مندرجات کا رخ کریں

امارت شرعیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ و جھارکھنڈ
Imarat Shariah Bihar, Odisha and Jharkhand
بانیانابو المحاسن محمد سجاد
قانونی حیثیتمذہبی تنظیم
مقصداحیاء دین، اقامت شریعت اور خلافت کے طرز پر نظام قضاء کا قیام۔
صدر دفاترپھلواری شریف، پٹنہ
مقام
رکنیتلاکھوں کروڑوں
باضابطہ زبان
اردو اور انگریزی
سیکرٹری جنرل
امارت شرعیہ
امیر شریعت
احمد ولی فیصل رحمانی
ویب گاہ

امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ (سابق نام: امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ) ایک بھارتی اسلامی مکتب فکر علما کرام کی متحرک و فعال تنظیم ہے۔ ابو المحاسن محمد سجاد کی تحریک پر 26 جون 1921ء ( مطابق 19 شوال 1339ھ) کو امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ کا قیام عمل میں آیا اور اس وقت سے آج تک ایک صدی سے زائد عرصے میں آٹھ امرائے شریعت اور سات نائبین منتخب ہوتے چلے آئے ہیں۔

تاریخ اور پس منظر

[ترمیم]

قیامِ امارت

[ترمیم]

جب ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کا چراغ بجھنے لگا اور انگریز نصاریٰ نے ہندوستان میں قدم جمانا شروع کیے، اسلام اور مسلمانوں کو ایذاء پہنچانا شروع کیا، اسلامی شعائر پر حملے ہونے لگے،[1] تب 1824ء میں شاہ عبد العزیز دہلوی نے ہندوستان کے دار الحرب ہونے اور قیام امارت و نصب امیر کا فتویٰ دیا۔[2][3] چنانچہ سب سے پہلے سید احمد شہید امیر منتخب ہوئے، علما کی بڑی جماعت نے بیعتِ امیر کی، عشر زکوٰۃ اور صدقات واجبہ کے لیے عمال کا تقرر عمل میں آیا، بہت خوبصورت نظام قائم ہو گیا، اختلاف و افتراق کا خاتمہ ہوا اور 1831ء میں بالاکوٹ کے میدان میں سید احمد شہید کے جام شہادت نوش کرنے کے بعد[4] ولایت علی صادق پوری (بہاری) امیر منتخب ہوئے، جب یہ رفیق اعلی سے جا ملے، تو عنایت علی صادق پوری امیر بنائے گئے، اسی طرح یہ سلسلہ عرصۂ دراز تک چلتا رہا۔[5]

1857ء کا انقلاب

[ترمیم]

1857ء میں جب انقلاب آیا اور مسلمانوں نے انگریزوں کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے، اس وقت اربابِ حل و عقد اور علما و مشائخ نے امداد اللہ مہاجر مکی کو امیر منتخب کیا۔ 1857ء کی جنگ لڑی گئی؛[6] لیکن مسلمان ناکام ہوئے، مغلیہ سلطنت کا چراغ گل ہو گیا، اسلامی نظام و قضاء کا خاتمہ کر دیا گیا، مسلمانوں میں عجیب قسم کی بے چینی پیدا ہونے لگی، تب مسلمانوں کو اس بھنور سے نکالنے کے لیے محمود حسن دیوبندی میدان عمل میں آئے، علما و مشائخ نے ان کے ہاتھ پر جہادِ حریت کی بیعت کی، انھوں نے تحریک ریشمی رومال چلائی؛ لیکن آخر آخر میں اس تحریک کا راز فاش ہو گیا اور 1917ء کو دیوبندی کو مالٹا کی جیل میں قید کر دیا گیا۔[7]

ابو المحاسن محمد سجاد میدانِ عمل میں

[ترمیم]

ابو المحاسن محمد سجاد نے جب حالات پر نظر ڈالی اور علما و مفکرین کو کسی پلیٹ فارم پر متحد نہیں دیکھا، تو انھوں نے انجمن علما بہار قائم کی،[8] جو جمعیت علمائے ہند کے قیام کا سبب بنی، پھر خلافت کمیٹی کو قائم کرنے کے محرک بھی ابو المحاسن بنے، انھی کی کوششوں کا ثمرہ امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ و جھارکھنڈ کی صورت میں ظاہر ہوا۔[9]

