سید احمد بریلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(سید احمد شہید سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سید احمد بریلوی
سید احمد بریلوی
Sayed copy.jpg
پیدائش 29 نومبر 1786ء 6 صفر بمطابق 1201ھ [1]دائرہ شاہ علم اللہ رائے بریلی
وفات 6 مئی 1831ء بمطابق 24 ذیقعدہ 1246ھ [2]بالاکوٹ ضلع مانسہرہ
عہد تیرھویں صدی ہجری، اٹھارویں صدی عیسوی
مکتب فکر ولی اللہی
شعبہ عمل
جہاد، تصوف، دعوت و تبلیغ
اہم نظریات
بذریعہ جہاد نفاذ اسلام


Basmala.svg
مضامین بسلسلہ
تحریک اصلاح و جہاد (انیسویں صدی میں)
[[ملف:]]
'
کلیدی شخصیات

سید احمد بریلوی

متاثر شخصیات

شاہ اسحاق محدث دہلوی
شاہ یعقوب محدث دہلوی
شاہ اسماعیل دہلوی
عبد الحی بڈھانوی
ولایت علی عظیم آبادی
کرامت علی جونپوری
سخاوت علی جونپوری
حبیب اللہ قندھاری
محمد علی رامپوری
مفتی الہی بخش کاندھلوی
خرم علی بلہوری
نصیر الدین دہلوی
جعفر علی نقوی بستوی
عبد اللہ غزنوی
محمد ظاہر حسنی رائے بریلوی
اخوند سید محمد امیر
اخوند عبد الغفور
امام الدین بنگالی
یحیی علی عظیم آبادی
عبد اللہ عظیم آبادی
خواجہ احمد نصیر آبادی
محمد امین نصیر آبادی
غلام رسول قلعوی
حاجی عبد الرحیم ولایتی
نور محمد جھنجھانوی
رشید احمد گنگوہی
محمود حسن دیوبندی
محمد قاسم نانوتوی
حسین احمد مدنی
عبد الرحیم رائے پوری
محمد الیاس کاندھلوی
محمد زکریا کاندھلوی
عبد القادر رائے پوری
ابو الحسن علی ندوی
محمد تقی عثمانی
نفیس الحسینی

تعلیمی ادارے

دار العلوم دیوبند
مظاہر علوم، دار العلوم ندوۃ العلماء، دار العلوم کراچی
جامعۃ العلوم الاسلامیہ

کتابیں

صراط مستقیم
تقویۃ الایمان
منصب امامت
عبقات

تنظیمیں و تحریکیں

تحریک مجاہدین، تبلیغی جماعت
جمیعت علمائے ہند


سید احمد بریلوی (6 صفر 1201ھ/29 نومبر 1786ء - 24 ذیقعدہ 1246ھ/6 مئی 1831ء) کی پیدائش بھارت کے صوبہ اترپردیش کے ضلع رائے بریلی کے ایک قصبہ دائرہ شاہ علم اللہ میں ہوئی۔ بچپن ہی سے گھڑ سواری، مردانہ و سپاہیانہ کھیلوں اور ورزشوں سے خاصا شغف تھا۔ والد کے انتقال کے بعد تلاشِ معاش کے سلسلے میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ لکھنؤ اور وہاں سے دہلی روانہ ہوئے، جہاں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور شاہ عبد القادر دہلوی سے ملاقات ہوئی، ان دونوں حضرات کی صحبت میں سلوک و ارشاد کی منزلیں طے کی۔ خیالات میں انقلاب آگیا۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی تحریک اور انکے تجدیدی کام کو لے کر میدانِ عمل میں آگئے۔
یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی طاقت فنا ہو رہی تھی، مشرکانہ رسوم و بدعات اسلامی معاشرہ میں زور پکڑ رہے تھے، سارے پنجاب پر سکھ اور بقیہ ہندوستان پر انگریز قابض ہو چکے تھے۔ سید احمد شہید نے اسلام کے پرچم تلے فرزندانِ توحید کو جمع کرنا شروع کیا اور جہاد کی صدا بلند کی، جس کی بازگشت ہمالیہ کی چوٹیوں اور نیپال کی ترائیوں سے لیکر خلیج بنگال کے کناروں تک سنائی دی جانے لگی، اور نتیجتاً تحریک مجاہدین وجود میں آئی جس کی مثال آخری صدیوں میں نہیں ملتی۔ بعض سیاسی تقاضوں اور فوجی مصالح کی بنا پر سید صاحب نے اپنی مہم کا آغاز ہندوستان کی شمال مغربی سرحد سے کیا۔ سکھوں سے جنگ کر کے مفتوحہ علاقوں میں اسلامی قوانین نافذ کیے۔ لیکن بالآخر 1831ء میں رنجیت سنگھ کی کوششوں کے نتیجے میں بعض مقامی پٹھانوں نے بے وفائی کی اور بالاکوٹ کے میدان میں سید صاحب اور انکے بعض رفقاء نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔

ولادت[ترمیم]

