منت اللہ رحمانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
منت اللہ رحمانی
معلومات شخصیت
پیدائش 7 اپریل 1913  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
منگیر  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 19 مارچ 1991 (78 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد محمد علی مونگیری  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ حسین احمد مدنی،  میاں سید اصغر حسین دیوبندی،  مفتی محمد شفیع عثمانی  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مولانا سید منت اللہ رحمانی (7 اپریل 1913۔ 19 مارچ 1991) ایک بھارتی سنی دیوبندی عالمِ دین اور ملی رہنما تھے وحدتِ امت کے بڑے داعی اور اختلاف رائے میں اعتدال کے نقیب تھے۔ آپ مسلم پرسنل لا بورڈ کے فاؤنڈر امارت شرعیہ بہار اڑیسہ و جھار کھنڈ کے چوتھے امیر شریعت و مسلم پرسنل لا بورڈ کے پہلے جنرل سیکریٹریری اور انچاس سال تک خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشیں اور جامعہ رحمانی مونگیر کے سرپرست رہے در اصل مولانا رحمانی ہی اس جامعہ کے بانی ثانی ہیں۔

ابتدائی تعارف[ترمیم]

مولانا منت اللہ رحمانی 7 اپریل 1913 کو بہار کے شہر مونگیر میں پیدا ہوئے۔[1] ان کے والد ماجد عالم ربانی حضرت مولانا محمد علی مونگیری لکھنؤ میں تحریک ندوۃ العلماء اور اس کے ماتحت دارالعلوم کے بانی تھے۔[2]

تعلیم[ترمیم]

مونگیر میں اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ، مولانا نے حیدرآباد میں مفتی عبد اللطیف رحمانی صاحب کے یہاں عربی گرامر ، نحو اور منطق کی تعلیم حاصل کی۔ اپنی مزید تعلیم کے لئے دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں داخلہ لیا ، اور چار سال وہاں تعلیم حاصل کی۔ 1349 ہجری میں ، دارالعلوم دیوبند چلے گئے جہاں انہوں نے مولانا حسین احمد مدنی سے صحیح بخاری کی تعلیم حاصل کی۔ آپ نے 1352 ہجری میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت کی۔[3] ان کے دیگر اساتذہ میں میاں سید اصغر حسین دیوبندی اور مفتی محمد شفیع عثمانی و علامہ محمد ابراہیم بلیاوی شامل ہیں۔[1]

قومی خدمات[ترمیم]

1935 میں ، مولانا ابوالمحاسن سجاد نے بہار میں مسلم انڈی پنڈنٹ پارٹی (Muslim Independent Party) کی بنیاد رکھی اور مولانا رحمانی اس کے سیکرٹری مقرر ہوئے۔ اس کے ذریعہ، وہ 1937 میں مونگیر و بھاگلپور سے بہار قانون ساز اسمبلی کے ممبر کے طور پر بھی منتخب ہوئے۔[1] وہ سن 1361 ہجری میں خانقاہ رحمانی مونگیر، کے سجادہ نشین اور سن 1955 میں دارالعلوم دیوبند کی قانون ساز کونسل (مجلس شوریٰ) کے ممبر کے عہدے پر فائز ہوئے، اپنی وفات تک وہ اس عہدے پر فائز رہے۔[3][1] انہوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا اور 28 دسمبر 1972 کو ہونے والے بورڈ کے پہلے اجلاس میں انہیں ہی اس کا پہلا جنرل سکریٹری مقرر کیا گیا۔اس پس منظر ميں  انھيں بانى جنرل سكريٹرى كہا گيا ۔

[1] 1964 میں ، انہوں نے ہندوستان کے مندوب کی حیثیت سے بین الاقوامی مسلم کانگریس (رابطہ عالم اسلامی) میں حصہ لیا۔[3]

1945 میں ، مولانا نے جامعہ رحمانی ، جو صوبہ بہار کے شہر مونگیر میں ایک مشہور مدرسہ ہے، دوبارہ قائم کیا اور انکے عہد میں اس ادارے نے بڑی ترقی کی۔[1][4] 19 مارچ 1991 کو انتقال کر گئے۔ [1]

وراثت[ترمیم]

ایک ویکی نویس نے مونگیر اور مولانا منت اللہ رحمانی صاحب پر نہایت عمدہ اور اہم تبصرہ کیا ہے۔

