اکبر شاہ ثانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
Akbar II
اکبر شاہ ثانی

دور حکومت 19 نومبر 1806ء28 ستمبر 1837ء
تاج پوشی 19 November 1806 at Red Fort, دہلی
معلومات شخصیت
اصل نام 'Abu Nasir Mu'in ud-din Muhammad Akbar Shah II
پیدائش [[نقص اظہار: «{» کا غیر معروف تلفظ۔ |نقص اظہار: «{» کا غیر معروف تلفظ۔ ]] 22 April 1760(22 April 1760-نقص اظہار: «{» کا غیر معروف تلفظ۔-{{{3}}})خطاء تعبیری: غیر متوقع > مشتغل۔
Mukundpur, مغلیہ سلطنت
وفات 28 ستمبر 1837(1837-90-28) (عمر  77 سال)
دہلی, مغلیہ سلطنت
مدفن مہرؤلی, دہلی
مذہب اسلام
اولاد بہادر شاہ ظفر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد شاہ عالم ثانی
والدہ Qudsia Begum (3rd wife of Shah Alam II)
خاندان تیموری سلطنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
نسل 14 sons including بہادر شاہ ظفر
Mirza Jahangir shah
Mirza Jahan Shah
Mirza Babur
Mirza Salim Shah
Mirza Nazim Shah
8 daughters
خاندان Timurid

نام: اکبر شاہ ثانی

والد:عالی گوہر شاہ عالم ثانی

والدہ :قدسیہ بیگم (شاہ عالم ثانی کی تیسری بیوی )

تاریخ ولادت:22اپریل 1760ء

تاریخ وفات:28ستمبر1837ء

شہنشاہ شاہ عالم ثانی کی وفات کے بعد اس کا بیٹا اکبر شاہ تخت ہند پر متمکن ہوا۔وہ اپنے باپ کی طرح بے اختیار اور برائے نام حکمران تھا اصل اختیارات انگریزوں کے پاس تھے بادشاہ کے پا س لال قلعہ دہلی کے اندر تک محدود تھے ۔بادشاہ کو شاعری ،شطرنج اور موسیقی سے شغف تھا ۔

1835ء میں شہنشاہ نے اپنےسفیر رام موہن رائے کو برطانیہ بھیجا تاکہ وہ حکومت برطانیہ سے شاہی وظیفہ میں اضافہ کا معاملہ طے کرے کیونکہ شہنشاہ کے لئے انگریزوں کی طرف سے فدوی خاص کے الفاظ بھی حذف کرلئے گئے ۔رام موہن رائے نے سینٹ جیمز کی عدالت میں اپنی درخواست پیش کی اور شہنشاہ کے حق میں دلائل دیئے مگر اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا ۔اس دوران شہنشاہ کی وفات ہوگئی ۔

انگریزوں نے نظام حیدرآباد اور نواب اودھ کو اکسایا کہ وہ اپنے لئے بادشاہ کا لقب اختیارکریں ۔نواب اودھ نے بادشاہ کا خطاب قبول کرلیا اور بادشاہ کا لقب اختیار کیا مگر نظام نے انکار کردیا صرف یہی نہیں سندھ کے تالپور اور کلہوڑوں نے شہنشاہ کا ادب واحترام برقرا رکھا ۔

وفات:

اکبر شاہ ثانی نے 28 ستمبر 1837ء کو وفات پائی ۔بادشاہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں معدے کی بیماریوں کا شکار ہوگیاجسمانی کمزوری کے باعث صاحب فراش رہا۔مرحوم بادشاہ کودرگاہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے ساتھ مہراؤلی (دہلی )میں دفن کیا گیا مزار سنگ مرمر کا بنا ہواہے جہاں مغل بادشاہ بہادر شاہ اول اور شاہ عالم ثانی بھی مدفون ہیں۔

اکبر شاہ ثانی
پیدائش: 1760 وفات: 1837
شاہی القاب
پیشرو 
شاہ عالم ثانی
مغل شہنشاہ
مغل شہنشاہ
19 نومبر 1806ء28 ستمبر 1837ء
جانشین 
بہادر شاہ ظفر