بھارت کے صوبہ اترپردیش کے ضلع رائے بریلی کے ایک قصبہ دائرہ شاہ علم اللہ میں 6 صفر 1201ھ/29 نومبر 1786ء کو آپ کی ولادت ہوئی۔
[1]

سلسلہ نسب[ترمیم]

سید احمد بن سید محمد عرفان بن سید محمد نور بن سید محمد ہدیٰ بن سید علم اللہ بن سید محمد فضیل۔
کئی واسطوں سے آپ کا نسب حسن مثنّیٰ بن امام حسن بن علی ابن ابی طالب تک پہنچتا ہے۔ حسن مثنّیٰ کی شادی اپنے چچا امام حسین کی صاحبزادی فاطمہ صغریٰ سے ہوئی تھی، اس لحاظ سے سید صاحب کا خاندان حسنی حسینی کہلاتا ہے۔ [3]

بچپن[ترمیم]

آپ کو بچپن ہی سے مردانہ اور سپاہیانہ کھیلوں کا شوق تھا۔ خدمت خلق، ضعیفوں، معذورین اور بیواؤں کی خدمت کرنے کا جذبہ اور عبادت اور ذکر الہی کا ذوق بہت بڑھا ہوا تھا۔

تعلیم[ترمیم]

چار سال کی عمر میں آپ کی تعلیم شروع کی گئی، لیکن خاندان کے دیگر ہم عمر لڑکوں کے بر خلاف تین سال گذرنے کے بعد بھی سید صاحب کی طبیعت کا میلان تعلیم کی طرف نہیں ہو سکا، باوجود استاد کی کوششوں کے قرآن مجید کی چند سورتیں ہی یاد اور مفرد و مرکب الفاظ لکھنا سیکھ سکے۔

سفر لکھنؤ[ترمیم]

بارہ سال کی عمر میں والد ماجد مولانا محمد عرفان صاحب کا وصال ہوگیا۔ چنانچہ حالات کے پیش نظر سولہ سترہ برس کی عمر میں تحصیل معاش کے خاطر اپنے سات عزیزیوں کے ساتھ لکھنؤ کے سفر پر روانہ ہوئے۔ رائے بریلی سے لکھنؤ کی مسافت کافی زیادہ ہے، سواری صرف ایک تھی جس پر باری باری سوار ہوتے تھے مگر سید صاحب اپنی باری کے وقت باصرار کسی اور کو سوار کردیتے۔ اسی خدمت اور محنت سے لکھنؤ پہونچے۔ وہاں پہونچ کر سب ساتھی تلاش معاش میں مشغول ہوگئے۔ سید صاحب نے ایک امیر کے گھر قیام کیا۔ اس وقت نواب سعادت علی خان کا عہد حکومت تھا۔ بے روزگاری عام تھی۔ سید صاحب کا کھانا اسی امیر کے گھر سے آتا لین آپ اسے اپنے ساتھیوں کو عنایت فرمادیتے۔

سفر دہلی[ترمیم]

چار ماہ بعد سید صاحب نے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی خدمت میں حاضری کا ارادہ کیا۔ اسی غرض سے اپنے ساتھیوں کو تیار کرتے رہے، پھر خود تن تنہا دہلی روانہ ہوگئے۔

شاہ عبد العزیز کی خدمت میں[ترمیم]

پورا سفر پیادہ پا طے کیا اور کئی روز بعد دہلی پہونچے۔ وہاں شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے سید صاحب کے خاندان دیرینہ مراسم تھے۔ لہذا ملاقات پر بہت خوش ہوئے اور اپنے بھائی شاہ عبد القادر دہلوی کے پاس ٹھرایا۔

تصانیف[ترمیم]

سید صاحب کی مندرجہ ذیل تصانیف کا علم ہو چکا ہے:

