الفقہ الاکبر (کتاب)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
فقہ اکبر
نام فقہ اکبر
اصل عنوان الفقہ الأكبر
مصنف امام ابو حنیفہ
موضوع اسلامی عقیدہ، اصول دین، علم الکلام
عقیدہ اہل سنت و جماعت
زبان عربی
معلومات طباعت
تعداد صفحات 560
ناشر دار البشائر الإسلامية
تاریخ اشاعت الطبعة الأولى 1998م
الطبعة الثانية 2009ء
کی دیگر کتابیں

الفقہ الاکبر (عربی: الفقہ الاکبر) یہ کتاب اہل سنت والجماعت کے منہج کے مطابق اسلامی عقیدہ کی تفصیل پر مشتمل ہے، اس کتاب کے مؤلف امام ابو حنیفہ ہیں،[1] یہ کتاب علم کلام، اصول دین اور اسلامی عقیدہ کی اصل اور بنیاد سمجھی جاتی ہے، ماتریدیہ مذہب کے متکلمین اور علما کا اعتماد اسی کتاب پر ہے، اسی کتاب کی شرح ماتریدی مذہب کے بانی ابو منصور ماتریدی نے کی جن کی تشریحات اور جن کے کلامی مذہب کی تقلید حنفی پیروکار کرتے ہیں۔[2]

شروحات[ترمیم]

متقدمین[ترمیم]

متأخرین[ترمیم]

تحقیق[ترمیم]

  • شیخ وہبی سلیمان غاوجی
  • عبد اللہ بن ابراہیم انصاری

نے اس کتاب کی تحقیق و مراجعت کی ہے۔

علما کی آرا[ترمیم]

کتاب کے محقق وہبی سلیمان غاوجی مقدمہ میں لکھتے ہیں:

"الفقہ الاکبر" یہ کتاب امام ابو حنیفہ کی تالیف اور املا ہے۔
  • ابن طاہر البغدادی اپنی کتاب "اصول الدین" میں لکھتے ہیں: «فقہاء اور ارباب مسالک میں سب سے پہلے متکلم ابو حنیفہ اور شافعی تھے، چنانچہ ابو حنیفہ نے قدریہ کے رد میں ایک کتاب تالیف کی جس کا نام انھوں نے "الفقہ الاکبر" رکھا»۔
  • امام ابو المظفر اسفرایینی اپنی کتاب "التبصیر فی الدین میں لکھتے ہیں: «امام ابو حنیفہ کی کتاب "الفقہ الاکبر" ہم تک نہایت معتمد اور صحیح سند کے ساتھ نصر بن یحیی کے ابو حنیفہ کے واسطے سے ثقہ لوگوں کے ذریعہ پہنچی ہے، اس کتاب میں اہل سنت کے عقائد کو بہترین اور مفید طریقہ سے پیش کیا گیا ہے، اس کی اشاعت پہلی مرتبہ علامہ محمد زاہد کوثری کی تحقیق کے ساتھ ہوئی»۔
  • ابو عبد اللہ صمیری کہتے ہیں: «امام ابو حنیفہ اس امت کے اپنے زمانہ میں متکلم اور فقیہ تھے»۔

میں نے الفقہ الاکبر کا ایک بہترین مخطوطہ مدینہ منورہ میں "مکتبہ شیخ الاسلام عارف حکمت" میں دیکھا، جو علی بن احمد فارسی کی روایت سے نصر بن یحییٰ سے، پھر ابو مقاتل سے، پھر عصام بن یوسف سے، پھر حماد ابن ابو حنیفہ سے مروی ہے، اس سے یہ یقینی طور ثابت ہوتا ہے کہ "الفقہ الاکبر" کی نسبت امام ابو حنیفہ ہی جانب ہے۔

گزشتہ باتوں سے معلوم ہوا کہ یہ کتاب بذات خود امام ابو حنیفہ کی کتاب ہے، اور صحیح بات بھی یہی ہے کہ اس کتاب میں ذکر کردہ عقائد و مسائل کو امام ابو حنیفہ نے اپنے شاگردوں مثلا: حماد، ابو یوسف، ابو مطیع حکم بن عبد اللہ بلخی، ابو مقاتل حفص بن مسلم سمرقندی وغیرھم کو املا کرایا تھا، بعض نے اس کو محفوظ رکھا، اور بعد کے ائمہ نے اس کو حاصل کیا، مثلا: اسماعیل بن حماد بن ابو حنیفہ، محمد بن مقاتل رازی، محمد بن سماعہ، نصیر بن یحییٰ بلخی، شداد بن حکم وغیرہم نے، یہاں تک کہ صحیح سندوں کے ساتھ امام ابو منصور ماتریدی تک پہنچی۔[4]

کتاب کے مشتملات[ترمیم]