امارت شرعیہ فی الہند کی کوشش

[ترمیم]

محمود حسن دیوبندی کی زیر صدارت 1920ء کو دہلی میں جمعیۃ علماء ہند کا دوسرا سالانہ اجلاس ہوا، علما و مشائخ کی ایک بڑی جماعت ہر صوبے سے شریک ہوئی۔[10] اس موقع سے ابو المحاسن محمد سجاد نے امارت فی الہند کا مسئلہ پیش کیا، محمود حسن دیوبندی نے اس تجویز کی بھر پور حمایت کی؛ اس اجلاس میں ان کی علالت اور چند وجوہات سے مسئلہ امارت فی الہند ملتوی ہو گیا اور امیر الہند کا انتخاب نہ ہو سکا۔[11] [12][13]

صوبائی امارت

[ترمیم]

جمعیۃ علماء ہند نے ابو الکلام آزاد کی زیر صدارت 1920ء میں بہ مقام لاہور امارت شرعیہ فی الہند کی تجویز منظور کی؛ [8] لیکن اس مجلس میں کوئی حتمی فیصلہ نہ ہو سکا، پھر آئندہ اجلاس میں بعض حضرات علما اکابر و ارکان (مثلاً حکیم اجمل خان، ظہور احمد سکریٹری آل انڈیا مسلم لیگ وغیرہ) کی موجودگی میں ان کے باہمی مشورہ سے صرف مسودہ مرتب ہو سکا اور جمعیۃ کے اجلاس اجمیر میں یہ طے ہوا کہ قیام امارت شرعیہ ہند میں کئی وجہوں سے رکاوٹ آرہی ہے۔ فی الوقت صوبہ وار امارت شرعیہ قائم کی جائے، جمیعت علمائے ہند نے یہ تجویز پاس کرکے ہدایت کردی کہ جلد از جلد صوبہ وار امارت شرعیہ قائم کریں۔[14]

امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ کا قیام

[ترمیم]

ابو المحاسن محمد سجاد نے امارت شرعیہ کا خاکہ تیار کیا، اکابر علما، خانقاہ کے سجادہ نشینوں، دانشوروں اور ابو الکلام آزاد سے نجی ملاقات کرکے قیام امارت شرعیہ کے لیے راہ ہموار کی، معاملہ آزاد کی رانچی نظر بندی کی وجہ سے ٹلتا رہا، 1920ء میں یہ نظر بندی ختم ہوئی، تو انھوں نے 19 شوال 1339ھ مطابق 26 جون 1921ء کو محلہ پتھر کی مسجد پٹنہ میں اس سلسلے کی میٹنگ بلائی، آزاد کے زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں مختلف مکاتب فکر کے کم و بیش پانچ سو علما و دانشوران اکٹھے ہوئے اور جون 1921ء (مطابق 19 شوال 1339ھ) کو امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ (موجودہ: امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ) کا قیام عمل میں آیا۔ [15]

دفتر کا قیام

[ترمیم]

9 ذی قعدہ 1339ھ کو خانقاہ مجیبیہ، پھلواری شریف میں امارت شرعیہ کا دفتر قائم کیا گیا۔ عثمان غنی نے امارت کے تنظیمی ڈھانچے کو قائم کرنے اور اس کے انتظامی و دینی کاموں کو منظم کرنے میں حصہ لیا۔ [16]

امرائے شریعت

[ترمیم]

