گرینڈ جامع مسجد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گرینڈ جامع مسجد
Grand Jamia Masjid Bahria Town Lahore Pakistan cropped.jpg
بنیادی معلومات
مقام بحریہ ٹاؤن، لاہور، پاکستان
مذہبی انتساب اہل سنت
ضلع لاہور
صوبہ پنجاب
ملک پاکستان
سنہ تقدیس 2014ء
مذہبی یا تنظیمی حالت مسجد
سربراہی ملک ریاض
ویب سائٹ Grand Jamia Masjid.com
تعمیراتی تفصیلات
نوعیتِ تعمیر مسجد
طرز تعمیر اسلامی، مغل
تفصیلات
گنجائش 30,000
گنبد 21
مینار 4
مینار کی بلندی 165 فٹ

گرینڈ جامع مسجد، بحریہ ٹاؤن، لاہور پاکستان کی تیسری سب سے بڑی مسجد ہے۔ اس کا پہلا افتتاح، 6 اکتوبر 2014ء کو عید الاضحی پر کیا گیا اور دوسری بار 5 دسمبر، 2014ء کو باقاعدہ جمعہ کی نماز سے مسجد عوام کے لیے کھول دی گئی۔ اس کے اندرونی حصے میں 25،000 نمازیوں اور جبکہ صحن، مرکزی ہال کے دالان کو ملا کر کل 70،000 نمازی ایک وقت میں نماز ادا کر سکتے ہیں۔[1]اس کا فن تعمیر بادشاہی مسجد، مسجد وزیر خان اور شیخ زید مسجد سے متاثر ہے۔ اس کی تعمیر میں 4 بلین سے زائد کی پاکستانی رقم خرچ ہوئی ہے۔[2][3] مسجد چار میناروں اور 20 چھوٹے اور ایک بڑے گنبد پر مشتمل ہے، ہر مینار کی اونچائی 165 فٹ ہے۔ جبکہ اس کا بیرونی حصہ 4 ملین ملتانی ٹائل پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ، مرکزی ہال کو ترکی سے اپنی مرضی کے مطابق سے بنوائے گئے قالینوں اور ایران سے منگوائے 50 فانوسوں سے سجایا گيا ہے۔[4]

معماری خصویات[ترمیم]

گرینڈ جامع مسجد کو پاکستان کی سب سے بڑی مسجد ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور ساتھ ہی یہ دنیا کی ساتویں بڑی مسجد بھی ہے- لاہور کے علاقے بحریہ ٹاؤن میں تعمیر کی جانے والی اس مسجد میں بیک وقت 70 ہزار نمازیوں کی نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے اور 25 ہزار نمازیوں کی اندرونی احاطے میں گنجائش ہے- 165 فٹ بلند، 4 میناروں کے ساتھ ایک عظیم الشان گنبد اور 20 چھوٹے گنبدوں پر مشتمل یہ مسجد پاکستانی ثقافت اور اسلامی آرکیٹیکچر کا منفرد نمونہ ہے۔

ایرانی طرز[ترمیم]

“گرینڈ جامع مسجد“ کی تعمیر میں بہت زیادہ اندازِتعمیر ایرانی امام باڑوں سے ملائی گئی۔
ایک مخصوص طبقہ اپنی ثقافت کو اسلامی ممالک میں منتقل کر رہا ہے۔ مسجد کے باہر ایراناورعراق کے امام باڑوں کی طرح بڑے بڑے برآمدے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ اسلامی طرز تعمیر کے مطابق نہیں بلکہ مسجد کے نام پر ابتدا کی گئی ہے

تزئین و آرائش[ترمیم]

دیگر سہولیات[ترمیم]

مسجد میں خواتین کے لیے الگ سے نماز کی جگہ مختص ہے جبکہ ایک اسکول اور اسلامی آرٹ گیلری بھی ہے۔[5]

نگار خانہ[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]