  • مقدمہ (محقق کا)
  • اول: امام ابو حنیفہ
  • دوم: ملا علی قاری
  1. زندگی
  2. تالیفات
  3. حق کی طرف رجوع
  4. وفات
  • سوم: کتاب کے موضوعات، وجہ تسمیہ اور منہج
  1. معتمد مخطوطات کا عکس
  2. الفقہ الاکبر کی شرح
  • خطبہ کتاب (آغاز)
  1. علم توحید کی دوسرے علوم پر فضیلت
  2. توحید کی بنیاد اور عقیدہ
  3. آمنت باللہ و ملائکتہ الخ۔۔۔ کہنا واجب
  4. بعث بعد الموت پر ایمان
  5. قضاء و قدر پر ایمان
  6. اللہ کی وحدانیت۔
  7. کوئی مخلوق اللہ کی کچھ مشابہ نہیں
  8. اللہ کے اسماء و صفات کی تشریح
  9. صفت کلام اور اس میں علما کا اختلاف
  10. فعلی صفات اور اس میں ماتریدیہ اور اشاعرہ کا اختلاف
  11. اللہ اپنی ذاتی و فعلی صفات کے ساتھ ازل سے ہے
  12. قرآن اللہ کا کلام ہے، نہ تو مخلوق ہے اور نہ حادث
  13. اللہ کی صفات مخلوق کی صفات کے مشابہ نہیں ہیں۔
  14. اللہ کے ہاتھ، چہرہ، نفس بلاکیفت ہیں۔
  15. قضاء و قدر اللہ کی ازلی صفات میں سے ہے
  16. اللہ نے مخلوق کو کفر ایمان سے سلامت پیدا کیا، پھر ہر ایک نے اپنے فعل اور اختیار سے کفر یا ایمان اختیار کیا۔
  17. اللہ نے کسی مخلوق کو کفر پر جبر نہیں کیا
  18. بندوں کے افعال کسبی ہیں، اللہ ان کا خالق ہے
  19. بندوں کے افعال اللہ کے علم اور قضاء و قدر کے مطابق ہیں
  20. انبیا کرام کبیرہ و صغیرہ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں
  21. محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اثبات
  22. نبی کے بعد سب سے افضل خلفاء راشدین ہیں
  23. کبیرہ گناہ سے مومن، کافر نہیں ہوتا
  24. گناہ اس کے ارتکاب کرنے والے کے لیے مضر ہیں
  25. طاعات اپنی شرطوں کے ساتھ مقبول ہیں اور گناہ سوائے شرک کے اللہ معاف کر سکتا ہے
  26. انبیا کے معجزات اور اولیاء کی کرامات برحق ہیں
  27. کفار اور فاسقین کے ہاتھوں پیش آنی والی خوارق کا بیان
  28. اللہ تعالیٰ آخرت میں بلا کیفیت نظر آئے گا
  29. ایمان تصدیق اور اقرار کا نام ہے
  30. ایمان کم یا زیادہ نہیں ہوتا
  31. مومنین ایمان میں برابر ہوتے ہیں، اعمال میں فرق ہوتا ہے۔
  32. اسلام کا مطلب اور ایمان کی طرف اس کی نسبت
  33. دین کا مطلب، یہ تمام شریعتوں کا جامع ہے
  34. انبیا و صلحاء کی شفاعت برحق ہے
  35. جنت اور جہنم مخلوق ہیں
  36. قبر میں میت کے اندر روح کا اعادہ حق ہے
  37. قبر کا عذاب برحق ہے
  38. اللہ کا مخلوقات سے قربت کا مطلب
  39. اللہ کی اولاد
  40. علم توحید میں جب کوئی اشکال ہو

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "كتاب الفقہ الأكبر". الموسوعة الشاملة. 19 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 27 اگست 2015. 
  2. الغلاف الخلفي لكتاب: القول الفصل شرح الفقہ الأكبر للإمام الأعظم أبي حنيفة، المؤلف: الإمام الأعظم المجتهد أبي حنيفة النعمان، الشارح: الإمام محيي الدين محمد بن بهاء الدين، تعليق وتحقيق: الشيخ الكتور عاصم إبراهيم الكيَّالي الحسيني الشاذلي الدّرقاوي، الناشر: كتاب ناشرون | بيروت، لبنان، الطبعة الأولى: 2013.
  3. كتاب التوحيد للإمام أبي المنصور الماتريدي، تحقيق: الأستاذ الدكتور بكر طوبال أوغلي، والأستاذ المساعد الدكتور محمد آروشي، الناشر: دار صادر - بيروت، ومكتبة الإرشاد - استانبول، ص: 27.
  4. كتاب: منح الروض الأزهر في شرح الفقہ الأكبر، تأليف: الملا على القاري، ومعہ: التعليق الميسر على شرح الفقہ الأكبر، تأليف: الشيخ وهبي سليمان غاوجي، الناشر: دار البشائر الإسلامية، الطبعة الأولى: 1998م، ص: 12-14.