  1. حقیقت الصلاۃ :یہ در اصل سید صاحب کی نماز کے اسرار اور سورہ فاتحہ کی تفسیر پر مشتمل دو تقریروں کا مجموعہ ہے۔ یہ رسالہ حقیقت الصلاۃ کے نام سے 1237ھ میں شائع ہوا ، پھر مطبع اسرار کریمی ، الہ آباد سے 1949ء میں بعنوان: "انوار الصلاۃ" شائع ہوا۔ [4] یہ در اصل سنہ 1235ھ میں لکھنؤ کے چند جید علماء کے سامنے کی گئی تقریر ہے۔
  2. رسالۂ اشغال: یہ رسالہ سید صاحب نے شہادت سے چار سال پیشتر ہفتم ذی الحجہ 1242ھ کو بمقام تختہ بند (علاقہ سرحد) میں طالبین سلوک کے لیے اذکار و مراقبات اور شجراتِ سلاسل کا یہ مجموعہ مرتب کیا تھا۔سید صاحب کے مجموعۂ ملفوظات صراط مستقیم میں جو اذکار و مراقبات مذکور ہیں، وہی اذکار ومراقبات اس رسالہ میں مختصر مگر جامع انداز میں دیے گئے ہیں۔ البتہ ایک جزوی خصوصیت اس رسالہ کی یہ ہے کہ اس میں سید صاحب نے سلاسل طریقت کے شجرات بھی شامل فرما دیے ہیں۔ اس رسالہ کا اردو ترجمہ سید نفیس الحسینی نے کیا اور پہلی بار سید احمد شہید اکیڈمی- لاہور سے ذیقعدہ 1398ھ مطابق اکتوبر 1978ء میں شائع ہوا۔
  1. مکاتیب سید احمد شہید: یہ سید صاحب کے مکتوبات کے ایک خطی نسخے کا عکسی ایڈیشن ہے جو پہلی بار ذیقعدہ 1395ھ مطابق نومبر 1975ء میں مکتبہ رشیدیہ لمیٹیڈ -لاہور سے شائع ہوا۔ سید صاحب کی تحریک کو سمجھنے کے لیے اس مجموعہ کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔
  2. تنبیہ الغافلین: یہ رسالہ فارسی میں تھا، پہلے کلکتہ پھر لاہور میں شائع ہوا، اس کا اردو ترجمہ بھی شائع ہو چکا ہے۔[5] محمد عبد الحلیم چشتی کی تحقیق کے مطابق اس رسالہ کی نسبت سید صاحب کی طرف محتاج تحقیق ہے۔[6]
  3. رسالہ در نکاح بیوگاں: یہ رسالہ فارسی میں ہے، اور ابھی تک غیر مطبوعہ ہے۔ [7] محمد عبد الحلیم چشتی کی تحقیق کے مطابق اس رسالہ کی نسبت سید صاحب کی طرف صحیح نہیں۔[8]
  4. رسالہ در نماز و عبادات: اس کا قلمی نسخہ کتب خانہ ٹونک کے ایک مجموعہ میں ہے، ابھی تک غیر مطبوعہ ہے۔[9]
  5. صراط مستقیم: یہ در اصل سید صاحب کے ملفوظات کا مجموعہ ہے جو شاہ محمد اسماعیل دہلوی نے مرتب کیا ہے، ابتدائی دو باب عبد الحی بڈھانوی کے مرتب کردہ ہیں۔ سید صاحب پیش نظر مدعا بیان فرماتے، اسے سن کر شاہ اسماعیل دہلوی یا عبد الحی بڈھانوی لکھ کر لے آتے، اگر ان کی عبارت اظہار مدعا کے لیے کفایت نہ کرتی تو فرماتے کہ پھر لکھیے، بعض مطالب کو پانچ پانچ مرتبہ لکھوایا۔ [10] یہ 1233ھ مطابق کی تالیف ہے۔[11] سب سے پہلے 1238ھ مطابق 1822ء میں شیخ ہدایت اللہ کے مطبع سے کلکتہ میں شائع ہوئی۔[12]

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

سید احمد بریلوی کے رسائل و مکتوبات

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 مخزنِ احمدی از غلام رسول مہر ﴿ص ١۲﴾
  2. سیرت سید احمد شہید از ابو الحسن علی ندوی ﴿ج ۲﴾
  3. سیرت سید احمد شہید از ابو الحسن علی ندوی ﴿ج ١ص ١١۰﴾
  4. دیکھیے: سید احمد بریلوی: انوار الصلاۃ، مطبع اسرار کریمی، الہ آباد، 1949ء
  5. غلام رسول مہر: تحریک سید احمد شہید، جلد دوم، مکتبۃ الحق، ممبئی، 2008ء، صفحہ 626 ۔
  6. دیکھیے: محمد عبد الحلیم چشتی: سید احمد شہید کی اردو تصانیف اور اردو ادب پر ان کی تحریک کا اثر، الرحیم اکیڈمی، کراچی، 1986ء، صفحہ 40۔
  7. غلام رسول مہر: تحریک سید احمد شہید، جلد دوم، مکتبۃ الحق، ممبئی، 2008ء، صفحہ 627۔
  8. دیکھیے: محمد عبد الحلیم چشتی: سید احمد شہید کی اردو تصانیف اور اردو ادب پر ان کی تحریک کا اثر، الرحیم اکیڈمی، کراچی، 1986ء، صفحہ 40۔
  9. دیکھیے: محمد عبد الحلیم چشتی: سید احمد شہید کی اردو تصانیف اور اردو ادب پر ان کی تحریک کا اثر، الرحیم اکیڈمی، کراچی، 1986ء، صفحہ 41۔
  10. غلام رسول مہر: تحریک سید احمد شہید، جلد دوم، مکتبۃ الحق، ممبئی، 2008ء، صفحہ 626۔
  11. سیرت سید احمد شہید، جلد دوم، مؤلفہ سید ابو الحسن علی ندوی، مجلس تحقیقات و نشریات اسلام، لکھنؤ، 2011ء، صفحہ 589۔
  12. دیکھیے: محمد عبد الحلیم چشتی: سید احمد شہید کی اردو تصانیف اور اردو ادب پر ان کی تحریک کا اثر، الرحیم اکیڈمی، کراچی، 1986ء، صفحہ 40۔