بدر الدین قادری امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ کے پہلے امیر شریعت منتخب ہوئے، ان کا عہد امارت 1339ھ سے 1343ھجری تک ہے۔[17] ان کے بعد محی الدین قادری نے 1343ھجری سے 1366ھ تک امیر شریعت ثانی کے طور پر خدمات انجام دیں۔ تیسرے امیر شریعت بنے قمر الدین قادری، یہ دس سال 1366ھ سے 1376ھ تک اس عہدے پر فائز رہے، ان کے انتقال کے بعد منت اللہ رحمانی امیر شریعت رابع کے طور پر منتخب ہوئے، ان کا عہد امارت 1376ھ سے 1411ھ تک ہے، ان کی وفات ہوئی تو ارباب حل و عقد نے عبد الرحمن دربھنگوی کو پانچواں امیر شریعت بنایا، یہ 1991ء سے 1998ء تک اس عہدے سے وابستہ رہے، [18] ان کے بعد سید نظام الدین قاسمی گیاوی اس عہدۂ جلیلہ پر متمکن ہوئے اور طویل عرصے تک خدمات انجام دیں، ان کے بعد ولی رحمانی کا انتخاب ساتویں امیر شریعت کے طور پر ہوا، ان کے انتقال پر ملال کے بعد احمد ولی فیصل رحمانی موجودہ امیر شریعت ثامن منتخب ہوئے ہیں، جو ولی رحمانی کے بڑے لڑکے ہیں۔ [19]

امرائے شریعت کی فہرست

[ترمیم]
شمار نمبر نام
(ولادت -
وفات)
مدتِ امارت
1 شاہ بدر الدین قادری
(1851–1924)
1921 1924
2 شاہ محی الدین قادری
(1889–1947ء)
1924 1947
3 شاہ قمر الدین قادری
(1895–1957
1947 1957
4 منت اللہ رحمانی
(1913–1991)
1957 1991
5 عبد الرحمن دربھنگوی
(1903–1998ء)
1991 1998
6 سید نظام الدین قاسمی گیاوی
(1927-2015ء
1998 2015ء
7 ولی رحمانی
(1943–2021ء)
2015 2021
8 احمد ولی فیصل رحمانی
2021 تا حال

سرگرمیاں اور تعلیمی اقدامات

[ترمیم]

امارتِ شرعیہ نے اپنی مذہبی اور ثالثی خدمات کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم کے فروغ پر بھی خاص توجہ دی ہے۔ 2015ء میں ولی رحمانی کی صدارت میں منعقدہ ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ بہار، اڑیسہ اور جھارکھنڈ میں سی بی ایس ای (CBSE) نصاب کے تحت ثانوی اور اعلیٰ ثانوی اسکول، فنی و پیشہ ورانہ تربیتی ادارے اور ایک میڈیکل کالج قائم کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں رانچی میں ایک رہائشی سی بی ایس ای اسکول، آئی ٹی آئی (Industrial Training Institute) کی سطح پر فنی تعلیم اور گریڈیہ میں ووکیشنل تربیت کے کورسز شروع کیے گئے۔[20]

مستقبل میں مزید وسعت کے لیے سمستی پور (چھوٹی بریار پور)، جہان آباد اور دھنباد میں بھی اسکول قائم کرنے کا ارادہ کیا گیا۔ ان منصوبوں کی فزیبلٹی (عملی امکان) کا جائزہ لینے کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اسی طرح ارریہ میں ایک میڈیکل کالج کے قیام کی بھی تجویز دی گئی، جو زمین کی دستیابی پر منحصر تھی۔[20]

2017ء میں امارتِ شرعیہ نے بہار اور جھارکھنڈ میں سی بی ایس ای سے منظور شدہ اسکولوں کے قیام کا اعلان کیا۔ ان اسکولوں کا مقصد معیاری تعلیم فراہم کرنا اور طلبہ کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق روزگار کے مواقع کے لیے تیار کرنا تھا۔ پہلے مرحلے میں رانچی، گریڈیہ اور پورنیہ میں اسکول قائم کیے گئے، جبکہ مستقبل میں دیگر شہروں میں بھی مزید ادارے کھولنے کا منصوبہ ہے۔[21]

روایتی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ امارتِ شرعیہ فنی تعلیم کے فروغ کے لیے پولی ٹیکنک ادارے، پیرا میڈیکل انسٹی ٹیوٹس اور کمپیوٹر ٹریننگ سینٹرز بھی چلاتی ہے۔ ان اداروں کا مقصد طلبہ کو تکنیکی اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ روایتی تعلیم کے ساتھ عملی زندگی میں بھی کامیاب کیریئر بنا سکیں۔[20][21]