مونگیر ایک تاریخی شہر ہے جہاں انگریزوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے والے محب وطن جانباز میر قاسم جیسے عظیم شہسوار کا یہ پایہ تخت بھی رہا ہے، آج بھی میرقاسم کے قلعہ کی فصیل موجود ہے جو میرقاسم کی شجاعت و دلیری کی کہانی سناتی ہے۔ یہ بہت ہی قدیم ضلع ہے اس ضلع سے جموئی، سہرسہ، لکھی سرائے ،بیگوسرائے، کھگڑیا جیسے اضلاع قائم ہوئے ہیں۔ یہ شہر اس لیے بھی تاریخی حیثیت کا حامل ہے کہ یہاں معروف دینی ادارہ جامعہ رحمانی اور معروف خانقاہ خانقاہ رحمانی بھی ہے، جہاں لاکھوں اور کروڑوں بھٹکے ہوئے افراد ہدایت پاتے ہیں۔ اس خانقاہ کے اولین سجادہ نشیں قطب عالم حضرت مولانا محمد علی مونگیری ؒ جنہوں نے مونگیر اور اس کے اطراف میں قادیانیت کا قلع قمع کیا تھا اور قادیانیت کی حقیقت کی نقاب کشائی کی تھی۔ اسی خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں امیر شریعت مولانا سید منت اللہ رحمانی ؒ نے اس خانقاہ سے ایسے کا رہائے نمایاں انجام دیے ہیں جس کی مثال ملنی مشکل ہے ایک طرف جہاں وہ رشد وہدایت کی راہ دکھا رہے تھے وہیں ایوان سیاست میں بھی اہل سیاست کو’ سیاست‘کے مفہوم پڑھانے میں پیش پیش رہے تھے، ان کے کئی عظیم کارنامے ہیں جو آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں، ان کے ہی ایماء پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ جیسی فعال تنظیم وجود میں آئی تھی۔ نسبندی اور ایمرجنسی کے دنوں میں وہ ایک جانباز کی طرح حکومت وقت کے آگے ڈٹ گئے تھے اور اس کی شدید مخالفت کی تھی۔ یونیفارم سول کوڈ کے ہنگامہ رستہ خیز میں ان کی ہمت اور جوش کی داد دینی چاہیے کہ انہوں نے بلاخوف و خطر شرعی موقف کے بارے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ فی الوقت اسی خانقاہ کے سجادہ نشیں مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی جو فی الوقت امارت شرعیہ کے امیر شریعت ہیں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکریٹری بھی ہیں موروثی جوش و خروش اور ہمت کے ساتھ میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ مولانا محمد ولی رحمانی نے قوم میں عصری تعلیم و تربیت کی ایک نئی کرن’رحمانی 30‘ کے نام سے قائم کی ہے، جہاں غریب مسلم طالب علموں کو مفت میں کوچنگ اور دیگر سہولیات کے سا تھ اعلیٰ امتحانات میں شریک ہونے کا زریں موقع پیش کرر ہے ہیں۔ علاوہ ازیں جامعہ رحمانی خود ایک مثالی ادارہ ہے جو مذہبی تعلیم و تربیت میں ایک ممتاز حیثیت کا حامل ہے، جہاں ہر سال طلبہ کی ایک معتدبہ تعداد فارغ ہو کر قوم کی خدمت میں مصروف ہے۔

[5]

مولانا رحمانی صاحب کے فرزند محمد ولی رحمانی جامعہ رحمانی کے سرپرست و خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں، رحمانی 30 اور رحمانی فاؤنڈیشن کے بانی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے موجودہ جنرل سکریٹری ہیں۔[6][7] علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ، محمد اظہر نے مولانا سید منت اللہ رحمانی: زندگی اور دینی عملی و فکری خدمات کا تجزیاتی مطالعہ (Maulana Minnatullah Rahmani: analytical study of his life and religio-intellectual contributions) کے عنوان سے اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ تحریر کیا۔[8] شاہ عمران حسن نے ان کی سیرت لکھی حیات رحمانی: مولانا منت اللہ رحمانی کی زندگی کا علمی و تاریخی مطالعہ (English: The Life of Rahmani: A Study of Maulana Minatullah Rahmani’s Scholarly and Historical Legacy) اس کتاب پر پروفیسر اختر الواسع نے مقدمہ تحریر کیا ہے۔ [9]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج نور عالم خلیل امینی. "Mawlāna Jalīl-ul-Qadar Aalim-o-Qā'id Amīr-e-Shariat: Hadhrat Mawlāna Sayyid Minatullah Rahmani - Chand Yaadein" [The Great Scholar and Leader, Amīr-e-Shariat: Hadhrat Mawlāna Sayyid Minatullah Rahmani - Few Memories]. Pas-e-Marg-e-Zindah (بزبان Urdu) (ایڈیشن 5th, February 2017). دیوبند: Idara Ilm-o-Adab. صفحہ 214-238. 
  2. Sayyid Muhammad al-Hasani. Sirat Hadhrat Mawlāna Sayyid Muhammad Ali Mungeri: Baani Nadwatul Ulama [Biography of Mawlāna Sayyid Muhammad Ali Mungeri: The Founder of Nadwatul Ulama] (بزبان Urdu) (ایڈیشن 4th, May 2016). لکھنؤ: Majlis Sahafat-o-Nashriyat, دار العلوم ندوۃ العلماء. The relation has been discussed on page 334 
  3. ^ ا ب پ Rizwi، Syed Mehboob. "Maulana Sayyid Minat Allah Rahmani". Tarikh Darul Uloom Deoband [History of the Dar al-Ulum Deoband]. 2. ترجمہ بذریعہ Murtaz Husain F Quraishi (ایڈیشن 1981). دیوبند: دار العلوم دیوبند. صفحات 121–123. 
  4. "Munger's Jamia Rahmani holds its biennial contests for students". ٹو سرکلز. 2 April 2008. اخذ شدہ بتاریخ 27 اگست 2020. 
  5. https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D9%88%D9%86%DA%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%B6%D9%84%D8%B9
  6. "Officials of the AIMPLB". aimplboard.in. آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ. اخذ شدہ بتاریخ 27 اگست 2020. 
  7. "Rahmani Mission President". www.rahmanimission.info. اخذ شدہ بتاریخ 27 اگست 2020. 
  8. Azhar، Mohd (2005). Maulana Minnatullah Rahmani: analytical study of his life and religio-intellectual contributions (PhD). Aligarh Muslim University. 
  9. Mushtaq Ul Haq Ahmad Sikander (30 Jan 2013). "Book on Maulana Minnatullah Rahmani". The Milli Gazette. اخذ شدہ بتاریخ 27 اگست 2020. 

فہرست حوالہ