔قلعہ خانگڑھ،17۔قلعہ رکن پور، 18۔قلعہ لیاراصادق آباد، 19۔قلعہ کنڈیراصادق آباد، 20۔قلعہ سیوراہی صادق آباد،21۔قلعہ صاحب گڑھ رحیم یارخان،22۔قلعہ ونجھروٹ، 23۔قلعہ دھویں، 24۔قلعہ دین گڑھ، 25۔قلعہ اوچ، 26۔قلعہ تاج گڑھ رحیم یارخان، 27۔قلعہ اسلام گڑھ رحیم یار خان، 28۔ قلعہ مئومبارک رحیم یار خان، 29- قلعہ ٹبہ جیجل حاصل ساڑھو بہاولنگر میں ہیں اس کے علاوہ اور بھی بہت سی تاریخی عمارتیں،محلات بھی ہیں اور بہت سوں کا وجود ہی دنیا سے ختم ہو گیا ہے۔

سانچہ:اسلام گڑھ فورٹ یہ قلعہ پہلے بھنور قلعے کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یہ قلعہ راول بھیم سنگھ نے 1665ء میں تعمیر کروایا۔جیسا کہ اس کے گیٹ پر بابری میں لکھا ہوا ہے۔ "سمابت1665ء اسوج وادی2،مہاراج راول سری بھیم سنگھ جی مہاراج" یہ قلعہ چولستان میں تحصیل خانپور میں واقع ہے۔یہ قلعہ بعلافورٹس سے 46کلومیٹر اور رحیم یار خان سے تقریبا91کلومیٹر ہے۔یہ قلعہ انڈیا کے بارڈر کے بالکل قریب واقع ہے۔جس کے دوسری طرف بھارتی شہر "کشن گڑھ"ہے۔اس قلعے سے دراورڑ فورٹ تقریبا 170کلومیٹر ہے۔

میر گڑھ فورٹ۔ یہ قلعہ فورٹ عباس سے تقریبا15کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔اس قلعے کی اونچی دیواریں مٹی سے بنی ہوئی ہیں۔یہ قلعہ بہت ہی خستہ حالت میں ہے۔ اور محکمہ اثارقدیمہ کی توجہ کا تلبگار ہے۔اس قیمتی ورثہ کی حفاظت نہ کی گئی تو بہت جلد یہ روٗ زمین سے اپنا نقش مٹا دے گا۔

جام گڑھ فورٹ

جام گڑہ فورٹ میرگڑھ فورٹ سے 9کلومیٹر دور ہے۔ یہ قلعہ خوبصورت اینٹوں سے بنا ہوا ہے۔ اور کافی حد تک اپنی اصل حالت میں برقرار ہے۔اس کو جام خان ماروفانی نے 1788ء میں بنوایا تھا۔یہ چوکور شکل میں ہے۔ اور چاروں طرف سے 114فٹ کی پیمائش پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کی دیواریں 28فٹ تک بلند ہیں اور چاروں کونوں میں گول خوبصورت برج بنے ہوئے ہیں۔قلعہ کے مشرق میں 9فٹ قوس دار گنبد نما دروازہ ہے۔

موج گڑھ فورٹ موج گڑھ فورٹ عباسی بادشاہت کے دور میں بنائے گئے قلعوں کے سلسلے میں سے ایک قلعہ ہے۔ یہ قلعہ بھی اپنی تباہی کی آخری منزلوں پر ہے۔اور حکومتی اداروں کی توجہ کا تلبگار ہے۔یہ قلعہ چولستان ڈیزرٹ میں تحصیل فورٹ عباس اور یزمان کے درمیاں ہے۔ اس قلعے تک پہنچنے کے لیے ہمیں بہاولپور شہر میں ٹھنڈی کھوئی سے یزمان۔فورٹ عباس روڈ پر 70کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑے گا۔ مٹی اور اینٹوں سے بنا ہوا یہ قلعہ معروف خان کہرانی نے 1743ء میں تعمیر کروایا تھا۔ یہ قلعہ انڈیا پاکستان کے بارڈر کے بالکل قریب ہے اور اکثر رینجرز یہاں وزٹ کرتے رہتے ہیں۔رینجرز اس قلعہ کو محفوظ بنانا چاھتے ہیں مگر اس کے لیے اک کثیر رقم کی ضرورت ہے۔

خان گڑھ فورٹ: یہ قلعہ نواب محمد بہاول خان 11 نے 1783ء میں تعمیر کروایا۔ یہ نصف دائرے کی شکل میں تعمیر کیا گیا ہے۔ جس کے ہرکونے میں چبوترے ہیں اور مشرق والی طرف داخلی دروازہ ہے۔ہر طرف سے یہ قلعہ 128فٹ تک پھیلا ہوا ہے۔اس کی دیواریں مٹی کی اینٹوں کی بنی ہوئی ہیں جو کافی حد تک گر چکی ہیں۔ یہ قلعہ دڑاورفورٹ سے 70کلومیٹر پر ہے۔

خیر گڑھ فورٹ: یہ قلعہ 1775ء میں تعمیر کیا گیا۔ یہ گول شکل میں ہے اور چاروں طرف سے 170فٹ تک اندر کی طرف پھیلا ہوا ہے۔جس کے چاروں طرف آٹھ پہلو برج ہیں۔ یہ قلعہ دڑاورفورٹ سے تقریبا 64کلومیٹر ہے۔

نواں کوٹ قلعہ

نواں کوٹ قلعہ آج بھی کافی حد تک اپنی اصلی حالت میں قائم ہے۔یہ قلعہ دراوڑ فورٹ سے 45کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ بھی مٹی کی بنی اینٹوں کا بنا ہوا ہے۔اس کا کل رقبہ برجوں کے اندر تک 156فٹ تک ہے۔داخلی دروازہ 10فٹ چوڑا ہے جس کے ملحق ایک گارڈز کا کمرہ بنا ہوا ہے۔

بجنوت ونجھروت قلعہ یہ قلعہ ایک بہت ہی شاندار قلعہ تھا۔ اس قلعہ کو راجا ونجھہ یا بجا بھاٹیا نے 757ء میں تعمیر کروایا۔ یہ قلعہ اب کھندرات کی صورت میں موجود ہے مگر پھر بھی یہ اپنی شاندار حالت کہ بیان کرتا ہے۔یہ قلعہ نواں کوٹ قلعہ سے 45 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس کو بنانے میں چونے کا پتھر استعمال ہوا