زیر انتظام ادارے و شعبہ جات

[ترمیم]
  • المعہد العالی للتدریب فی الافتاء و القضاء
  • دار العلوم الاسلامیہ ( پٹنہ)
  • دار القضاء( امارت شرعیہ)
  • وفاق المدارس الاسلامیہ ( امارت شرعیہ بہار و اڈیشہ و جھارکھنڈ)
  • شعبہ افتاء
  • شعبۂ تبلیغ
  • شعبۂ تنظیم
  • شعبہ تعلیم مذہبی و عصری
  • شعبۂ تحفظ مسلمین
  • شعبۂ بیت المال
  • دینی مکاتب
  • مولانا منت اللہ رحمانی ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ
  • امارت انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر اینڈ الیکٹرونکس
  • پارہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ
  • امارت مجیبیہ ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ دربھنگہ
  • امارت ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ پورنیہ
  • ریاض آئی ٹی آئی ساٹھی چمپارن
  • امارت عمر ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ بسرا راور کیلا

حوالہ جات

[ترمیم]

مآخذ

[ترمیم]
  1. مجاہد الاسلام قاسمی (1988ء)۔ اسلامی عدالت (اسلام کے عدالتی قوانین کا مجموعہ)۔ پٹنہ: مکتبہ امارت شرعیہ۔ ص 45
  2. سندیلوی 1988, p. 11
  3. عبد الصمد رحمانی۔ ہندوستان اور مسئلہ امارت (2005ء ایڈیشن)۔ پٹنہ: مکتبہ امارت شرعیہ پھلواری شریف۔ ص 16
  4. محمد میاں دیوبندی۔ علماء ہند کا شاندار ماضی (جلد چہارم) (1960 ایڈیشن)۔ دہلی: ایم برادرس۔ ص 150
  5. محمد میاں دیوبندی۔ علماء ہند کا شاندار ماضی (جلد سوم) (2005ء ایڈیشن)۔ لاہور: اشتیاق اے اشتیاق پرنٹنگ سنٹر۔ ص 599
  6. دیوبندی 2005, p. 832
  7. دیوبندی 2005, p. 843
  8. ^ ا ب سندیلوی 1988, p. 72
  9. نیر اسلام قاسمی۔ تاریخ علمائے امارت شرعیہ (جلد اول) (2017ء ایڈیشن)۔ پٹنہ: مکتبہ امارت شرعیہ۔ ص 37
  10. سندیلوی 1988, p. 6
  11. رحمانی 1948, p. 58
  12. ظفیر الدین مفتاحی (1974)۔ "پہلے امیر"۔ امارت شرعیہ دینی جد و جہد کا روشن باب۔ پٹنہ۔ ص 48 {{حوالہ کتاب}}: نامعلوم پیرامیٹر |publishe= رد کیا گیا (معاونت)اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: مقام بدون ناشر (link)
  13. رحمانی 1948, p. 53
  14. رحمانی 1948, p. 55
  15. مفتی ثناء الہدی قاسمی (22 جولائی 2021ء)۔ "امیر شریعت اول: بدرالکاملین حضرت مولانا سید شاہ بدرالدین قادری"۔ khabar olny۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-06-22
  16. محمد منہاج عالم ندوی (9 دسمبر 2022ء)۔ "حضرت مولانا مفتی محمد عثمان غنی ؒ : ایک عہد ساز شخصیت"۔ ملت ٹائمز۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-06-17
  17. مفتاحی 1431, p. 7
  18. ظفیر الدین مفتاحی۔ امارت شرعیہ تعارف،خدمات اور سرگرمیاں (1431ھ ایڈیشن)۔ پٹنہ: مکتبہ امارت شرعیہ۔ ص 7/14
  19. محمد ثناء الہدیٰ قاسمی۔ ہفتہ وار نقیب امارت شرعیہ پھلواری شریف (1444ھ ایڈیشن)۔ پٹنہ: امارت شرعیہ۔ ص 16۔ 2023-06-23 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-06-23
  20. ^ ا ب پ NA Ansari (11 فروری 2016)۔ "Imarat-e Shariah to set up school, vocational institutions and medical college"۔ ملی گزٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-03-25
  21. ^ ا ب Arun Kumar (23 اکتوبر 2017)۔ "In a first, Imarat Shariah to open three CBSE schools in Bihar and Jharkhand"۔ Hindustan Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-03-25

کتابیات

[ترمیم]

مزید دیکھیے

[ترمیم]